logo logo
AI Search

رمضان کے روزے میں منّت کے روزے کی نیت کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

رمضان کے روزے کے ساتھ منت کے روزے کی نیت کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

رمضان کے فرض ادا روزے کے ساتھ منت کے روزے کی نیت کر لی، تو کیا حکم ہے؟ کیا دونوں ادا ہو جائیں گے؟

جواب

ایک ہی روزے میں فرض اور منت دونوں کی نیت نہیں ہو سکتی، بلکہ رمضان میں صرف رمضان کے روزے ہی ادا ہوں گے، لہذا اگر کسی نے رمضان کے فرض ادا روزے میں فرض اور منت دونوں کی نیت کر بھی لی، تو یہ صرف رمضان كا روزہ شمار ہوگا، منت کا روزہ شمار نہیں ہوگا۔

چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے

و إذا نوى واجبا آخر في يوم رمضان يقع عن رمضان

ترجمہ: رمضان میں اگر کسی اور واجب روزے کی نیت کی، تو رمضان کا روزہ واقع ہوگا۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 196، مطبوعہ: کوئٹہ)

اسی طرح بہار شریعت میں صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: رمضان کے مہینے میں کوئی اور روزہ رکھا اور اُسے یہ معلوم نہ تھا کہ یہ ماہِ رمضان ہے، جب بھی رمضان ہی کا روزہ ہوا۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 970، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4696
تاریخ اجراء: 09 شعبان المعظم1447ھ / 29 جنوری2026ء