
کیا مسجد حرام کے علاوہ حدود حرم میں بھی نیکی و گناہ ایک لاکھ کے برابر ہے ؟
جواب: حکم ہے۔ خود نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بصراحت شہرِ مکہ میں ایک رمضان اور اُس کے روزوں کو ایک لاکھ رمضان کے مہینوں ...
جواب: دم الخنزیر ، فتقول اللہ یقبل لہ صلاة“ترجمہ:جو جوا کھیلے پھرنمازکے لیےکھڑاہوتواس کی مثال اس شخص کی طرح ہےجوپیپ اور خنزیرکےخون سےوضوکرتاہے،تو تُویہ کہےگ...
ناسمجھ بچے کو مسجدالحرام اورمسجد نبوی میں لے کرجانا
جواب: حکمِ شرعی یہ ہے کہ ایسے ناسمجھ بچے جن سے نجاست کا غالب گمان ہو، اُنہیں مسجد میں لانا مکروہِ تحریمی یعنی ناجائز و گناہ ہے اور ایسے ناسمجھ بچے جن سے ...
کیا اسلام ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے ؟
جواب: حکمی او را نہ از لادینی است نے فروغش از خطِ لاطینی است قوتِ افرنگ از علم و فن است از ہمیں آتش چراغش روشن است حکمت از قطع و بریدِ جامہ نیست مانعِ ...
دادا کی وراثت میں یتیم پوتے کا حصہ
جواب: حکم دیا گیا ہے، یہ دینا مستحب ہے۔۔۔ اس مستحب حکم پر یوں بھی عمل ہوسکتا ہے کہ بعض اوقات کوئی بیٹا یتیم بچے چھوڑ کر فوت ہوجاتا ہے اور اس کے بعد باپ کا ا...
عورت کے لیے کیپ شال (cape shawl) اوڑھ کر نماز پڑھنا کیسا؟
سوال: سردی سے بچنے کے لیے خواتین سویٹر وغیرہ کے علاوہ کیپ شال (cape shawl) بھی استعمال کرتی ہیں، کیپ شال مختلف ڈیزائن کی ہوتی ہیں: (۱) بعض میں بازو ڈالنے کے لیے جگہ بنی ہوتی ہے، وہ بازو ڈال کر اوڑھ لی جاتی ہے اور (۲) بعض میں بازو ڈالنے کی جگہ نہیں ہوتی، وہ ویسے ہی کندھوں پر اوڑھ لی جاتی ہے، البتہ دونوں پلوؤں کو سامنے سے ٹِچ بٹن (Tich button) یا ہُک(Hook) کے ذریعے ملا دیا جاتا ہے، تو ایسی کیپ شالز اوڑھ کر سامنے سے بند کیے بغیر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
غیر موکدہ سنتیں پڑھتے ہوئے جماعت کھڑی ہوجائے ، تو کیا حکم ہے ؟
سوال: اگرمسجدمیں سنت غیرموکدہ جیسے عصریاعشاکی قبلیہ چاررکعت سنتیں پڑھ رہے ہوں اوروہاں پرعصریاعشا کی جماعت قائم ہوجائے، تویہ سنتیں چار کی بجائے دوپڑھ کرجماعت میں شامل ہوسکتے ہیں یانہیں ؟
جواب: دمع خزقہ‘‘ دال سے مُرادزیادت متصلہ ہے۔ میم سے مراد موت یعنی واہب وموہوب لہ دونوں میں سے کسی کا مرجانا۔ عین سے مراد عوض۔ خا سے مراد خروج یعنی ہبہ کا مل...
سودا ہونے کے بعد کرنسی کی قیمت میں کمی زیادتی کا شرعی حکم
سوال: ہمارا ایکسپورٹ کا کام ہے۔ آج سے دو ماہ پہلے یورپ کی ایک پارٹی سے ہمارا یورو (Euro) میں سودا ہوا، اس وقت ایک یورو(Euro)پاکستانی 237 روپے کا تھا ، اس پارٹی نے آدھی پیمنٹ (Payment) یورو(Euro) کی صورت میں اسی وقت بھیج دی اور آدھی پیمنٹ (Payment) مال کی ڈیلیوری مل جانے کے بعد بھیجنے کا طے ہوا۔ مال کی ڈیلیوری مل جانے کے بعد جب وہ پارٹی پیمنٹ بھیجنے لگی تو ایک یورو (Euro) پاکستانی 276 روپے کا ہوگیا تھا ۔ مجھے اس پارٹی سے یورو(Euro) طے شدہ مقدار میں ہی وصول کرنے چاہیے یاکم وصو ل کرنے چاہیے تھے؟ میں نے طے شدہ مقدار میں ہی یورو (Euro) وصول کیے البتہ جب میں اسے پاکستانی کرنسی میں تبدیل کروانے گیا تو مجھے اب ایک یورو (Euro) کے پاکستانی 237 روپے کی بجائے276 روپے ملے ۔اس صورت میرے لیے کیا حکم ہے؟