ماں کے دودھ کی قسم کھانا اور اس پر کفارہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ماں کے دودھ کی قسم کھائی تواس کے خلاف کرنے پرکفارہ ہوگا یانہیں؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
میرے شوہر نے مجھے کہا کہ "میں اپنی امی کے دودھ کی قسم کھاتا ہوں کہ تمہارے ساتھ نہیں رہوں گا"، اس کے بعد وہ میرے ساتھ رہ رہے ہیں، تو ان کی قسم کا کیا حکم ہے؟ کیا کفارہ ادا کرنا ہوگا؟
جواب
آپ کے شوہر مذکورہ الفاظ "میں اپنی امی کے دودھ کی قسم کھاتا ہوں" کے ذریعے قسم کھانے سے گنہگار ہوئے، ان پر توبہ لازم ہے، بقیہ ان الفاظ کی وجہ سے ان پر کوئی کفارہ نہیں ہے اور وہ آپ کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔ البتہ! ان کو آئندہ غیر اللہ کی قسم اٹھانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اس میں تفصیل یہ ہے کہ:
اللہ پاک کے نام، اور اس کی صفات کے علاوہ، کسی اور ذات مثلاً: والدین، اولاد، شوہر اور بیوی وغیرہ، یونہی کسی عبادت مثلاً نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ، اسی طرح کسی مقام مثلاً: کعبۃ اللہ وغیرہ کی قسم کھانا، ناجائز اور گناہ ہے، کیونکہ یہ غیرِ خدا کی قسم ہے۔ اس کی حکمت علمانے یہ بیان فرمائی ہے کہ: "بندہ جب کسی چیز کی قسم کھاتا ہے، تو قسم محلوف بہ یعنی جس کی قسم کھائی جائے، اس کی تعظیم کا تقاضا کرتی ہے، اور قسم جس اعلیٰ ترین تعظیم کا تقاضا کرتی ہے، اس کی حق دار ذات صرف اور صرف اللہ پاک کی ہے، اس کے مشابہ کوئی نہیں۔
غیرِ خدا کی قسم کے ناجائز ہونے کے جزئیات:
حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنے والد کی قسم کھانے سے منع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’ان اللہ ينهاكم ان تحلفوا بآبائكم، من كان حالفا فليحلف بالله او ليصمت ‘‘ترجمہ: بے شک اللہ پاک تمہیں اپنے باپ کی قسم کھانے سے منع فرماتا ہے، جو شخص قسم کھائے، تو وہ اللہ کی قسم کھائے یا چُپ رہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب لا تحلفوا بآبائکم، ج 2، ص983، مطبوعہ: کراچی)
اس ممانعت کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اپنا عمل بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ’’فواللہ ما حلفت بها منذ سمعت رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم ذاكرا ولا آثرا‘‘ ترجمہ:اللہ کی قسم! جب سے میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، تب سے میں نے نہ اپنی طرف سے اور نہ ہی کسی دوسرے سے نقل کرتے ہوئے اس طرح کی قسم کھائی ہے۔ (صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب لا تحلفوا بآبائکم، ج 2، ص 983، مطبوعہ :کراچی)
اللہ پاک کے نام اور صفات کے علاوہ کسی اور ذات ،عبادت یا مقام کی قسم کھانے کی ممانعت اور ایسی قسم کا حکم بیان کرتے ہوئے علامہ ابوبکر کاسانی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اما اليمين بغير اللہ ۔۔وهواليمين بالآباء والابناء والانبياء والملائكة صلوات اللہ عليهم والصوم والصلاة وسائر الشرائع والكعبة والحرم وزمزم والقبر والمنبر ونحو ذلك، ولا يجوز الحلف بشيء من ذلك لما ذكرنا۔۔ولو حلف بذلك لا يعتد به ولا حكم له اصلا‘‘ ترجمہ: بہر حال غیر اللہ کی قسم کھانا: اور وہ باپ، بیٹوں، انبیاء اور فرشتوں (علیہم الصلوٰۃ والسلام)، روزے، نماز اور دیگر دینی احکام، کعبہ، حرم، زمزم، قبر، منبر اور اس کی مثل دیگر اشیا کی قسم کھانا ہے، اور ان میں سے کسی بھی چیز کی قسم کھانا، جائز نہیں، اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا، اور اگر اس طرح کسی نے قسم کھا بھی لی، تو وہ قسم کھانے والا شمار نہیں ہوگا، اور اس قسم کا اصلاً کوئی حکم (کفارہ) نہیں ہوگا۔ (بدائع الصنائع، ج 3، ص 37، 36 مطبوعہ: کوئٹہ)
غیرِ خدا کی قسم کےناجائز ہونے کی حکمت بیان کرتے ہوئے علامہ عینی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’ والحكمة في النهي عن الحلف بالآباء انه يقتضي تعظيم المحلوف به وحقيقة العظمة مختصة بالله جلت عظمته، فلا يضاهي به غيره، وهكذا حكم غير الآباء من سائر الاشياء‘‘ ترجمہ: اور آباء و اجداد کی قسم کھانے سے منع کرنے میں حکمت یہ ہے کہ بے شک قسم محلوف بہ (جس کی قسم کھائی جائے، اس) کی تعظیم کا تقاضا کرتی ہے، اور حقیقی عظمت اللہ پاک کے ساتھ خاص ہے، جس کی شان بلند و بالا ہے، پس کوئی اور اس کے مشابہ نہیں، اور یہی حکم باپ کے علاوہ دیگر اشیاکی قسم کھانے کا بھی ہے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، ج 23، ص 175، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
اسی حکمت کو بیان کرتے ہوئے علامہ ابو بکر کاسانی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’لان هذا النوع من الحلف لتعظيم المحلوف وهذا النوع من التعظيم لا يستحقه الا اللہ تعالی‘‘ ترجمہ:کیونکہ قسم کی یہ صورت محلوف (جس کی قسم کھائی جائے،اس) کی تعظیم کے لیے ہوتی ہے اور اس طرح کی تعظیم کی حق دار اللہ پاک ہی کی ذات ہے۔ (بدائع الصنائع،ج 3، ص 17، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو شاھد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5012
تاریخ اجراء: 27 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 15 مئی 2026ء