logo logo
AI Search

یوم الشک کا روزہ رکھنے کا حکم - حدیث پاک کی وضاحت

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

یوم الشک کا روزہ رکھنے کے متعلق حدیث پاک کی وضاحت

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ میں 14 شعبان المعظم سے شعبان کے نفلی روزے مسلسل رکھ رہا ہوں، مجھے کسی نے ایک پوسٹ بھیجی جس میں صحیح بخاری کی حدیث نمبر 1914 اور مسلم شریف کی حدیث نمبر 2518 کا حوالہ تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے ایک دو دن پہلے کوئی روزہ نہ رکھے۔“ پوچھنا یہ ہے کہ کیا ان احادیث کے مطابق مجھے شعبان کے آخری دو دن کے روزے چھوڑنے پڑیں گے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں جب آپ پہلے سے ہی مسلسل شعبان کے نفلی روزے رکھتے آ رہے ہیں تو آپ شعبان کے آخری دو دن کے روزے بھی نفل روزوں کی نیت سے رکھ سکتے ہیں۔ اس میں کوئی حرج و گناہ نہیں ہے۔

تفصیل اس میں یہ ہے کہ احادیث سے یہ ثابت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار شعبان اور رمضان، دونوں مہینوں کے پورے روزے بھی رکھتے تھے، شعبان کے روزوں کو رمضان کے روزوں کے ساتھ ملا دیتے تھے۔ جس سے واضح ہے کہ جو شخص شعبان کے مسلسل نفلی روزے رکھتا آ رہا ہو، وہ شعبان کے آخری دنوں کے روزے بھی نفلی روزوں کی نیت سے رکھ سکتا ہے۔

اسی طرح وہ شخص جس کا معمول ہو کہ وہ کسی معین دن مثلا جمعرات کے دن نفلی روزہ رکھتا ہے، اب شعبان کا یہ آخری دن اسی معین دن میں آ جائے تو یہ شخص بھی اپنے معمول کے مطابق اس دن نفلی روزہ رکھ سکتا ہے کہ ممانعت والی احادیث میں ہی صراحۃً ایسے شخص کا استثناء کرکے اسے روزہ رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

البتہ اگر شعبان کے ان آخری دنوں میں اپنے گمان میں احتیاط کرتے ہوئے رمضان کی نیت سے روزہ رکھا تو یہ ناجائز و گناہ ہوگا۔ سوال میں مذکور احادیث میں جو ممانعت ہے، اس ممانعت سے مراد بھی یہی ہے کہ ان دنوں کا روزہ رمضان کے فرض روزے کی نیت سے نہ رکھا جائے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار شعبان و رمضان کے پورے روزے رکھتے تھے۔ سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ اور سنن نسائی وغیرہ کتب حدیث میں ہے:

”واللفظ للنسائی: عن أم سلمة، قالت: ما رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يصوم شهرين متتابعين الا أنه كان يصل شعبان برمضان“

ترجمہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی بھی دو مہینوں کے متواتر روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کے روزوں کو رمضان کے روزوں کے ساتھ ملا دیتے تھے۔ (سنن نسائی، صفحہ 568، حدیث نمبر2175، مطبوعہ بیروت)

عمدۃ القاری میں شعبان کے روزوں کو رمضان سے ملانے اور نہ ملانے والی دونوں احادیث کے بارے میں فرمایا:

”والأحسن أن يقال فيه: انه باعتبار عامين فأكثر، فكان يصومه كله فی بعض السنين، وكان يصوم أكثره فی بعض السنين، وذكر بعض العلماء انه وقع منه صلى الله عليه وسلم وصل شعبان برمضان وفصله منه وذلك فی سنتين فأكثر۔“

ترجمہ: زیادہ بہتر یہ ہے کہ یوں تطبیق دی جائے کہ دونوں طرح کی احادیث دو یا اس سے زیادہ سالوں کے اعتبار سے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ سال پورے شعبان کے روزے رکھے ہیں اور کچھ سال اکثر شعبان کے روزے رکھے ہیں۔ بعض علماء نے بھی ذکر کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کے روزوں کو رمضان کے روزوں کے ساتھ ملایا بھی ہے اور فاصلہ بھی رکھا ہے، اور یہ دو یا اس سے زیادہ سالوں میں ہوا ہے۔ (عمدۃ القاری، جلد 11، صفحہ  120، مطبوعہ بیروت)

نخب الافکار میں احناف و دیگر ائمہ کا مذہب بیان کرتے ہوئے فرمایا:

”خالف القوم المذکورین جماعۃ آخرون وأراد بھم مجاھدا والأوزاعی والنخعی والثوری وأبا حنیفۃ وأصحابہ ومالکا والشافعی وأحمد وأصحابھم وجماھیر العلماء من التابعین ومن بعدھم، فانھم قالوا: لابأس بصوم شعبان کلہ وھو مستحب غیر منھی عنہ وروی ذلک عن أنس وأسامۃ بن زید و عائشۃ وأم سلمۃ و عطاء بن یسار رضی اللہ عنھم۔“

 ترجمہ: آخری نصف شعبان کے روزے رکھنے کی ممانعت کا قول کرنے والے علماء کی مخالفت کی ہے ایک جماعت نے، اس جماعت سے مراد امام مجاہد، امام اوزاعی، امام نخعی، امام ثوری، امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب، امام مالک، امام شافعی، امام احمد اور ان کے اصحاب ، تابعین اور ان کے بعد کے جمہور علماء ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ پورے شعبان کے روزے رکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے، یہ مستحب ہے، اس سے منع نہیں کیا گیا، کیونکہ پورے شعبان کے روزے رکھنے والی حدیث بھی حضرت انس، حضرت اسامہ بن زید، حضرت عائشہ، حضرت ام سلمہ اور حضرت عطاء بن یسار رضی اللہ عنھم اجمعین سے روایت کی گئی ہے۔ (نخب الافکار، جلد 8، صفحہ 451، مطبوعہ بیروت)

جس دن نفلی روزہ رکھنے کی عادت ہو، اسی دن اگر شعبان کا آخری دن آ جائے تو اب شعبان کے آخری دن بھی روزہ رکھ سکتے ہیں۔ بخاری شریف کی حدیث پاک میں ہے:

”عن أبی هريرة رضی الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يتقدمن أحدكم رمضان بصوم يوم أو يومين الا أن يكون رجل كان يصوم صوما فليصم ذلك اليوم۔“

ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھے، سوائے اس شخص کے جس کی اس دن روزہ رکھنے کی عادت ہو تو وہ روزہ رکھ سکتا ہے۔ (صحیح بخاری، صفحہ 566، حدیث نمبر 1914، مطبوعہ بیروت)

اس حدیث کے تحت مرقاۃ المفاتیح میں فرمایا:

”( الا أن يكون رجل كان يصوم صوما)أی نذرا معینا أو نفلا معتادا أو صوما مطلقا غیرمقید برمضان(فليصم ذلك اليوم)أی ذلک الوقت فانہ یجوز لہ ذلک۔“

ترجمہ: جس شخص نے اس معین دن کی منت مانی ہو یا اس دن کے روزے کی عادت ہو یا رمضان کی قید کے بغیر مطلقا روزے کی نیت ہو تو اس کیلئے اس دن روزہ رکھنا جائز ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 4، صفحہ  408، مطبوعہ بیروت)

بہار شریعت میں ہے: ”اگر تیسویں تاریخ ایسے دن ہوئی کہ اس دن روزہ رکھنے کا عادی تھا تو اُسے روزہ رکھنا افضل ہے، مثلاً کوئی شخص پیر یا جمعرات کا روزہ رکھا کرتا ہے اور تیسویں اسی دن پڑی تو رکھنا افضل ہے۔ یوہیں اگر چند روز پہلے سے رکھ رہا تھا تو اب یوم الشک میں کراہت نہیں۔ “ (بہارشریعت جلد 1، حصہ 5، صفحہ 972، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)

شعبان کے آخری دنوں کا روزہ رمضان کی نیت سے رکھنا جائز نہیں ہے۔ جد الممتار میں شعبان کے آخری تین روزوں کے بارے میں فرمایا:

”لو نوی باولھا نفلا، وبالأخیرین أو الأخیر صوم رمضان أثم قطعا وان کا ن صام شعبان کلہ“

ترجمہ: اگر آخری تین روزوں میں سے پہلے روزے میں تو نفل کی نیت کی، مگر آخری دو دن یا صرف آخری دن رمضان کے روزے کی نیت کی تو ضرور گناہ گار ہوگا اگرچہ باقی سارے شعبان کے روزوں میں نفلی روزے کی ہی نیت کی ہو۔ (جدالممتار، جلد 4، صفحہ 208، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)                   

امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جو شخص کسی خاص دن کے روزے کا عادی ہو اور اگر اس تاریخ میں وہ دن آ کر پڑے مثلا ایک شخص ہر پیر کو روزہ رکھتا ہے اور یہ دن پیر کا ہو تو وہ اپنے اسی نفلی روزے کی نیت کرسکتا ہے، شک کی وجہ سے رمضان کے روزے کی نیت کرے گا یا یہ کہ چاند ہو گیا تو آج رمضان کا روزہ رکھتا ہوں ورنہ نفل، تو گناہ گار ہوگا۔حدیث میں ہے:

”من صام یوم الشک فقد عصی ابا القاسم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم“

یعنی جس نے یوم الشک کو روزہ رکھا تو اس نے ابو القاسم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی نافرمانی کی۔ “ (فتاوی رضویہ جلد 10، صفحہ  351، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

حدیث کی ممانعت اس روزے کے بارے میں ہے جو رمضان کی نیت سے رکھا جائے۔ حاشیۃ السندی علی سنن ابن ماجہ میں ہے:

”أی لاتستقبلوہ بصوم یوم أو یومین وحملہ کثیر من العلماء علی أن یکون بنیۃ رمضان أو لتکثیر عدد صیامہ أو لزیادۃ احتیاطہ بأمر رمضان۔“

ترجمہ: رمضان کا استقبال ایک یا دو دن کے روزے رکھ کر نہ کرو۔کثیر علماء نے اس حدیث کا محمل یہ بیان فرمایا کہ یہ ممانعت تب ہے جبکہ رمضان کی نیت سے روزہ رکھا جائے یا رمضان کے روزوں کی تعداد میں زیادتی کی نیت کی جائے یا رمضان کے معاملے میں احتیاط کی نیت کی جائے۔ (حاشیۃ السندی علی سنن ابن ماجہ جلد 2، صفحہ  301، مطبوعہ بیروت)

مبسوط للامام السرخسی میں ہے:

”ولا خلاف انه يكره الصوم فيه بنية الفرض لقوله صلى الله عليه وسلم ”لا تقدموا رمضان بصوم يوم ولا يومين“ ولأنه حين نوى الفرض فقد اعتقد الفريضة فيما ليس بفرض، وذلك كاعتقاد النفلية فيما هو فرض“

ترجمہ: فرض کی نیت سے شک کے دن روزہ رکھنا مکروہ ہے، اس میں کسی کا بھی اختلاف نہیں ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان سے ایک یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو۔“ نیز جب اس دن کے روزے میں فرض کی نیت کی تو اس نے غیرِ فرض کیلئے فرض کا اعتقاد رکھا، یہ ایسے ہی ناجائز ہے جیسے کسی فرض کے بارے میں نفل کا اعتقاد رکھا جائے۔ (مبسوط للامام السرخسی جلد 3، صفحہ 68، مطبوعہ بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0222
تاریخ اجراء: 24 شعبان المعظم1447ھ/13 فروری 2026 ء