logo logo
AI Search

روزے کی نیت کے بعد کھانا پینا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

روزے کی نیت کرنے کے بعد کھانا پینا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا روزے کی نیت کرنے کے بعد کھا پی سکتے ہیں، جبکہ ابھی سحری کا وقت باقی ہو؟

جواب

اگر کسی شخص نے روزے کی نیت کر لی ہو، لیکن ابھی سحری کا وقت باقی ہو، اور صبحِ صادق طلوع نہ ہوئی ہو، تو اس کے لیے کھانا پینا جائز ہے؛ کیونکہ روزہ دراصل صبحِ صادق کے طلوع ہونے (فجر کا وقت داخل ہونے) سے شروع ہوتا ہے۔ لہٰذا جب تک فجر کا وقت شروع نہ ہو، اس وقت تک کھانے پینے کی اجازت ہوتی ہے، چاہے نیت پہلے ہی کیوں نہ کر لی ہو۔

ارشاد باری تعالی ہے

وَ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ۪- ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّیَامَ اِلَى الَّیْلِۚ

ترجمہ کنز الایمان: اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے پوپھٹ کر پھر رات آنے تک روزے پورے کرو۔ (القرآن، پارہ 2، سورۃ البقرۃ، آیت: 187)

اس آیت مبارکہ کے تحت محمد بن جریر طبری رحمۃ اللہ علیہ تفسیر طبری میں فرماتے ہیں:

عن ابن عباس: ﴿و كلوا واشربوا حتى يتبين لكم الخيط الابيض من الخيط الاسود من الفجر﴾ يعني الليل من النهار فأحل لكم المجامعة و الأكل و الشرب حتى يتبين لكم الصبح، فإذا تبين الصبح حرم عليهم المجامعة و الأكل و الشرب حتى يتموا الصيام إلى الليل

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے اس آیت مبارکہ "اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمہارے لئے ظاہر ہوجائے سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے" کی تفسیرمیں مروی ہے کہ سفیدی کا ڈورا سیاہی کے ڈورے سے جدا ہو جائے، اس سے مراد ہے کہ رات دن سے جدا ہو جائے۔ پس تمہارے لیے ہمبستری اورکھانا پینا اس وقت تک حلال ہے جب تک تمہارے لیے صبح نہ ظاہر ہو جائے پس جب صبح ظاہر ہو جائے تو روزہ داروں پر ہمبستری، کھانا پینا حرام ہے یہاں تک کہ وہ روزے کو رات تک پورا کریں۔ (تفسیر الطبری، جلد 3، صفحہ 510، موسسۃ الرسالۃ)

الاختیار لتعلیل المختار میں ہے

(ووقت الصوم من طلوع الفجر الثاني إلى غروب الشمس) لقوله تعالى: {و كلوا و اشربوا حتى يتبين لكم الخيط الابيض من الخيط الاسود من الفجر} [البقرة: 187]. قال أبو عبيد: الخيط الأبيض: الصبح الصادق، أباح الأكل و الشرب إلى طلوع الفجر فيحرم عنده

ترجمہ: روزے کا وقت طلوعِ فجرِ ثانی سے لیکر غروبِ شمس تک ہے، اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے کہ اور کھاؤ اور پیویہاں تک کہ تمہارے لئے فجر سے سفیدی (صبح) کا ڈورا سیاہی(رات) کے ڈورے سے ممتاز ہوجائے ابوعبید نے فرمایا: سفید ڈورا، صبحِ صادق ہے، پس اللہ عزوجل نے طلوعِ فجر تک کھانا پینا مباح کیا، تو طلوعِ فجر کے وقت کھانا پینا حرام ہے۔ (الاختیار لتعلیل المختار، ج 1، ص 128، مطبعة الحلبي)

جوہرہ نیرہ میں ہے

و لو نوی لیلا ثم اکل لم تفسد نیتہ

ترجمہ: اور اگر رات کو روزے کی نیت کی پھر کھا لیا تو نیت فاسد نہیں ہو گی۔ (الجوھرۃ النیرۃ، جلد 1، صفحہ 330، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے رات میں نیّت کی پھر اس کے بعد رات ہی میں کھایا پیا، تو نیّت جاتی نہ رہی وہی پہلی کافی ہے پھر سے نیّت کرنا ضرور نہیں۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 969، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4842
تاریخ اجراء: 24 رمضان المبارک 1447ھ / 14 مارچ 2026ء