logo logo
AI Search

معتکف کا اذان دینے کیلئے اذان والے کمرے میں جانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

معتکف کا اذان دینے کے لیے اذان والے کمرے میں جانا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

معتکف کا مسجد کے ساتھ متصل کمرے میں، جو اذان دینے کے لیے بنایا جاتا ہے، اور فنائے مسجد کا حصہ ہوتا ہے، وہاں جا کر اذان دینا کیسا ہے؟

جواب

معتکف کا مسجد کے ساتھ متصل اس طرح کے کمرے میں جاکر اذان دینا جائز ہے۔ در مختار میں ہے

(أو) شرعية كعيد و أذان لو مؤذنا و باب المنارة خارج المسجد

ترجمہ: شرعی حاجت کی بناء پر معتکف کو مسجد سے نکلنا جائز ہے جیسے عید کی نمازکے لئے یا اذان کے لئے جبکہ وہ مؤذن ہو اور منارہ کا دروازہ خارجِ مسجد ہو۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے

و لو قال الشارح و أذان و لو غير مؤذن و باب المنارة خارج المسجد لكان أولى ح

ترجمہ : اور اگر شارح یوں کہتے کہ اور اذان کے لئے، اگرچہ مؤذن نہ ہو اور منارہ کا دروازہ خارج مسجد ہو، تو زیادہ بہتر تھا۔ (در مختار مع رد المحتار،ج 3، ص 501، 502، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں ہے معتکف کو مسجد سے نکلنے کے دو عذر ہیں ۔۔۔ دوم حاجت شرعی مثلاً عید یا جمعہ کے لیے جانا یا اذان کہنے کے لیے منارہ پر جانا، جبکہ منارہ پر جانے کے لیے باہر ہی سے راستہ ہو اور اگر منارہ کا راستہ اندر سے ہو تو غیر مؤذن بھی منارہ پر جا سکتا ہے مؤذن کی تخصیص نہیں۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 1023 - 1024، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4846
تاریخ اجراء: 26 رمضان المبارک 1447ھ / 16 مارچ 2026ء