
یہ جملہ کہنے کا حکم کہ وہاں نہ آدم تھا نہ آدم زاد
سوال: آج کل ایک جملہ بہت عام ہے کہ لوگ کسی ایسی جگہ جائیں جو ہمیشہ سنسان ہی رہتی ہو یا بھیڑ والی جگہ کبھی کسی موقع پر سنسان ہو جائے ،تو اس طرح کے موقع پر لوگ اس کے سنسان ہونے کو بیان کرنے کے لئے کہتے ہیں : ”وہاں نہ آدم تھانہ آدم زاد “اس جملے کے متعلق حکمِ شرعی کیا ہے؟
نابالغ سے پانی لے کر وضو کرنے کا حکم
جواب: حالت حاجت مطلقاً اور بے حاجت حسبِ روایت امام محمد اُن کو جائز ہے کہ اُس سے بھروائیں اور اپنے صرف میں لائیں، باقی صورتوں میں اُن کو بھی روا نہیں مگر وہ...
جواب: حکم دیا گیا ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار، جلد9،صفحہ 598۔599، مطبوعہ :بیروت) وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَا...
مقیم نے عشا کی نماز قصر پڑھی، تراویح و وتر کے بعد مقیم ہونا یاد آیا تو کیا حکم ہے؟
جواب: حالتِ اقامت میں عشا کی نماز دورکعت ادا کرنے ، نیز تراویح اور وتر پڑھنے کے بعد یاد آیا کہ میں مقیم ہوں ،تو اس صورت میں فرض دوبارہ پڑھنا ضروری ہے اور وق...