اگر میں یہ کروں تو مجھے شفاعت نہ ملنے کہنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
اگر میں یہ کام کروں تو آقا صلی اللہ علیہ و سلم کی شفاعت نصیب نہ ہو ایساکہنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
ایسے جملے بولنا ،اپنے حق میں بد دعا کرنا ہے، جو کہ درست نہیں، البتہ! اس جملے سے کوئی قسم منعقد نہیں ہو گی، ہاں! اس طرح کے برجملے بولنے سے توبہ کرے۔ فتاوی عالمگیری میں ہے "و لو قال: و عذاب اللہ، أو سخطه، أو غضبه ۔ ۔ ۔ لا يكون يمينا" ترجمہ: اور اگر کہا کہ (مجھ پر) اللہ کا عذاب یا اس کی ناراضی یا اس کاغضب ہو، تو یہ قسم نہیں۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 2، صفحہ 54، مطبوعہ: کوئٹہ)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ ”ایک شخص نے اپنی دوسری والدہ کے روبرو ہوش و حواس میں قسم کھائی کہ مجھ کو خداکا دیدار اور حضرت (صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم) کی شفاعت نصیب نہ ہو جو میں اپنے والد کی کمائی کا روپیہ یا جائداد موجودگی یا عدم موجودگی یا بعد وفات والد ماجد کے لوں جائداد میں یا ان کی کمائی میں، اب وہ شخص کسی طرح سے اپنے باپ کی جائداد یا کمائی کا روپیہ لے سکتا ہے یا نہیں؟“
آپ رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس کے جواب میں فرمایا: ”وہ جو اس نے کہاشرعاً قسم نہیں بلکہ اپنے حق میں بددعا ہے، اس کے سبب مال پدر سے لے لینا ناجائز نہ ہوگیا، لے سکتا ہے، اور ایسے برے لفظ سے توبہ کرے۔ ردالمحتارمیں ہے: علیہ غضبہ لایکون یمینا ایضالانہ دعاء علی نفسہ ۔ ۔ ۔ ۔ الخ۔“ (فتاوٰی رضویہ، ج 13، ص 508 - 507، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5419
تاریخ اجراء: 03 ربیع الآخر 1448ھ / 15 ستمبر 2026ء