روزہ میں سگریٹ پینے اور پان گٹکا کھانے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
سگریٹ پینے اور پان گٹکا کھانے سے روزہ ٹوٹ جائے گا ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نفل روزے میں سگریٹ پینے سے روزہ ٹوٹ جائے گا اور اگر ٹوٹ جائے گا، تو کیا اس سے کفارہ بھی لازم ہوگا؟
جواب
سگریٹ نوشی کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، فرض روزہ ہو خواہ نفل، اسی طرح گٹکا، بیڑی اور پان وغیرہ سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے، البتہ نفل روزے میں کسی نے ایسا فعل کیا، توصرف قضا لازم ہو گی، کفارہ لازم نہیں، کیونکہ قضاکے ساتھ کفارہ صرف رمضان کا فرض روزہ توڑنے کی صورت میں لازم ہوتا ہے، جبکہ کفارے کی تمام شرائط پائی جائیں، البتہ روزہ فرض ہو یا نفل، اگر روزہ یاد ہوتے ہوئے جان بوجھ کر سگریٹ نوشی کی یا پان وغیرہ کھایا، تو گناہ ہوگا اور اس سے توبہ کرنی ہوگی۔
چنانچہ درِ مختار مع ردالمحتار میں ہے:
”(قوله: أنه لو أدخل حلقه الدخان) أي بأي صورة كان الادخال، حتى لو تبخرببخور وآواه إلى نفسه واشتمه ذاكرا لصومه أفطر لامكان التحرز عنه، و هذا مما يغفل عنه كثيرمن الناس ...وبه علم حكم شرب الدخان، ونظمه الشرنبلالي في شرحه على الوهبانية بقوله: ويمنع من بيع الدخان وشربه ...وشاربه في الصوم لا شك يفطر. ويلزمه التكفير لو ظن نافعاً ...كذا دافعا شهوات بطن فقرروا“
ترجمہ: اگر کسی نے اپنے حلق میں دھواں داخل کیا، یعنی حلق میں دھواں اتارنے کی کوئی بھی صورت ہو، حتی کہ کسی نے بخور (خوشبو) کی دھونی لی اور روزہ یاد ہونے کے باوجود اسے اپنی طرف کھینچا اور قصداً سونگھا، تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا، کیونکہ اس سے بچنا ممکن ہے، یہ ایسا معاملہ ہے جس سے بہت سے لوگ غافل ہیں، اسی سے تمباکو نوشی ( سگریٹ ) کا حکم بھی معلوم ہو گیا، علامہ شرنبلالی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ نے شرح وہبانیہ میں اس کو نظماً یوں بیان کیا: تمباکو کی خرید و فروخت اور اس کو پینے سے منع کیا جائے گا اور روزے کی حالت میں تمباکو نوشی کرنے والے کے روزہ ٹوٹنے میں کوئی شک نہیں اور (رمضان کا فرض روزہ ہونے کی صورت میں) کفارہ بھی لا زم ہوگا، جب کہ اس چیز کو نفع مند گمان کر کے استعمال کیا جائے یا اس کو خواہشِ نفس کی تسکین کے لیے استعمال کیا جائے، فقہائے کرام نے اس کو ثابت رکھا ہے۔ (درمختار مع ردالمحتار، کتاب الصوم، باب مایفسد الصوم، جلد 3، صفحہ 421، مطبوعہ کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”حُقّہ، سگار، سگریٹ، چرٹ پینے سے روزہ جاتا رہتا ہے، اگرچہ اپنے خیال میں حلق تک دھواں نہ پہنچاتا ہو، بلکہ پان یا صرف تمباکو کھانے سے بھی روزہ جاتا رہے گا، اگرچہ پیک تھوک دی ہو کہ اس کے باریک اجزا ضرور حلق میں پہنچتے ہیں۔ “ (بھارِ شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 986، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-8306
تاریخ اجراء: 08 شوال المکرم 1444 ھ / 29 ایپریل 2023ء