رمضان کا روزہ ٹوٹ جانے کے بعد کھانا پینا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
رمضان کا روزہ ٹوٹ جائے تو اس کے بعد کھا پی سکتے ہیں ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک شخص نے غلطی سے رمضان کا روزہ توڑ دیا،اسے یہ مسئلہ معلوم نہیں تھا کہ بقیہ دن روزہ دار کی طرح رہنا ہوتاہے، اس لیے اس نےکچھ کھا پی لیا،تو اس کا کیا کفارہ ہوگا؟
جواب
ہر عاقل و بالغ مسلمان پر رمضان کا روزہ فرض ہے، بلاعذر شرعی اسے چھوڑنا یا رکھ کر توڑنا، ناجائز و گناہ ہے۔ اگر کسی وجہ سے روزہ ٹوٹ جائے، تو ایسے شخص پررمضان کی حرمت و تعظیم کے پیش نظر بقیہ دن اِمساک یعنی کھانے پینے سے رُک کر روزہ داروں کی مشابہت اختیار کرنا واجب ہوتا ہے، لہذا مسئولہ صورت میں ایسا شخص بقیہ دن کھانے پینے کے سبب گنہگار ہوا، خواہ اسے مسئلے کا علم ہو یا نہ ہو کہ دار الاسلام میں شرعی مسائل سے لاعلم ہونا کوئی شرعی عذر نہیں، ہاں! البتہ محض اس وجہ سے (یعنی روزہ ٹوٹنے کے بعد کھانے پینے سے) کوئی کفارہ نہیں ہوگا۔
نوٹ:ہر مسلمان عاقل و بالغ مرد و عورت پر حسبِ حال علمِ دین حاصل کرنا فرض ہے جس میں کوتاہی کرنا جائز نہیں، لہذا جس پر روزے فرض ہیں اس پر روزے کے ضروری مسائل سیکھنا بھی فرض ہیں ورنہ بلا عذرِ شرعی ضروری مسائل سیکھنے میں کوتاہی کرنے کے سبب وہ گنہگار ہوگا۔
رمضان کا ادا روزہ ٹوٹ جائے، تو بقیہ دن روزہ دار کی طرح رہنا واجب ہے۔ جیسا کہ نور الایضاح، بدائع الصنائع، فتاوی عالمگیری، الفقہ علی المذاھب الاربعہ اور دیگر کتب فقہیہ میں ہے:
والنظم للآخر: ”من فسد صومه في أداء رمضان وجب عليه الإمساك بقية اليوم تعظيماً لحرمة الشهر“
ترجمہ: جس کے رمضان کا ادا روزہ فاسد ہوجائے، تو اس پر رمضان کے مہینے کی حرمت و تعظیم کی وجہ سے بقیہ دن امساک واجب ہوگا ۔ (الفقہ علی المذاھب الاربعۃ ،جلد 1، صفحہ 519، دارالکتب العلمیہ،بیروت)
اسی طرح اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت ، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”غیر مریض و مسافر کو روزہ جاتے رہنے کی بھی حالت میں بوجہ ادب و حُرمت ماہ مبارک دن بھر مثل روزہ رہنا واجب (ہے)۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10،صفحہ 517،رضا فاؤنڈیشن،لاہور)
اگر کسی نےبقیہ دن کھاپی لیا، تو وہ گنہگار ہوگا، جیسا کہ اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت ، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”رمضان المبارک میں اگر کسی وجہ سے روزہ نہ ہو، تو غیر معذور شرعی کو دن بھر روزہ دار کی طرح رہنا واجب اور کھانا پینا حرام، ایک بجے کھانا کھا لیا، یہ دوسرا گناہ ہوا، توبہ فرض ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 10، صفحہ 519، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
دار الاسلام میں شرعی مسائل سے ناواقفی عذر نہیں۔ جیسا کہ علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1252ھ/1836ء) لکھتے ہیں:”لا يعذر بالجهل بالأحكام في دار الإسلام“ ترجمہ:دار الاسلام میں احکام شرعیہ سے جاہل ہونا عذر نہیں ہے۔ (العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیۃ،جلد2،صفحہ167،مطبوعہ دار المعرفة)
اسی طرح صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”دار الاسلام میں احکام کا نہ جاننا،عذر نہیں۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 702، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
ہر مسلمان عاقل بالغ مرد و عورت پر اس کی موجودہ حالت کے مسائل سیکھنا فرض عین ہے۔ جیسا کہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت ، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”سب میں پہلا فرض آدمی پر اسی (بنیادی عقائد) کا تعلم ہے اور اس کی طرف احتیاج میں سب یکساں، پھر علم مسائل نماز یعنی اس کے فرائض و شرائط و مفسدات جن کے جاننے سے نماز صحیح طور پر ادا کر سکے، پھر جب رمضان آئے، تو مسائل صوم، مالک نصاب نامی ہو، تو مسائل زکوٰۃ، صاحب استطاعت ہو، تو مسائل حج، نکاح کیا چاہے، تو اس کے متعلق ضروری مسئلے، تاجر ہو، تو مسائل بیع و شراء، مزارع پر مسائل زراعت، موجر و مستاجر پر مسائل اجارہ، و علیٰ ہذا القیاس ہر اس شخص پر اس کی حالت موجودہ کے مسئلے سیکھنا فرض عین ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 624، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR- 0203
تاریخ اجراء: 01 شعبان المعظم 1447ھ/21 جنوری 2026 ء