logo logo
AI Search

کیا 27 رجب اور 15 شعبان کا روزہ بدعت ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

27 رجب اور 15 شعبان کا روزہ رکھنا بدعت ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا 27 رجب اور 15 شعبان کا روزہ رکھنا بدعت ہے اور ان روزوں کا ثواب نہیں ملتا؟

جواب

ستائیس رجب اور پندرہ شعبان کا روزہ رکھنا جائز اور دیگر نفلی روزوں کی طرح باعث اجر و ثواب ہے، ہرگز بدعت نہیں، بلکہ ان کی اصل احادیث طیبہ سے ثابت ہے لہذا ان کا اہتمام کرنا بہت اچھا ہے۔ چنانچہ ستائیس رجب کے روزے کو ایک حدیث پاک میں سو سال کے روزوں کی مثل فرمایا گیا، جبکہ ایک اور حدیث پاک میں اس پر ساٹھ ماہ کے روزوں کے ثواب کی بشارت دی گئی، اسی طرح پندرہ شعبان کا روزہ رکھنے کی تو خود حدیث پاک میں ترغیب دلائی گئی ہے۔ اگرچہ ان روایات کی سندوں پر کلام ہے، لیکن فضائل میں ایسی ضعیف احادیث معتبر ہیں۔ اگر یہ خصوصی فضیلت والی احادیث نہ بھی ہوتیں پھر بھی ان مہینوں کے روزوں کی فضیلت تو ثابت و مسلّم ہے اور اس کے تحت یہ ایام بھی داخل ہیں۔ نیز بالفرض یہ بھی نہ سہی مگر نفل روزہ رکھنا تو جائز بلکہ نیکی اور افضل عبادت ہے ۔ اس سب کے باوجود مذکورہ روزوں کی مذمت کرنا، انہیں بدعت کہنا، ان سے منع کرنا، ان کا ثواب نہ ملنے کی باتیں کرنا جہالت اور نادانی ہے۔

شعب الایمان، الفردوس، جمع الجوامع اور کنز العمال وغیرہ کی حدیث پاک میں ہے:

عن سلمان الفارسي قال قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: في رجب يوم وليلة من صام ذلك اليوم و قام تلك الليل كمن صام من الدهر مائة سنة و قام مائة سنة و هو ثلاث بقين من رجب

ترجمہ: حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: رجب میں ایک دن اور ایک رات ہے، جو اس دن روزہ رکھے اور اس رات قیام کرے، وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے سو برس کے روزے رکھے اور سو برس قیام کیا، اور وہ رجب کی ستائیس ہے۔ (شعب الإيمان، باب في الصيام، تخصيص شهر رجب بالذكر، جلد 5، صفحہ 345، حدیث 3530، مطبوعہ ریاض)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: بعض احادیث اُس (۲۷ رجب کے روزے) کی فضیلت میں مروی ہوئیں کہ فقیر نے اپنے فتاوی میں ذکر کیں، اُن سب میں بہتر حدیث موقوف ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے:

من صام يوم سبع و عشرين من رجب كتب اللہ تعالی له صيام ستين شهرا

(یعنی) جو ۲۷ رجب کا روزہ رکھے اللہ تعالیٰ اُس کے لیے ساٹھ ماہ کے روزوں کا ثواب لکھے۔ ایسی جگہ حدیث موقوف مرفوع ہے کہ تعیین مقدار اجر کی طرف رائے کو اصلاً راہ نہیں، اور حدیثِ ضعیف فضائل اعمال میں باجماع ائمہ مقبول ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 652، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

سنن ابن ماجہ، شعب الایمان، مشکوۃ المصابیح کی حدیث پاک میں ہے:

و اللفظ للاول عن علي بن أبي طالب، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: إذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها و صوموا نهارها

ترجمہ: حضرت علی المرتضی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جب شعبان کی پندرہویں رات ہو تو اس رات قیام کرو اور اس کے دن کا روزہ رکھو۔ (سنن ابن ماجه، باب ما جاء في ليلة النصف من شعبان، جلد 2، صفحہ 399، حدیث 1388، دار الرسالة العالمية)

علامہ شرف الدین حسین بن عبد اللہ طیبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 743ھ / 1342ء) لکھتے ہیں:

و قد اتفق العلماء على جواز العمل بالحديث الضعيف في فضائل الأعمال

ترجمہ: اور فضائلِ اعمال کے باب میں ضعیف حدیث کے اوپر عمل کے جائز ہونے پر علمائے کرام کا اتفاق ہے۔ (شرح المشكاة للطيبي، كتاب العلم، جلد 2، صفحہ 707، مطبوعه ریاض)

امام شہاب الدین احمد بن محمد ابن حجر ہیتمی شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 974ھ / 1567ء) لکھتے ہیں:

و قد تقرر أن الحديث الضعيف و المرسل و المنقطع و المعضل و الموقوف يعمل بها في فضائل الأعمال إجماعا و لا شك أن صوم رجب من فضائل الأعمال فيكتفى فيه بالأحاديث الضعيفة و نحوها و لا ينكر ذلك إلا جاهل مغرور

ترجمہ: اور یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ضعیف، مرسل، منقطع، معضل اور موقوف حدیث پر فضائلِ اعمال میں بالاجماع عمل کیا جا سکتا ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ماہِ رجب کا روزہ فضائلِ اعمال (کے باب) میں سے ہے، پس اس کے بارے میں ضعیف احادیث اور ان جیسی روایات پر اکتفا کیا جائے گا، اور اس کا انکار صرف کوئی جاہل اور فریب خوردہ (گمراہ) شخص ہی کرے گا۔ (الفتاوى الكبرى الفقهية، کتاب الصوم، جلد 2، صفحہ 54 - 55، المكتبة الإسلامية)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: بالجملہ اس (27 رجب کے روزے) کے لیے اصل ہے اور فضائلِ اعمال میں حدیثِ ضعیف باجماعِ ائمہ مقبول ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 649، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

صحیح مسلم، مسند احمد، مسند ابو یعلی، سنن الکبری للبیہقی وغیرہ میں ہے:

عثمان بن حكيم الأنصاري قال سألت سعيد بن جبير عن صوم رجب و نحن يومئذ في رجب فقال سمعت ابن عباس رضي اللہ عنهما يقول كان رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم يصوم حتى نقول لا يفطر و يفطر حتى نقول لا يصوم

ترجمہ: عثمان بن حکیم انصاری نے بیان کیا کہ میں نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رجب کے روزوں کے متعلق پوچھا اور ہم اس وقت رجب ہی کے مہینے میں تھے۔ انہوں نے فرمایا: میں نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو فرماتے سنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم (کبھی مسلسل نفلی) روزے رکھتے یہاں تک کہ ہم کہتے: افطار نہیں فرمائیں گے، اور افطار فرماتے (یعنی کبھی روزے چھوڑتے) یہاں تک کہ ہم کہتے: (اب مزید) روزے نہیں رکھیں گے۔ (صحيح مسلم، كتاب الصيام، باب صيام النبي في غير رمضان الخ، جلد 3، صفحہ 161 - 162، حدیث 1157، دار الطباعة العامرة، تركيا)

شعب الایمان، الترغیب و الترہیب، کنز العمال، ما ثبت من السنہ وغیرہ میں ہے:

عامر بن شبل قال سمعت أباقلابة يقول: في الجنة قصر لصوام رجب

ترجمہ: عامر بن شبل کہتے ہیں: میں نے حضرت ابو قلابہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رجب کے روزہ داروں کے لیے جنت میں محل ہے۔ (شعب الإيمان، باب في الصيام، تخصيص شهر رجب بالذكر، جلد 5، صفحہ 337، حدیث 3521، مطبوعہ ریاض)

امام جلال الدین عبد الرحمٰن سیوطی شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 911ھ / 1505ء) مذکورہ بالا حدیث پاک کے متعلق لکھتے ہیں:

و قال هذا أصح ما ورد في صوم رجب قال و أبو قلابة من التابعين و مثله لا يقول ذلك إلا عن بلاغ ممن فوقه عمن يأتيه الوحي

ترجمہ: امام بیہقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: رجب کے روزے کے بارے میں جو کچھ مروی ہے، ان میں یہ روایت سب سے زیادہ صحیح ہے، اور فرمایا کہ حضرت ابو قلابہ تابعین میں سے ہیں، اور ان جیسا شخص یہ بات اپنے سے اوپر والے کسی کے خبر دینے سے ہی کہہ سکتا ہے، جو وحی پانے والے (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے روایت کرے۔ (شرح السيوطي على مسلم، تحت الحدیث 1156، جلد 3، صفحہ 238، دار ابن عفان)

امام ابو زکریا محی الدین یحی بن شرف نووی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 676ھ / 1277ء) لکھتے ہیں:

و في سنن أبي داود أن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم ندب إلى الصوم من الأشهر الحرم و رجب أحدها

ترجمہ: سنن ابو داؤد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھنے کی ترغیب دی، اور رجب ان مہینوں میں سے ایک ہے۔ (المنهاج شرح صحيح مسلم، باب صيام النبي صلى الله عليه و سلم في غير رمضان، جلد 8، صفحہ 39، دار إحياء التراث العربي، بيروت)

امام شہاب الدین احمد بن محمد ابن حجر ہیتمی شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 974ھ / 1567ء) نقل کرتے ہیں:

يكفي في فضل صوم رجب ما ورد من الأحاديث الدالة على فضل مطلق الصوم و خصوصه في الأشهر الحرم أي كحديث أبي داود و ابن ماجه و غيرهما

ترجمہ: رجب کے روزے کی فضیلت کے بارے میں وہ وارد احادیث ہی کافی ہیں جو مطلق روزے کی فضیلت اور خصوصاً حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھنے کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں، یعنی جیسے ابو داؤد اور ابن ماجہ وغیرہما کی حدیث۔ (الفتاوى الكبرى الفقهية، کتاب الصوم، جلد 2، صفحہ 54، المكتبة الإسلامية)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ۲۷ کے علاوہ روزہ ہائے رجب میں احادیث کثیرہ وارد ہیں، جن میں بعض خود اور بعض بتعدد مرتبہ صالح رکھتی ہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 653، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

جامع ترمذی، سنن الکبری للبیہقی، شرح معانی الآثار، کنز العمال وغیرہ میں ہے:

و اللفظ للاول عن أنس قال: سئل النبي صلى اللہ عليه و سلم أي الصوم أفضل بعد رمضان؟ فقال: شعبان لتعظيم رمضان

ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے استفسار کیا گیا: رمضان کے بعد کون سا روزہ افضل ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: رمضان کی تعظیم کے لیے شعبان کا روزہ۔ (جامع ترمذی، أبواب الزكاة، باب ما جاء في فضل الصدقة، جلد 2، صفحہ 42 - 43، حدیث 663، دار الغرب الإسلامي، بيروت)

صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، شرح السنۃ، جمع الجوامع وغیرہ میں ہے:

و اللفظ للبخاري عن أبي سلمة: أن عائشة رضي اللہ عنها حدثته قالت: لم يكن النبي صلى اللہ عليه و سلم يصوم شهرا أكثر من شعبان

ترجمہ: حضرت ابو سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شعبان سے زیادہ کسی مہینے کے روزے نہ رکھتے تھے۔ (صحيح البخاري، كتاب الصوم، باب صوم شعبان، جلد 2، صفحہ 695 - 696، حدیث 1869، دار ابن كثير، دمشق)

علامہ احمد بن علی ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 852ھ / 1449ء) مذکورہ حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں:

و في الحديث دليل على فضل الصوم في شعبان

ترجمہ: اور اس حدیث میں شعبان کے روزے کی فضیلت کا ثبوت ہے۔ (فتح الباري بشرح البخاري، كتاب الصوم، باب صوم شعبان، جلد 4، صفحہ 215، مطبوعہ مصر)

صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، سنن نسائی، مسند احمد، مشکوۃ المصابیح وغیرہ کی حدیث پاک ہے:

و اللفظ للبخاري عن أبي سعيد رضي اللہ عنه قال: سمعت النبي صلى اللہ عليه و سلم يقول: من صام يوما في سبيل اللہ، بعد اللہ وجهه عن النار سبعين خريف

ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو فرماتے سنا: جو شخص اللہ پاک کی راہ میں ایک دن روزہ رکھے، اللہ تعالیٰ اسے آگ سے ستر خزاں (ستر سال کی راہ) دور رکھے گا۔ (صحيح البخاري، كتاب الجهاد و السير، باب فضل الصوم في سبيل الله، جلد 3، صفحہ 1044، حدیث 2685، دار ابن كثير، دمشق)

علامہ ابو الحسن علی بن خلف ابن بطال رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 449ھ / 1057ء) اس حدیث پاک کے تحت نقل کرتے ہیں:

هذا الحديث يدل أن الصيام فى سائر أعمال البر أفضل إلا أن يخشى الصائم ضعفا

ترجمہ: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ روزہ تمام نیک اعمال میں سب سے افضل ہے، سوائے یہ کہ روزہ دار کو ضعف (طاقت کھو بیٹھنے) کا خوف ہو۔ (شرح صحيح البخاري، كتاب الجهاد و السير، باب فضل الصوم في سبيل الله، جلد 5، صفحہ 48، مطبوعہ ریاض)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ / 1971ء) لکھتے ہیں: (مذکورہ حدیث میں) روزے سے نفلی روزہ مراد ہے، اسی لیے صاحب مشکوۃ یہ حدیث نفلی روزے کے باب میں لائے، یعنی بندۂ مسلم اگر ایک نفلی روزہ رکھے اور اللہ قبول کرے تو دوزخ میں جانا تو کیا، وہ دوزخ سے قریب بھی نہ ہوگا اور وہاں دوزخی ہوا بھی نہ پائے گا۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 3، صفحہ 183، مکتبہ اسلامیہ، لاہور)

امام شہاب الدین احمد بن محمد ابن حجر ہیتمی شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 974ھ / 1567ء) لکھتے ہیں:

و الذي نهى عن صومه جاهل بمأخذ أحكام الشرع و كيف يكون منهيا عنه مع أن العلماء الذين دونوا الشريعة لم يذكر أحد منهم اندراجه فيما يكره صومه بل يكون صومه قربة إلى اللہ تعالى لما جاء في الأحاديث الصحيحة من الترغيب في الصوم مثل قوله صلى اللہ عليه و سلم يقول اللہ كل عمل ابن آدم له إلا الصوم و قوله صلى اللہ عليه و سلم لخلوف فم الصائم أطيب عند اللہ من ريح المسك

ترجمہ: اور جس نے رجب کے روزے سے منع کیا، وہ احکامِ شرع کے مآخذ سے ہی جاہل ہے، اور یہ روزہ ممنوع کیسے ہو سکتا ہے جبکہ مسائل شریعت کو مدون کرنے والے علما میں سے کسی ایک نے بھی اسے ان ایام میں داخل نہیں کیا جن کا روزہ مکروہ ہے، بلکہ رجب کا روزہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ ہے؛ کیونکہ صحیح احادیث میں (نفل) روزے کی ترغیب آئی ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے: اللہ پاک فرماتا ہے کہ ابنِ آدم کا ہر عمل اس کے لیے ہے سوائے روزے کے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ فرمان کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ پاک کے نزدیک مشک کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے۔ (الفتاوى الكبرى الفقهية، کتاب الصوم، جلد 2، صفحہ 54، المكتبة الإسلامية)

اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے:

اَلْقِیَا فِیْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِیْدٍ (۲۴) مَّنَّاعٍ لِّلْخَیْرِ مُعْتَدٍ مُّرِیْبِﹰ (۲۵)

ترجمہ کنز العرفان: (حکم ہوگا) تم دونوں ہر بڑے ناشکرے ہٹ دھرم کو جہنم میں ڈال دو، جو بھلائی سے بہت روکنے والا، حد سے بڑھنے والا، شک کرنے والا ہے۔ (پارہ 26، سورۃ ق 50، آیت 24-25)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ / 1971ء) مذکورہ بالا آیت مبارکہ کے تحت لکھتے ہیں: جیسے اس زمانے کے بد مذہب کہ امور خیر کو ہزاروں حیلوں سے روکتے ہیں، شر کے روکنے کی پرواہ نہیں کرتے، ان کے فتوے ہمیشہ صدقات و خیرات اور ذکر رسول روکنے کے لیے ہوتے ہیں۔ (تفسیر نور العرفان، صفحہ 829 بتغیر قلیل، فرید بکڈپو لمیڈ، دہلی)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: روزہ سے منع کرنا خیر سے منع کرنا اور مناع للخیر (خیر سے روکنے والا) کے وبال میں داخل ہونا ہے، جب تک ذاتاً یا عارضاً ممانعت شرعیہ نہ ثابت ہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 653، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

امام شہاب الدین احمد بن محمد ابن حجر ہیتمی شافعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 974ھ / 1567ء) لکھتے ہیں:

و أما استمرار هذا الفقيه على نهي الناس عن صوم رجب فهو جهل منه وجزاف على هذه الشريعة المطهرة فإن لم يرجع عن ذلك وإلا وجب على حكام الشريعة المطهرة زجره وتعزيره التعزير البليغ المانع له و لأمثاله من المجازفة في دين اللہ تعالى

ترجمہ: اور بہرکیف اس عالم کا لوگوں کو ماہِ رجب کے روزے سے روکنے پر قائم رہنا تو وہ اس کی جہالت اور اس پاکیزہ شریعت پر بے تکا اندازہ ہے۔ پس اگر وہ اس سے باز نہ آیا تو حکامِ شرع مطہرہ پر اسے زجر کرنا اور ایسی نتیجہ خیز سزا دینا واجب ہے جو اسے اور اس جیسے دیگر لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دین میں بے دلیل بات کرنے سے روک دے۔ (الفتاوى الكبرى الفقهية، کتاب الصوم، جلد 2، صفحہ 53، المكتبة الإسلامية)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1092
تاریخ اجراء: 15 شعبان المعظم 1447ھ / 04 فروری 2026ء