logo logo
AI Search

کھانا نہ کھانے کی قسم کھائی تو پاپڑ کھانے سے قسم کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کھانا نہ کھانے کی قسم اٹھائی اور پاپڑ کھا لئے تو قسم کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی نے قسم کھائی ہو کہ وہ کھانا نہیں کھائے گی اور انہوں نے کھانے کی چیزیں کھالیں مثلا پاپڑ وغیرہ تو کیا قسم ٹوٹ جائے گی؟ حالانکہ قسم کھاتے وقت نیت یہ کی تھی کہ میں صرف کھانا نہیں کھاؤں گی باقی دیگر چیزیں کھالوں گی۔

جواب

اس صورت میں ان کی قسم نہیں ٹوٹے گی، یعنی وہ حانث نہیں ہوں گی، کیونکہ پاپڑ وغیرہ کھانے کو ہمارے عرف میں کھانا کھانا نہیں کہا جاتا اور قسم کا مدار عرف پر ہوتا ہے اور دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ الفاظ کہتے ہوئے ان کی نیت بھی یہ تھی کہ میں صرف کھانا نہیں کھاؤں گی، باقی چیزیں کھالوں گی تو ان کی نیت کے اعتبار سے بھی وہ پاپڑ وغیرہ کھانے کی وجہ سے حانث نہیں ہوں گی۔

فتاوی عالمگیری میں ہے: "الأصل أن الالفاظ المستعملۃ فی الأیمان مبنیۃ علی العرف عندنا کذا فی الکافی" ترجمہ: اصل یہ ہے کہ ہمارے نزدیک قسم میں استعمال ہونے والے الفاظ کی بنا عرف پر ہوتی ہے، کافی میں اسی طرح ہے۔ (فتاوی عالمگیری، ج 2، ص 75، مطبوعہ کراچی)

اسی میں ہے: "و لو حلف لا یأکل طعاماً فإن ذٰلک یقع علی ما یؤکل علی سبیل الإدام مع الخبز ولا یقع علی الھلیلج و السقمونیا کذا فی البدائع" ترجمہ: اگر قسم کھائی کہ کھانا نہیں کھائے گا تو اس سے مراد وہ کھانا ہو گا جو سالن کے ساتھ روٹی کھائی جاتی ہے، لہذا اگر اس نے ہڑ کھا لی یا اسہال کی دوا کھائی تو اس سے حانث نہیں ہو گا، بدائع میں اسی طرح ہے۔ (فتاوی عالمگیری، ج 2، ص 93، مطبوعہ کراچی)

اسی میں دوسرے مقام پر ہے: "و لو حلف لا یأکل طعاماً ینوی طعاماً بعینہ أو حلف لا یأکل لحماً ینوی لحماً بعینہ فأکل غیر ذٰلک لم یحنث کذا فی المبسوط" ترجمہ: اور اگر قسم کھائی کہ کھانا نہیں کھائے گا اور اس سے کوئی خاص کھانا مراد لیا، یا قسم کھائی کہ گوشت نہیں کھائے گا، اس سے کوئی خاص گوشت مراد لیا تو اس کے علاوہ دوسرا کھانا یا گوشت کھانے کی وجہ سے حانث نہیں ہو گا، مبسوط میں اسی طرح ہے۔ (فتاوی عالمگیری، ج 2، ص 93، مطبوعہ کراچی)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: "قسم کھائی کہ کھانا نہیں کھائے گا اور کوئی ایسی چیز کھائی جسے عرف میں کھانا نہیں کہتے ہیں، مثلاً دودھ پی لیا یا مٹھائی کھا لی تو قسم نہیں ٹوٹی۔" (بھار شریعت، ج 2، ح 9، ص 339، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: "قسم کھائی کہ گوشت نہیں کھائے گا اور کسی خاص گوشت کی نیت ہے تو اس کے سوا دوسرا گوشت کھانے سے قسم نہیں ٹوٹے گی، یوہیں قسم کھائی کہ کھانا نہیں کھائے گا اور خاص کھانا مراد لیا تو دوسرا کھانا کھانے سے قسم نہ ٹوٹے گی۔" (بھار شریعت، ج 2، ح 9، ص 336، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی

فتوی نمبر: Pin-7184

تاریخ اجراء: 28 شعبان المعظم 1444ھ/21 مارچ 2023ء