
کمپنی کا ملازم کی میڈیکل انشورنس کروانا کیسا؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک پرائیویٹ کمپنی اپنے ملازموں کی خودبخودہیلتھ انشورنس کرواتی ہے،جس کے لیےملازم کوایگریمنٹ پردستخط وغیرہ نہیں کرنے پڑتے ،اس کی سیلری سے رقم بھی نہیں کٹتی،سارے معاملات کمپنی خودہی کرتی ہے ۔ہاں کمپنی ملازم کوایک فارم دیتی ہے ،جس پر ملازم طبی اخراجات لکھ کرکمپنی کودیتاہے اورپھرکمپنی اس کے مطابق انشورنس کمپنی سے رقم لے کربعینہ وہی رقم ملازم کودیتی ہے اوراس میں یہ بات بھی ہے کہ اگرملازم کمپنی کوطبی اخراجات والا فارم فل کرکے نہ دے، بلکہ اسے کہہ دے کہ میں نے اخراجات نہیں لینے توپھرکمپنی ایسے ملازم کی ہیلتھ انشورنس ہی نہیں کرواتی ۔اگرپہلے سے اس کانام انشورنس کمپنی میں لکھوادیاہوتوکمپنی اس کانام وہاں سے خارج کروادیتی ہے، جس وجہ سے نہ توکمپنی کورقم جمع کروانی پڑتی ہے اورنہ اس پرانشورنس کمپنی کوئی پرافٹ دیتی ہے ۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ: (1)کمپنی کاملازم کے نام کی ہیلتھ انشورنس کرواناکیساہے؟ (2) ملازم کے لیے اس صورت میں کیاحکم شرعی ہے ،یہ طبی اخراجات کافارم فل کرکے رقم لے سکتاہے یانہیں ؟
اللہ کے نام پر مانگنا اور ایسے کو دینا کیسا ؟
موضوع: اللّٰہ کے نام پر مانگنے اور دینے کا شرعی حکم
قربانی کا جانور خرید کر پھر بیچنا کیسا؟
جواب: حکم اس لیے ہے کہ اگرچہ پہلا جانور جس غنی نے نذر نہ مانی ہو،اس کے حق میں متعین نہیں ہوا تھا ،لیکن جب اس نے قربانی کے لیے جانور خریدا ،تو اس جانور کے ...
کیا نابالغ بچوں کا کھانا کسی دوسرے بالغ بچوں کوکھلا سکتے ہیں؟
جواب: حکم یہ ہے کہ وہ کھانا بچوں کی اپنی ملکیت میں رہے گا،اُس سے کوئی اور نہیں کھاسکتا،نہ بالغ نہ نابالغ،لہٰذا اس صورت میں معلمات کا کھانا لانے والے بچوں سے...
جس شخص کا مال کمپنی لے کر بھاگ جائے، تو کیا وہ شخص زکوٰۃ لے سکتا ہے؟
جواب: حکم میں ہے اورابن السبیل کایہی حکم ہے۔ فتح القدیرمیں ہے:’’ (قوله وابن السبيل) وهو المسافر۔۔۔ فيجوز له أن يأخذوإن كان له مال في وطنه لا يقدر عليه للحا...
شرعی مسافر نے دو کی بجائے ، چار رکعتیں پڑھ لیں ، تو اب نماز کا کیا حکم ہے ؟
سوال: شرعی مسافر نے قصداً یا سہواً دو کی جگہ چار رکعات فرض پڑھ لیں ،تو کیا حکم ہے؟ جبکہ دوسری رکعت پر قعدہ بھی کیا ہو۔
کیا والد کے ہوتے ہوئے ماموں کو حق پرورش حاصل ہوتا ہے؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ بعض معاملات کی وجہ سے میں نے تقریبا سولہ سال پہلے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تھی ، اس وقت میری سب اولاد چار سال یا اس سے کم ہی تھی ، میری بیوی اولاد کو لے کر اپنے میکے (لاہور )میں رہنا شروع ہو گئی اور کچھ عرصے بعد اس کا انتقال ہو گیا اور بچوں کی ساری دیکھ بھال بچوں کے ماموں کرتے رہے ، اب مجھے کسی نے بتایا ہے کہ لڑکا سات سال کی عمر میں اور لڑکی نو سال کی عمر میں پہنچ جائے تو والد پر لازم ہوتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کو اپنے پاس رکھے اور ان کی تربیت کرے ۔میں انہیں لینے کے لیے گیا تو ان کے ماموں واپس کرنے سے منع کر رہے ہیں اورمیرے بچے ( بیٹا 20، اور بیٹیاں 17,18سال کی ہیں ) بھی ساتھ آنے پر راضی نہیں ہیں ، اب میرے لیے شریعت میں کیا حکم ہے ؟نیز کیا ان کی شادیوں کی ذمہ داری مجھ پر ہے؟