logo logo
AI Search

روزے میں بے ہوش شخص کو پانی پلانا گناہ ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

روزہ کی حالت میں بے ہوش ہوجانے والے کو پانی پلانے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کوئی روزے کی حالت میں بے ہوش ہو کر گر جائے، تو کیا اس کو پانی پلا سکتے ہیں؟ گناہگار تو نہیں ہوں گے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں اگر کسی طرح ہوش نہیں آتا اور پانی پلانا ضروری ہوجائے کہ نہ پلایا تو جان وغیرہ کو خطرہ ہو تو پلانے میں حرج نہیں اور جب تک ضروری نہ ہو تو ایسا کوئی کام نہ کیا جائے جس سے اس کا روزہ ٹوٹ جائے بلکہ ہوش میں لانے کے دیگر طریقے اختیار کیے جائیں، مثلاً اس کے چہرے پر پانی یوں احتیاط سے ڈالیں کہ اس کے منہ اور ناک کے ذریعے حلق میں نہ جائے، کہ کبھی معمولی بےہوشی ہوتی ہے جس سے جان وغیرہ کا خطرہ نہیں ہوتا اور تھوڑی سی کوشش یا چہرے پر پانی ڈالنے سے ہوش آجاتا ہے، ایسی صورت میں پانی پلا کر مسلمان کا روزہ توڑ ڈالنا جائز نہیں۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2370
تاریخ اجراء: 27صفرالمظفر1447ھ / 22اگست2025ء