قسم بار بار ٹوڑنے پر کتنے کفارے دینے ہونگے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قسم بار بار ٹوٹے تو کتنے کفارے لازم ہوں گے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائی، مثلا: خدا کی قسم میں یہ کام کروں گا، یا یوں کھائی کہ خدا کی قسم میں یہ کام نہیں کروں گا، تو اگر وہ قسم بار بار ٹوٹے، تو کیا ہر بار کفارہ لازم ہو گا، یا فقط ایک دفعہ لازم ہوگا؟ نیز آج کل کفارے کا کیا ریٹ ہے؟
جواب
اگر قسم میں تکرار نہیں ہوئی، ایک ہی مرتبہ قسم کھائی، اور اس کے الفاظ بھی عموم والے نہیں تھے، تو ایسی صورت میں خلاف ورزی پر بس ایک ہی کفارہ لازم ہوگا، اور اس کے بعد خلاف ورزی پائی گئی، تو مزید کفارہ لازم نہیں ہوگا، کہ جب ایک مرتبہ خلاف ورزی پائی گئی، تو ایک کفارہ لازم ہوا، اور پھر قسم کا حکم ختم ہو گیا، یعنی اب اگر بعد میں وہی کام کیا، تو اسے قسم ٹوٹنا نہیں کہا جائے گا، اور اس کی وجہ سے مزید کفارہ بھی لازم نہیں ہوگا۔
اور اگر قسم میں تکرار ہوئی مثلا یوں کہا: خدا کی قسم، پروردگار کی قسم یہ کام نہیں کروں گا، یا یوں کہا کہ خدا کی قسم یہ کام کبھی نہیں کروں گا، پھر دوبارہ (اسی مجلس میں یا دوسری مجلس میں) کہا: خدا کی قسم یہ کام کبھی نہیں کروں گا، تو اس طرح قسم متعدد ہو جائے گی، اور اس صورت میں فقط ایک مرتبہ خلاف ورزی کرنے پر، اتنے ہی کفارے لازم ہوں گے، جتنی قسمیں ہوں گی۔ اور اگر عموم والے الفاظ ادا کیے، مثلا کہا کہ: "جب جب یہ کام کروں تو تب تب یہ چیز مجھ پر لازم ہو۔" تو ایسی صورت میں جب جب خلاف ورزی پائی جائے گی، تب تب قسم ٹوٹے گی، اور اس کے مطابق حکم لگے گا۔
قسم کا کفارہ:
قسم کا کفارہ: (الف) دس شرعی فقیروں کو ایسے کپڑے دینا، جن کو متوسط درجے کے لوگ پہنتے ہوں، اور تین مہینے سے زیادہ چلیں اور اکثر بدن ڈھانپ لیں (ب) یا صبح شام دو وقت کا درمیانے درجے کا پیٹ بھر کر کھانا کھلانا، (ج) یا ایک ایک صدقہ فطر کی مقدار (یعنی دو کلو سے 80 گرام کم گندم یا اس کا آٹا یا اس کی رقم جو بھی وہاں بنتی ہے) دس فقیروں کو دینا ہے، اور اگر ایک ہی فقیر کو دینا چاہیں، تو دس دنوں میں دیں، بیان کردہ تینوں چیزوں میں اختیار ہے کہ ان میں سے جو چاہے کرے۔ (د) اور اگر ان میں سے کسی پر قدرت نہ ہو، تو کفارے کے لگا تار تین روزے رکھنا لازم ہیں۔
تنوير الابصار مع درمختار میں ہے "(فلو فعل) المحلوف علیہ (مرۃ) حنث و (انحلت الیمین۔۔۔ فلو فعلہ مرۃ اخری لایحنث) الا فی کلما)" ترجمہ: پس اگر اس نے محلوف علیہ (جس پر قسم اٹھائی تھی) فعل ایک دفعہ کر لیا، تو وہ حانث ہو جائے گا اور اس کی قسم ختم ہو جائے گی، پس اگر اس نے دوبارہ وہ کام کیا تو وہ حانث نہیں ہوگا، مگر جب قسم میں کلما (جب جب) ہو، (کہ اس صورت میں وہ ہر بار حانث ہوگا)۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 5، صفحہ 710، مطبوعہ: کوئٹہ)
در مختار ميں ہے "تتعدد الكفارة لتعدد اليمين، والمجلس والمجالس سواء" ترجمہ: متعدد قسمیں اٹھانے سے متعدد کفارے لازم ہوں گے، اور اس میں ایک مجلس اور مختلف مجالس برابر ہیں (چاہے ایک مجلس میں متعدد قسمیں اٹھائے یا مختلف مجالس میں)۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 5، صفحہ 710، مطبوعہ: کوئٹہ)
فتاوی عالمگیری میں ہے "ولو قال: واللہ والرحمن لا أفعل كذا ففعل فعليه الكفارتان۔۔۔ إذا حلف الرجل على أمر لا يفعله أبدا ثم حلف في ذلك المجلس ومجلس آخر لا أفعله أبدا ثم فعله كانت عليه كفارة يمينين" ترجمہ: اور اگر اس نے کہا: اللہ کی قسم اور رحمن کی قسم! میں ایسا نہیں کروں گا پھر کر لیا تو اس پہ دو کفارے واجب ہیں، جب کسی شخص نے کسی معاملے پر قسم اٹھائی کہ وہ کبھی یہ کام نہیں کرے گا پھر اس نے اسی مجلس یا دوسری مجلس میں دوبارہ قسم اٹھائی کہ میں ایسا کبھی نہیں کروں گا، پھر اس نے وہ کام کر لیا تو اس پہ دو قسموں کا کفارہ لازم ہو گا۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 2، صفحہ 56، مطبوعہ: کوئٹہ)
اسی حوالے سے بہار شریعت میں یوں ہے "اگر کسی کام کی چند قسمیں کھائیں اور اوس کے خلاف کیا تو جتنی قسمیں ہیں اوتنے ہی کفارے لازم ہوں گے مثلاً کہا کہ و ﷲ با ﷲ میں یہ نہیں کروں گا یا کہا خدا کی قسم، پروردگار کی قسم تو یہ دو قسمیں ہیں۔ کسی کام کی نسبت قسم کھائی کہ میں اسے کبھی نہ کرونگا پھر دوبارہ اوسی مجلس میں قسم کھا کر کہا کہ میں اس کام کو کبھی نہ کروں گا پھر اوس کام کو کیا تو دو کفارے لازم۔" (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 9، صفحہ 303، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
قسم کے کفارے کے متعلق جزئیات:
اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ﴿لَا یُؤَاخِذُكُمُ اللّٰهُ بِاللَّغْوِ فِیْۤ اَیْمَانِكُمْ وَ لٰـكِنْ یُّؤَاخِذُكُمْ بِمَا عَقَّدْتُّمُ الْاَیْمَانَۚ-فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍؕ-فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍؕ-ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْؕ-وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴾ ترجمہ کنز الایمان: اللہ تمہیں نہیں پکڑتا تمہاری غلط فہمی کی قسموں پر ہاں ان قسموں پر گرفت فرماتا ہے جنہیں تم نے مضبوط کیا تو ایسی قسم کا بدلہ دس مسکینوں کو کھانا دینا، اپنے گھر والوں کو جو کھلاتے ہو اس کے اوسط میں سے یا انہیں کپڑے دینا یا ایک بردہ (غلام) آزاد کرنا تو جو ان میں سے کچھ نہ پائے تو تین دن کے روزے، یہ بدلہ ہے تمہاری قسموں کا جب قسم کھاؤ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو اسی طرح اللّٰہ تم سے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم احسان مانو۔ (پارہ 7، سورۃ المائدۃ، آیت 89)
فتاوی عالمگیری میں ہے "وهي أحد ثلاثة أشياء إن قدر عتق رقبة يجزئ فيها ما يجزئ في الظهار أو كسوة عشرة مساكين ۔۔۔أو إطعامهم ۔۔۔فإن لم يقدر على أحد هذه الأشياء الثلاثة صام ثلاثة أيام متتابعات" ترجمہ: قسم کا کفارہ تین چیزوں میں سے کسی ایک چیز کو ادا کرنا ہے: اگر قادر ہو تو ایک غلام آزاد کرنا، جس غلام کو آزاد کرنا کفارہ ظہار میں کافی ہوتا ہے، وہی یہاں بھی کافی ہوگا۔ یا دس مسکینوں کو لباس پہنانا، یا انہیں کھانا کھلانا۔ پھر اگر ان تینوں میں سے کسی ایک کی بھی استطاعت نہ ہو تو مسلسل تین دن کے روزے رکھے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 2، صفحہ 61، مطبوعہ: کوئٹہ)
در مختار میں ہے "(وكفارته)۔۔۔ (تحرير رقبة أو إطعام عشرة مساكين)کمامرفی الظھار (أو كسوتهم بما) يصلح للأوساط وينتفع به فوق ثلاثة أشهر، و (يستر عامة البدن)۔۔۔ (وإن عجز عنها) ۔۔۔(صام ثلاثة أيام ولاء)" ترجمہ: اور قسم کا کفارہ ایک غلام آزاد کرنا، یا دس مسکینوں کو کھانا کھلانا، جیسا ظہار میں گزرا، یا انہیں ایسے کپڑے پہنانا جو متوسط درجے کے لوگوں کے مناسب ہوں، اور تین ماہ سے زیادہ کے لیے قابل انتفاع ہوں، اور عام بدن کو چھپا لیں، اور اگر وہ ان سب سے عاجز ہو تو لگاتار تین روزے رکھے۔
"عامۃ البدن" کے تحت رد المحتار میں ہے "أي أكثره" ترجمہ: یعنی کپڑے ایسے ہوں کہ اکثر بدن کو چھپا لیں۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 5، صفحہ 523،524،526، مطبوعہ: کوئٹہ)
رد المحتار ميں ہے "فالشرط في طعام الإباحة أكلتان مشبعتان لكل مسكين" ترجمہ: طعامِ اباحت میں ہر مسکین کو دو وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلانا شرط ہے۔ (رد المحتار، جلد 5، صفحہ 146، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے ”قسم کا کفارہ غلام آزاد کرنا یا دس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا اون کو کپڑے پہنانا ہے، یعنی یہ اختیار ہے کہ ان تین باتوں میں سے جو چاہے کرے۔۔۔ اور مساکین کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھلانا ہوگا اور جن مساکین کو صبح کے وقت کھلایا اونھیں کو شام کے وقت بھی کھلائے دوسرے دس مساکین کو کھلانے سے ادا نہ ہوگا۔۔۔۔ کپڑے سے وہ کپڑا مراد ہے جو اکثر بدن کو چھپا سکے اور وہ کپڑا ایسا ہو جس کو متوسط درجہ کے لوگ پہنتے ہوں اور تین مہینے سے زیادہ تک جا سکے۔“ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 9، صفحہ 305،306، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اسی میں ہے ”اگر غلام آزاد کرنے یا دس مسکین کو کھانا یا کپڑے دینے پر قادر نہ ہو، تو پے در پے تین روزے رکھے۔“ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 9، صفحہ 308، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5372
تاریخ اجراء: 20 ربیع الاول 1448ھ/03 ستمبر 2026ء