نیند میں بارش کا پانی حلق میں چلا جائے تو روزہ ٹوٹ جائیگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نیندمیں روزے دار کے منہ میں بارش کا پانی چلا گیا تو روزے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کسی بندے کا روزہ تھا اور وہ روزے کی حالت میں سو گیا اور اس کے منہ میں بارش کا پانی چلا گیا تو اس کا روزہ ٹوٹے گا یا نہیں؟
جواب
روزے دار کے منہ میں بارش کا پانی چلا گیا اور وہ حلق سے نیچے اترگیا، تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا، خواہ جاگتے میں ایسا ہوا ہو، یا سوتے میں۔تحفۃ الفقھاء میں ہے
و كذلك الصائم إذا فتح فاه و رفع رأسه إلى السماء فوقع قطرة من المطر في حلقه يفسد صومه لأنه نادر و كذلك إذا وجد في حلق النائم يفسد صومه لأنه نادر
ترجمہ: اسی طرح روزہ دار جب اپنا منہ کھولے اور اپنا سر آسمان کی طرف کرے اور بارش کا قطرہ اس کے حلق میں چلا جائے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ یہ نادر الوقوع ہے۔ اسی طرح اگر سوئے ہوئے روزہ دار کے حلق میں (بارش کا قطرہ) پایا جائے تو اس کا بھی روزہ ٹوٹ جائے گا کیونکہ یہ نادر الوقوع ہے۔ (تحفۃ الفقھاء، جلد 1، صفحہ 354، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
الاشباہ والنظائر میں ہے
بيان أن النائم كالمستيقظ في بعض المسائل۔ قال الولوالجي في آخر فتاواه: النائم كالمستيقظ في خمس و عشرين مسألة: الأولى: إذا نام الصائم على قفاه وفوه مفتوح فقطر قطرة من ماء المطر في فيه فسد صومه، و كذا لو قطر أحد قطرة من الماء في فيه و بلغ جوفه
ترجمہ: اس بات کا بیان کہ بعض مسائل میں سونے والا جاگنے والے کی طرح ہے، و لوالجی نے اپنے فتاوی کے آخر میں کہا: سونے والا پچیس مسائل میں جاگنے والے کی طرح ہے، ان میں سے پہلا یہ ہے کہ جب روزہ دار اپنی پیٹھ کے بل سوئے اور اس کا منہ کھلا ہو، پس بارش کے پانی کا ایک قطرہ اس کے منہ میں ٹپک جائے تو اس کا روزہ فاسد ہو جائے گا، اور اسی طرح اگر کسی شخص نے اس کے منہ میں پانی کا ایک قطرہ بھی ڈال دیا اور وہ اس کے جوف میں پہنچ گیا۔ (الاشباہ و النظائر، صفحہ 275، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
تنویر الابصار میں روزہ فاسد ہونے کی صورتیں بیان کرتے ہوئے فرمایا:
دخل حلقہ مطر او ثلج
ترجمہ: روزہ دار کے حلق میں بارش کا پانی یا اولا چلا گیا (تو روزہ ٹوٹ جائے گا)۔
اس کے تحت رد المحتار میں ہے
فیفسد فی الصحیح و لو بقطرۃ
ترجمہ: پس صحیح قول کے مطابق روزہ ٹوٹ جائے گا اگرچہ ایک قطرہ ہی حلق میں داخل ہو۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 434، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہارِ شریعت میں ہے کسی نے روزہ دار کی طرف کوئی چیز پھینکی، وہ اُس کے حلق میں چلی گئی روزہ جاتا رہا۔ سوتے میں پانی پی لیا یا کچھ کھا لیا یا مونھ کھولا تھا اور پانی کا قطرہ یا اولا حلق میں جا رہا روزہ جاتا رہا۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 987، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4670
تاریخ اجراء: 30رجب المرجب1447ھ / 20 جنوری2026ء