logo logo
AI Search

بچے کا باپ مفلس اور دادا غنی ہو تو صدقۂ فطر کس پر؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نابالغ بچے کا باپ مفلس ہو اور دادا غنی ہو، تو کیادادا پر صدقہ فطر لازم ہو گا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر نابالغ بچوں کا باپ مفلس ہو، لیکن بچوں کا دادا غنی ہو، تو کیا نابالغ بچوں کا صدقہ فطر بچوں کے دادا پر لازم ہوگا؟

جواب

صدقہ فطر ہر آزاد، مسلمان، مالکِ نصاب (یعنی جس کے پاس ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی چاندی کی مالیت کے بقدر رقم یا کوئی سامان حاجتِ اصلیہ اور قرض کے علاوہ موجود ہو، اس) پرواجب ہوتا ہے۔ نابالغ بچے کا صدقہ فطر کس پر واجب ہوگا؟ اس حوالے سے تفصیل درج ذیل ہے:

(1) نابالغ بچہ اگر خود صاحبِ نصاب ہو، تو( صاحبِ نصاب ہونے کے سبب) اس کا صدقہ فطر اسی کے مال میں واجب ہوگا، لہٰذا اس کے باپ کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ نابالغ کے مال سے اس کا صدقہ فطر ادا کردے، البتہ اگر باپ نے نابالغ کے مال سے اس کا صدقہ فطر ادا کرنے کے بجائے اپنے مال سے ادا کردیا، تو بھی صدقہ فطر ادا ہوجائے گا کہ جو شخص عیال میں ہو، اس کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنے کی صورت میں استحساناً صدقہ فطر ادا ہوجاتا ہے۔

(2) اگر بچہ خود تو صاحب نصاب نہ ہو، مگر اس کا باپ صاحب نصاب ہو، تو پھر باپ پراس کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا لازم ہے۔

(3) اور اگر باپ بھی مفلس ہو (جیسا کہ مسئولہ صورت میں بیان کیا گیا ہے)، تو پھر بچے کا صدقہ فطر کسی پر لازم نہیں، اگرچہ دادا، صاحبِ نصاب ہو، لہذا دریافت کی گئی صورت میں باپ کے مفلس ہونے کی وجہ سے دادا پر اپنے نابالغ پوتوں کا صدقہ فطر ادا کرنا لازم نہیں، البتہ اگر باپ کا انتقال ہو جائے، تو صحیح قول کے مطابق صاحب نصاب دادا پر اپنے نابالغ پوتوں کا صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے۔

بالترتیب جزئیات:

ہر آزاد، مسلمان، مالکِ نصاب پر صدقہ فطر واجب ہے۔ چنانچہ کنز الدقائق اور دیگر کتبِ فقہ میں ہے:

”تجب علی کل حر مسلم ذی نصاب فضل عن مسکنہ وثیابہ وأثاثہ وفرسہ وسلاحہ وعبیدہ“

ترجمہ: ہر آزاد صاحبِ نصاب مسلمان پر صدقہ فطر واجب ہے، ایسا نصاب جو اس کی رہائش گاہ، لباس، گھر کے سامان، گھوڑے(سواری)، ہتھیار اور غلام (یعنی حاجات اصلیہ) سے زائد ہو۔ (کنز الدقائق، صفحہ218، مطبوعہ دار البشائر الاسلامیہ)

نابالغ اگر صاحب نصاب ہو، تو اس کے مال سے صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے، جیسا کہ بحر الرائق اور مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر میں ہے: والنظم للاول:

”الطفل الغني بملك نصاب تجب صدقة فطره في ماله“

ترجمہ: ایسا (نابالغ)بچہ جو مالک نصاب ہونے کی وجہ سے غنی ہو، اس کا صدقہ فطر اس کے مال میں(سے ادا کرنا)واجب ہے۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق، جلد 2، صفحہ 272، مطبوعہ دار الكتاب الإسلامي)

تنویر الابصار اور درمختار میں ہے:

”(تجب علی کل) حر (مسلم، ذی نصاب فاضل عن حاجتہ الاصلیۃ) کدینہ و حوائج عیالہ (و ان لم ینم۔۔۔ عن نفسہ و طفلہ الفقیر)“

ترجمہ: صدقہ فطرہر آزاد مسلمان کہ جو حاجت اصلیہ مثلاً دین اور عیال کی ضروریات سے فارغ نصاب، اگرچہ وہ نامی نہ ہو، اس کا مالک ہو، اس پراپنا اور نابالغ بچے کی طرف سے واجب ہے۔ (ملخصاً از تنویر الابصارمع در مختار، صفحہ 139، مطبوعہ دار الكتب العلميہ، بيروت)

”و طفلہ الفقیر “کے تحت علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں:

”قید بہ، لان الغنی تجب صدقۃ فطرہ فی مالہ“

ترجمہ: فقیر کی قید اس لئے لگائی، کیونکہ بچہ غنی ہو، تواس کا صدقہ فطر اسی کے مال میں واجب ہو گا۔ (رد المحتار، جلد 2، صفحہ 361، مطبوعہ دار الفكر، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”نابالغ یا مجنون اگر مالکِ نصاب ہیں تو ان پر صدقہ فطر واجب ہے، اُن کا ولی اُن کے مال سے ادا کرے۔ “ (بھار شریعت، جلد 1، صفحہ 936، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

باپ نے نابالغ کے مال سے صدقہ فطر دینے کے بجائے اپنے مال سے دے دیا، تو عیال میں ہونے کی وجہ سے ادا ہوجائے گا، جیسا کہ نہر الفائق، بحر الرائق اور رد المحتار میں ہے:

والنظم للاول:”قالوا: ادی عن الزوجۃ والولد الکبیر جاز استحساناً وظاھر ما فی الظھیریۃ ان ھذا الحکم جار فی کل من فی عیالہ“

یعنی فقہا ئےکرام نے فرمایا: کسی نے اپنی زوجہ و بڑے بیٹے کی طرف سے صدقہ فطر ادا کردیا، تو استحساناً جائز ہے اور جو ظہیریہ میں ہے اس کا ظاہر یہ ہے کہ یہ حکم ہر اس شخص کے حق میں جاری ہوگا، جو اس کے عیال میں ہے۔ (النھر الفائق، جلد 1، صفحہ 473، مطبوعہ دارالكتب العلميه، بیروت)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”قربانی و صدقہ فطر عبادت ہے اور عبادت میں نیت شرط ہے، تو بلا اجازت نا ممکن ہے، ہاں اجازت کے لئے صراحۃً ہونا ضرور نہیں، دلالت کافی ہے، مثلاً: زید اس کے عیال میں ہے، اس کا کھانا پہننا سب اس کے پاس سے ہونا ہے یا یہ اس کا وکیلِ مطلق ہے، اس کے کاروبار یہ کیا کرتا ہے، ان صورتوں میں ادائیگی ہوجائے گی۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 453، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

نابالغ اگر صاحب نصاب نہ ہو، تو اس کے صاحب نصاب باپ پر صدقہ فطر واجب ہوگا، جیسا کہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”مردمالکِ نصاب پر اپنی طرف سے اور اپنے چھوٹے بچہ کی طرف سے واجب ہے، جبکہ بچہ خود مالکِ نصاب نہ ہو۔ “ (بھار شریعت، جلد 01، حصہ 5، صفحہ 936، مکتبۃ المدینہ کراچی)

دادا پر باپ کی موجودگی میں نابالغ پوتوں کا صدقہ فطر ادا کرنا لازم نہیں، جیسا کہ کتاب المبسوط اور کتاب الاصل میں ہے:

والنظم للاول: ”ولیس علی الرجل ان يؤدي عن اولادہ الکبارولا يؤدي الجد عن نوافله الصغار وإن كانوا في عياله “

ترجمہ: آدمی پر یہ لازم نہیں کہ وہ اپنے بالغ اولاد کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے اور نہ ہی دادا پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنے نابالغ پوتوں کی طرف سے (صدقہ فطر) ادا کرے، اگرچہ وہ اس کی کفالت میں ہوں۔ (کتاب المبسوط، جلد 3، صفحہ 105، مطبوعہ دار المعرفہ، بيروت)

اسی طرح فتاوی قاضیخان، شرح مختصر الطحاوی للجصاص میں اوررد المحتار، فتاوی عالمگیری میں فتاوی قاضیخان کے حوالے سے ہے:

والنظم للاول: ”وليس على الجد أن يؤدي الصدقة عن أولاد ابنه المعسر إذا كان الأب حيا باتفاق الروايات“

ترجمہ: دادا پر یہ لازم نہیں کہ وہ اپنے مفلس بیٹے کی اولاد کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے، جبکہ باپ زندہ ہو، اس میں تمام روایات متفق ہیں۔ (فتاوی قاضیخان، جلد1، صفحہ201، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بيروت)

باپ اگر فوت ہوگیا ہو، تو غنی دادا پر اپنے پوتوں کا صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے، جیسا کہ التجرید للقدوری میں ہے:

”قال أصحابنا: لا تجب على الجد فطرة ابن ابنه مع بقاء الابن، وإذا مات ابنه فالصحيح أن الفطرة تجب عليه“

ترجمہ: ہمارے اصحاب نے فرمایا ہے کہ باپ کے زندہ ہونے کی صورت میں دادا پر اپنے پوتے کا صدقہ فطر واجب نہیں ہوتا اور اگر باپ کا انتقال ہو جائے تو صحیح قول کے مطابق دادا پر پوتے کا صدقہ فطر واجب ہو جاتا ہے۔ (التجرید للقدوری، جلد 3، صفحہ 1422، مطبوعہ دار السلام، القاهرہ)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”باپ نہ ہو تو دادا باپ کی جگہ ہے یعنی اپنے فقیر و یتیم پوتے پوتی کی طرف سے اس پر صدقہ دینا واجب ہے۔“ (بھار شریعت، جلد 01، حصہ 5، صفحہ 936، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0233
تاریخ اجراء: 10 رمضان المبارک 1447ھ/28 فروری 2026 ء