
مسجد سے باہر صفوں کے درمیان فاصلہ ہو تو نماز کا حکم؟
جواب: چیز ضروری ہو، اس پر جائداد موقوفہ کی آمدنی خرچ کی جاسکتی ہے۔“ (حبیب الفتاوی، جلد 3، صفحہ 210، مطبوعہ لاہور) وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُو...
جواب: چیز پرہوتاہے،تو نکلنےوالی چیزکےتکرار سے وجوب بھی متکررہوگا۔(ردالمحتار،کتاب الزکاۃ،باب العشر،جلد3،صفحہ313،مطبوعہ کوئٹہ) (3)زمین کی کل پیداوارپرعشر ...
دوکاندار کا دو نمبر چیز ایک نمبر کہہ کر فروخت کرنا کیسا ؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسٹمر دوکان دار سے آ کر ،اوریجنل چیز مانگتا ہے اور دوکان دار، اسے دو نمبر چیز ایک نمبر ،اوریجنل بتا کے بیچ دیتا ہے تودوکان دار کا اس طرح کرنا کیسا ؟ سائل: رانا تجمل حسین(لاہور،کینٹ)
کیا نبی پاک کو معراج کا دلہا کہنا درست ہے؟
جواب: چیزوں کو دُلہا اور دُلہن کے ساتھ تشبیہ دینے کا ثبوت کئی احادیث سے بھی ہے۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو’’دُلہا‘‘ کہنے کے ...
خاکِ شفا کیا ہے اور اسے استعمال کرنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب: چیز کو مدینہ سے جدا کرنا ،گوارا نہیں کرتے ہیں لہٰذا جائز ہونے کے باوجو د وہاں کی خاک وغیرہ نہ لانا بہتر ہے۔ حکیم الامت مفتی احمد یارخان نعیمی رحم...
جس پر دَم لازم ہو اور وہ دَم دینے پر قادر نہ ہو، تو کیا حکم ہے
جواب: چیز دینا جائز نہیں۔جیسا کہ مناسک ملا علی قاری میں ہے : ” اذا فعل شیئا من ذلک علی وجہ الکمال ای مما یوجب جنایۃ کاملۃ بان لبس یوما او طیب عضوا کاملا ونح...
دنیا میں اللہ پاک کا دیدار ممکن ہے یا نہیں؟
جواب: چیز ممکن پر موقوف ہو وہ بھی ممکن ہوتی ہے۔ امام ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نسفی رحمۃ اللہ علیہ ﴿ قَالَ رَبِّ اَرِنِیۡۤ اَنۡظُرْ اِلَیۡکَ ﴾کے تحت ...
اللہ پاک کو رام، بھگوان، ایشور اور گاڈ کہنے کا حکم
جواب: چیز پر رما ہونے اور سرایت وحلول پر دلیل ہے۔“(فتاوٰی رضویہ،جلد15،صفحہ307،رضافاؤنڈیشن، لاہور) مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”...
ایک روپے کی چیز دس روپے میں بیچنا کیسا؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ کیا ایک روپے کی چیز دس روپے میں بیچنا جائز ہے؟ سائل:محمدمحسن عطّاری(مرکز الاولیاء،لاہور)
سوال: کچھ لوگ اپنی زندگی میں کسی نیک کام سے متعلق وصیت کر جاتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد ان کا مال فلاں نیک کام مثلا : مسجد مدرسے ، دینی طالبِ علم یا کسی غریب یتیم کی مدد میں خرچ کر دیا جائے ، پوچھنا یہ ہے کہ کیا اسلام ہمیں اس چیز کی اجازت دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی میں ہی اپنے مال کے بارے میں کوئی وصیت کر جائیں کہ ہمارے فوت ہونے کے بعد ہمارا یہ مال کسی نیک کام میں یا صدقہ جاریہ کے طور پر خرچ کر دیا جائے ؟ اگر اسلام اس کی اجازت دیتا ہے، تو اس کی مقدار کیا ہے ؟ یعنی کس حد تک ہم اپنے مال سے وصیت کر سکتے ہیں ؟