بسم اللہ الرحمن الرحیم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ شیخِ فانی رمضان کے ابتدائی دنوں میں اپنے تمام روزوں کےفدیہ کا حساب کرکے اُتنی رقم کا مستحق طلباء کو سحری و افطاری میں کھانا کھلادے، تو کیا اُس کے روزوں کا فدیہ ادا ہوجائے گا؟
جی ہاں! پوچھی گئی صورت میں شیخِ فانی کے روزوں کا فدیہ ادا ہوجائے گا۔
تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ شیخ فانی یعنی وہ بوڑھا جس کی عمر ایسی ہوگئی کہ اب روزبروز کمزور ہی ہوتا جائے گا، جب وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہوجائے یعنی نہ اب رکھ سکتا ہے نہ آئندہ اُس میں اتنی طاقت آنے کی اُمید ہے کہ روزہ رکھ سکے گا تو اب اس پر شرعاً واجب ہے استطاعت رکھتا ہو تو وہ ہر روزے کے بدلے میں فدیہ دے یعنی ہر روزے کے بدلے میں کسی شرعی فقیر کو دو وقت کا پیٹ بھر کر کھانا کھلائے، اب خواہ وہ شرعی فقیر کو اُس کھانے کا مالک بنادے یا پھر وہ کھانا اس کے لیے مباح کردے یعنی بٹھا کر کھلا دے ، دونوں ہی باتوں کا اسے اختیار ہے کہ روزوں کے فدیہ میں مالک بنانا ضروری نہیں بلکہ مباح کردینا بھی کافی ہوتا ہے۔ اور اگر چاہے تو ہر روزے کے بدلے میں صدقہ فطر کی مقدار کسی شرعی فقیر کو دیدے ، ان تمام ہی صورتوں میں اس کے روزوں کا فدیہ ادا ہوجائے گا۔ جس کے پاس کھانا کھلانے کی بھی استطاعت نہ ہو وہ استغفار کرے گا۔
شیخ فانی اپنے مکمل روزوں کافدیہ رمضان المبارک کی ابتدایادرمیان میں دے سکتاہے ،یونہی رمضان المبارک ختم ہوجانے کے بعدبھی مکمل فدیہ اداکر سکتا ہے۔
البتہ یہ مسئلہ ضرور ذہن نشین رہے کہ فدیہ دینے کے بعد شیخِ فانی میں اگر اتنی طاقت آگئی کہ وہ روزے رکھ سکے تو اب وہ دیا گیا فدیہ نفلی شمار ہوگا اور اب اسے رہ جانے والے روزوں کی قضا کرنا ہوگی ۔
شیخِ فانی اپنے مکمل روزوں کافدیہ رمضان المبارک کی ابتدایاآخر میں دے سکتا ہے۔ جیسا کہ بحر الرائق میں ہے:
”فی فتاوٰی ابی حفص الكبير: ان شاء اعطى الفدية فی اول رمضان بمرة وان شاء اعطاها فی آخره بمرة“
یعنی فتاوٰی ابوحفص کبیرمیں ہے شیخ فانی چاہے تو فدیہ رمضان کے شروع میں ایک ہی مرتبہ میں دیدے ، اور اگرچاہے تو رمضان کے آخرمیں ایک ہی مرتبہ میں دیدے۔ (البحرالرائق ، کتاب الصوم، ج02،ص308،مطبوعہ بیروت)
درِ مختار میں ہے:
(وللشيخ الفانی العاجز عن الصوم الفطر ويفدی)وجوباً ولو فی اول الشهر۔“
یعنی شیخ فانی جوکہ روزہ رکھنے سے عاجز ہواس کو روزہ چھوڑنے کی اجازت ہے۔ البتہ وہ ہر روزے کے بدلے میں وجوبی طور پر فدیہ اداکرے گا اگرچہ مہینے کے شروع میں ادا کردے ۔
(ولو فی اول الشهر) کے تحت ردالمحتارمیں ہے :
”ای یخیر بین دفعھافی اولہ اوآخرہ کمافی البحر“
یعنی شیخ فانی کو یہ اختیارہے کہ وہ فدیہ رمضان کے شروع میں دے یا آخرمیں، جیساکہ بحر میں ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصوم،ج03،ص472-471، مطبوعہ کوئٹہ)
فتاوٰی عالمگیری میں ہے:
”ان شاء اعطى الفدية فی اول رمضان بمرة ، وان شاء اخرها الى آخره“
یعنی شیخ فانی اگر چاہے تو فدیہ رمضان کےشروع میں ایک بارمیں ہی اداکردے اور چاہے تو فدیہ آخررمضان میں اداکردے ۔(فتاوٰی عالمگیری ، کتاب الصوم، ج01،ص207،مطبوعہ پشاور)
سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ اس سے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:” غرض یہ ہے کفارہ اس وقت ہے کہ روزہ نہ گرمی میں رکھ سکیں نہ جاڑے میں، نہ لگاتار نہ متفرق، اور جس عذر کے سبب طاقت نہ ہو اُس عذر کے جانے کی امید نہ ہو، جیسے وہ بوڑھا کہ بڑھاپے نے اُسے ایسا ضعیف کر دیا کہ گنڈے دار روزے متفرق کرکے جاڑے میں بھی نہیں رکھ سکتا تو بڑھا پا تو جانے کی چیز نہیں ایسے شخص کو کفارہ کاحکم ہے، ہر روزے کے بدلے پونے دوسیر گیہوں اٹھنی اُوپر بریلی کی تول سے، یا ساڑھے تین سیر جَو ایک روپیہ بھر اُوپر۔اسے کفارہ کا اختیار ہے کہ روز کا روز دے دے یا مہینہ بھر کا پہلے ہی ادا کردے یا ختمِ ماہ کے بعد کئی فقیر وں کو دے یا سب ایک ہی فقیر کو دے، سب جائز ہے۔“ (فتاوی رضویہ ،جلد10،صفحہ547،رضافاؤنڈیشن،لاہور)
روزوں کے فدیے میں تملیک ضروری نہیں، اباحت بھی کافی ہے۔ جیسا کہ تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے:
”وهل تكفي الاباحة في الفدية؟ قولان: المشهور نعم، واعتمده الكمال“
یعنی روزوں کے فدیہ میں کیا اباحت بھی کافی ہے؟ اس میں دو قول ہیں اور مشہور قول یہی ہے کہ اباحت بھی کافی ہے اور کمال نے اسی پر اعتماد کیا ہے۔
درِ مختار کی عبارت (المشهور نعم)کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:
”فإن ما ورد بلفظ الإطعام جاز فيه الإباحة والتمليك بخلاف ما بلفظ الأداء والإيتاء فإنه للتمليك كما في المضمرات وغيره قهستاني۔“
یعنی فدیہ میں جو لفظ وارد ہوا ہے وہ "اطعام" ہے جس میں اباحت اور تملیک دونوں درست ہیں، برخلاف لفظ" اداء " اور "ایتاء" کے، کیونکہ یہ الفاظ تملیک کے لیے ہی آتے ہیں، جیسا کہ مضمرات وغیرہ میں مذکور ہے"قہستانی"۔“(رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الصوم، فصل فی العوارض، ج 03، ص 473 ، مطبوعہ کوئٹہ)
روزوں کے فدیہ میں اباحت کافی ہونے کے متعلق مراقی الفلاح میں ہے:
”ويجوز في الفدية الإباحة في الطعام أكلتان مشبعتان في اليوم كما يجوز التمليك بخلاف صدقة الفطر فإنه لا بد فيها من التمليك كالزكاة“
یعنی روزوں کے فدیہ میں ایک دن میں دو وقت پیٹ بھرنے والے کھانے کو مباح کردینا بھی جائز ہے جیسا کہ تملیک جائز ہے، برخلاف صدقہ فطر کے کہ اس میں تملیک ضروری ہے جیسا کہ زکوٰۃ میں ضروری ہے۔ (مراقی الفلاح، کتاب الصوم، فصل فی العوارض، صفحہ 260، بیروت)
بہار شریعت میں ہے:”شیخ فانی یعنی وہ بوڑھا جس کی عمر ایسی ہوگئی کہ اب روزبروز کمزور ہی ہوتا جائے گا، جب وہ روزہ رکھنے سے عاجز ہو یعنی نہ اب رکھ سکتا ہے نہ آئندہ اُس میں اتنی طاقت آنے کی اُمید ہے کہ روزہ رکھ سکے گا، اُسے روزہ نہ رکھنے کی اجازت ہے اورہر روزہ کے بدلے میں فدیہ یعنی دونوں وقت ایک مسکین کو بھر پیٹ کھاناکھلانا اس پرواجب ہے یا ہر روزہ کے بدلے میں صدقہ فطر کی مقدار مسکین کو دیدے۔۔۔اگر فدیہ دینے کے بعد اتنی طاقت آگئی کہ روزہ رکھ سکے ،تو فدیہ، صدقہ نفل ہوکر رہ گیا ان روزوں کی قضا رکھے۔یہ اختیار ہے کہ شروع رمضان ہی میں پورے رمضان کا ایک دم فدیہ دے دے یا آخر میں دے اور اس میں تملیک شرط نہیں بلکہ اباحت بھی کافی ہے اور یہ بھی ضرور نہیں کہ جتنے فدیے ہوں اتنے ہی مساکین کو دے بلکہ ایک مسکین کو کئی دن کے فدیے دے سکتے ہیں۔“ (بہارشریعت ،ج01، حصہ 05، ص1006، مکتبہ المدینۃ، ملتقطاً)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب:ابو محمد مفتی علی اصغر عطاری مدنی
فتوی نمبر:NOR-13758
تاریخ اجراء:17شوال المکرم1446ھ/16اپریل2025ء