logo logo
AI Search

روزے میں ڈائلیسس کروانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

روزے کی حالت میں ڈائلیسس کروانے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ روزے کی حالت میں مریض کا ڈائلیسس کروانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟

جواب

ڈائلیسِس دو بنیادی طریقوں سے کیا جاتا ہے، اور روزے کے فاسد ہونے اور نہ ہونے کا حکم طریقۂ علاج پر موقوف ہے:

1(ہیمو ڈائلیسِس (Hemodialysis):

ہیمو ڈائلیسِس گردوں کے فیل ہو جانے کی صورت میں خون صاف کرنے کا ایک معروف اور عام طبی طریقہ ہے۔ اس طریقے میں مریض کے خون کو جسم سے عارضی طور پر باہر نکال کر ایک خاص مشین کے ذریعے صاف کیا جاتا ہے اور پھر صاف شدہ خون دوبارہ جسم میں واپس لوٹا دیا جاتا ہے۔ ہیمو ڈائلیسِس کے لیے سب سے پہلے مریض کے بازو میں جراحی کے ذریعے خون کی نالیوں کو آپس میں جوڑ کر ایک خاص راستہ بنایا جاتا ہے، جسے فِسٹولا (Fistula) کہا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں فِسٹولا کے بجائے گرافٹ (Graft) لگایا جاتا ہے، اور ہنگامی یا وقتی ضرورت کے مطابق گردن یا سینے کی بڑی رگ میں کیتھیٹر(Catheter) ڈال دیا جاتا ہے۔ یہ تمام راستے صرف خون کے آنے جانے کے لیے ہوتے ہیں۔ ڈائلیسِس کے دوران ایک نالی کے ذریعے خون مریض کے جسم سے نکل کر ڈائلیسِس مشین میں داخل ہوتا ہے۔ مشین کے اندر ایک خاص فلٹر ہوتا ہے جسے ڈائیلائزر کہا جاتا ہے، جو مصنوعی گردے کا کام کرتا ہے۔ اس فلٹر کے ذریعے خون میں موجود فاسد مادّے، زہریلے اجزاء، اضافی نمکیات اور زائد پانی الگ کر لیے جاتے ہیں اور دواؤں، کیمیاوی و غذائی مواد کا اضافہ کیا جاتا ہے۔ اس صفائی وغیرہ کے عمل کے بعد خون کو دوسری نالی کے ذریعے دوبارہ مریض کے جسم میں اسی رگ کے راستے واپس پہنچا دیا جاتا ہے۔ اس پورے عمل میں خون کا نظام صرف رگ(Vein) سے مشین اور مشین سے واپس رگ (Vein) تک محدود رہتا ہے۔ نہ خون کسی اندرونی عضو ،مثلاً معدہ یا دماغ میں داخل کیا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی دوا یا مائع کو کسی منفذ کے ذریعے جسم کے اندرونی خلا تک پہنچایا جاتا ہے۔

حکمِ روزہ:

اس ہیمو ڈائلیسِس (Hemodialysis) کے عمل سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، کیونکہ اس سے کوئی چیز منفذ (ایسا راستہ جس سےداخل ہونے والی چیز معدے یا دماغ تک پہنچتی ہو) سے جسم کے اندر نہیں جاتی اور نہ ہی معدہ یا دماغ میں داخل ہوتی ہے۔

2( پیریٹونیل ڈائلیسِس (Peritoneal Dialysis):

پیریٹونیل ڈائلیسِس (Peritoneal Dialysis) گردوں کے فیل ہونے کی صورت میں خون صاف کرنے کا ایک دوسرا طبی طریقہ ہے۔ اس میں مریض کے پیٹ کو چیر کر ایک مستقل نلکی (Catheter) ڈالی جاتی ہے جو پیٹ کے اندر معدے سے متصل بیرونی جھلّی (Peritoneum) تک پہنچتی ہے۔ اس نلکی کے ذریعے ایک خاص قسم کا مائع (جسے ڈائلیسِس فلوئڈ (Dialysis Fluid) کہا جاتا ہے)، پیٹ کے اندرونی حصے میں داخل کیا جاتا ہے۔ یہ مائع کچھ وقت تک پیٹ کے اندر رہتا ہے، اس دوران خون میں موجود فاسد مادّے، اضافی نمکیات اور زائد پانی پیریٹونیل جھلّی کے ذریعے اس مائع میں منتقل ہو جاتے ہیں، پھر اس مائع کو باہر نکال لیا جاتا ہے۔

حکمِ روزہ:

پیریٹونیل ڈائلیسِس (Peritoneal Dialysis) کے بیان کردہ طریقہ کار سے واضح ہوا کہ یہ دوا پہنچانے کا ایسا عمل ہے جو پیٹ کے زخم میں دوا پہنچانے کی طرح ہے، اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے مذہب پر اس کا حکم فسادِ صوم اور قضا کا واجب ہونا ہے، لہٰذا پیریٹونیل (Peritoneal Dialysis) ڈائلیسِس سے روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس روزے کی قضا لازم ہو گی، البتہ کفارہ نہیں ہوگا۔ بدن میں کوئی چیز پہنچانے سے روزہ ٹوٹنے کا معیار اور اُصول بیان کرتے ہوئے امام کمال الدین ابنِ ھُمَّام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 861ھ / 1456ء) لکھتےہیں:

و المفطر الداخل من المنافذ كالمدخل والمخرج لا من المسام الذي هو خلل البدن للاتفاق

ترجمہ: اور روزہ توڑنے والی چیز وہ ہے جو منافذ (داخل ہونے یا نکلنے کے عام راستے) کے ذریعے جائے، نہ کہ مسام کے ذریعے جو بدن کے خلل میں شمار ہوتے ہیں، اس پر فقہاء کا اتفاق ہے۔ (فتح القدیر، جلد 2، صفحہ 332، مطبوعہ دار الفکر لبنان)

منفذ کے ذریعے کوئی چیز معدے میں نہ جائے، توروزہ نہیں ٹوٹے گا، چنانچہ علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:

و إن وجد طعمه في حلقه أي طعم الكحل أو الدهن كما في السراج و كذا لو بزق فوجد لونه في الأصح بحر قال في النهر، لأن الموجود في حلقه أثر داخل من المسام الذي هو خلل البدن و المفطر إنما هو الداخل من المنافذللاتفاق على أن من اغتسل في ماء فوجد برده في باطنه أنه لا يفطر

ترجمہ: اور اگر اس نے اپنے حلق میں ذائقہ محسوس کیا، یعنی سرمہ یا تیل کا ذائقہ، جیسا کہ السراج میں ہے، اور اسی طرح اگر اس نے تھوکا اور اس میں اس کا رنگ پایا، تو صحیح قول کے مطابق (روزہ فاسد نہیں ہوتا)۔ بحر میں یہی بیان کیا گیا ہے۔ نہر میں فرمایا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو چیز حلق میں پائی گئی وہ جسم کے مسام (باریک سوراخوں) کے ذریعے اندر پہنچی ہے، جو بدن کے خلل میں سے ہیں، اور روزہ توڑنے والی چیز وہی ہے جو (طبعی) منافذ کے ذریعے داخل ہو۔ اس پر اتفاق ہے کہ جو شخص پانی میں غسل کرے اور اپنے باطن میں اس کی ٹھنڈک محسوس کرے تو اس کا روزہ فاسد نہیں ہوتا۔ (رد المحتار مع در مختار، جلد 2، صفحہ 396، مطبوعہ دار الفکر بیروت)

شرح مختصر الکرخی میں ہے:

أما ما وصل إلى الجوف، فإنه يفطر عند أبي حنيفة بكل حال، لأنه ينافي الامساك، و الصوم هو الامساك ، ولا فرق بين أن يصل إلى الجوف من الفم، أو من غيره من المخارق المعتادة مثل الحقنة؛ لأنها تصل إلى الجوف (لا من الفم)۔۔۔۔۔۔ و أما ما وصل إلى الجوف أو إلى الدماغ من غير المخارق المعتادة، مثل أن يصل من جراح، فإنه يفطر عند أبي حنيفة ۔۔۔۔۔له: أن الفطر يتعلق بالواصل و المسلك، فإذا استوى في الواصل المعتاد و غير المعتاد، فكذلك في المسلك

ترجمہ: جو چیز جوفِ بدن تک پہنچ جائے وہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک ہر حال میں روزہ فاسد کر دیتی ہے، کیونکہ یہ امساک کے منافی ہے، اور روزہ کا معنیٰ ہی امساک ہے۔ اس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ چیز منہ کے راستے جوف تک پہنچے یا غیر معمولی راستوں سے، جیسے حقنہ، کیونکہ یہ بھی جوف تک پہنچتا ہے، اگرچہ منہ کے ذریعے نہیں۔۔۔ اور رہی وہ چیز جو غیر معمولی راستوں سے، مثلاً زخم کے ذریعے، جوفِ بدن یا دماغ تک پہنچے، تو وہ بھی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک روزہ فاسد کر دیتی ہے۔۔۔ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی دلیل یہ ہے کہ فسادِ صوم کا تعلق پہنچنے والی چیز اور اس کے راستے دونوں سے ہے، لہٰذا جب پہنچنے والی چیز میں معمول اور غیر معمول برابر ہو گئے تو اسی طرح راستے میں بھی دونوں برابر ہوں گے۔ (شرح مختصر الکرخی، جلد 2، صفحہ 305، مطبوعہ دار اسفار الکویت)

فقہ العبادات علی المذہب الحنفی میں ہے:

فهذه الأفعال كلها مفطرة لكن لا توجب الكفارة لعدم تمام الجناية۔۔۔۔۔۔۔ إن داوى جائفة، و هي الجراحة في البطن، أو آمة، و هي الجراحة بالرأس، بدواء و وصل إلى جوفه أو دماغه

ترجمہ: یہ تمام افعال روزہ توڑنے والے ہیں، لیکن مکمل جنایت نہ ہونے کی وجہ سے ان پر کفّارہ لازم نہیں ہوتا۔۔۔۔۔ (مثلاً) اگر کسی شخص نے پیٹ کے زخم کا علاج کیا، جسے جائفہ کہا جاتا ہے، یا سر کے زخم کا علاج کیا، جسے آمَّہ کہا جاتا ہے، اور دوا اس کے جوفِ بدن یا دماغ تک پہنچ گئی(تواس صورت میں روزہ فاسد ہو جائے گا)۔ (فقہ العبادات علی المذہب الحنفی، صفحہ 133، مطبوعہ بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: عبدالرب شاکرعطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری

فتویٰ نمبر: FAM-1003
تاریخ اجراء: 23رجب المرجب1445 ھ/13جنوری2026ء