سجدہ شکر کی منت پوری کرنے کا حکم

سجدہ شکر کی منت مانی ہو تو اسے پورا کرنا لازم ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ (1)زید نے منت مانی کہ اگر اس کی فلاں جاب لگ گئی، تو وہ شکرانے کے سو سجدے کرے گا۔ اب اس کی وہ جاب لگ گئی ہے، تو کیا اب اس کے لیے یہ سو سجدوں کی منت پوری کرنا واجب ہے؟

(2)کیا سجدہٴ شکر ادا کرتے ہوئے بھی نماز کے سجدے کی طرح دونوں پاؤں کی انگلیوں میں سے کسی ایک کو زمین پر لگانا فرض اور دونوں کی تین تین انگلیاں لگانا واجب ہو گا؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

(1) پوچھی گئی صورت میں زید پر شکرانے کے سو سجدوں کی منت پوری کرنا واجب ہے، اس لیے کہ یہ منت ِ شرعی ہے، کیونکہ اس میں منتِ شرعی کی تمام شرائط موجود ہیں، وہ اس طرح کہ سجدہٴ شکر بذاتِ خود ایک عبادتِ مقصودہ ہے، اس کی جنس میں سے واجب (یعنی سجدہ تلاوت) بھی موجود ہے اور سجدہٴ شکر انسان پر بذاتِ خود واجب بھی نہیں، وغیرہ اور جب کسی منت میں منتِ شرعی کی شرائط جمع ہوں، تو اسے پورا کرنا لازم ہوتا ہے۔

سجدہ شکر کی منت مانی، تو اس کی ادائیگی لازم ہوگی۔ چنانچہ شیخ ہبۃ اللہ بعلی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:

”سجدة الشكر مستحبة وبه يفتى۔۔۔ وعلى هذا لو نذر سجد ة الشكر تجب“

ترجمہ: مفتی بہ قول کے مطابق سجدہ شکر مستحب ہے۔۔۔اس کے مطابق اگر کسی شخص نے سجدہ شکر کی منت مانی، تو اس پر سجدہ شکر واجب ہو جائے گا۔ (التحقیق الباھر شرح الاشباہ والنظائر، جلد7، صفحہ370، مطبوعہ کوئٹہ)

سجدہ شکر کے عبادت مقصودہ ہونے کے حوالے سے اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن ارشاد فرماتے ہیں: مقصودہ مشروطہ جیسے نماز و نمازِ جنازہ و سجدۂ تلاوت و سجدۂ شکر کہ سب مقصود بالذات ہیں اور سب کیلئے طہارتِ کاملہ شرط، یعنی نہ حدثِ اکبر ہو نہ اصغر۔ (فتاوی رضویہ، جلد3، صفحہ557، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

شرعی منت کی شرائط کے حوالے سے صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”شرعی منّت جس کے ماننے سے شرعاً اس کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے، اس کے لیے مطلقاً چند شرطیں ہیں۔ (۱) ایسی چیز کی منّت ہو کہ اس کی جنس سے کوئی واجب ہو۔(۲) وہ عبادت خود بالذات مقصود ہو، کسی دوسری عبادت کے لیے وسیلہ نہ ہو۔(۳) اس چیز کی منّت نہ ہو جو شرع نے خو د اس پر واجب کی ہو، خواہ فی الحال یا آئندہ۔“ (بہار شریعت، ج1، حصہ5، ص1015، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

(2) جی ہاں! سجدہٴ شکر میں بھی دونوں پاؤں کی انگلیوں میں سے کسی ایک انگلی کا پیٹ زمین پر لگانا فرض، دونوں پاؤں کی کم از کم تین تین انگلیوں کے پیٹ زمین پرلگانا واجب ہے اور دسوں انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگانا سنت ہے، کیونکہ شریعتِ مطہرہ میں یہ حکم سجدے کے بارے میں مطلقاً بغیر کسی سجدے کی تخصیص کے بیان فرمایا گیا ہے، لہذا سجدہٴ شکر بھی اس حکم میں داخل ہے۔ نیز اس حکمِ شرعی کی حکمت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ  سجدے کا مقصد اللہ رب العالمین کی تعظیم اور اس  کے حضور عاجزی و بندگی کا اظہار ہے، جبکہ دونوں پاؤں اٹھا کر سجدہ کرنا مسخرا پن ہے اور یہ چیز جس طرح سجدہ ٴ نماز میں ہوتی ہے، اسی طرح سجدہ شکر میں بھی پائی جاتی ہے۔

دونوں پاؤں اٹھا کر سجدہ کرنے سے مطلقا ًنفس ِسجدہ ہی متحقق نہ ہوگا، جیساکہ حلبی کبیر میں ہے:

”لايجوز مع رفعهما لعدم تحقق السجود الذي هو وضع الجبهة علي الارض معه۔۔ ثم المراد من وضع القدم وضع أصابعها“

 ترجمہ: دونوں (قدموں) کو اُٹھائے ہوئے سجدہ کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ اس صورت میں سجدہ کا تحقق ہی نہیں ہو گا، جو کہ پیشانی کے ساتھ ساتھ قدم کو زمین پر رکھنے کا نام ہے۔۔۔ پھر یہاں پاؤں رکھنے سے مراد انگلیاں رکھنا ہے۔ (حلبی کبیر، صفحہ 284/285، مطبوعہ کوئٹہ)

شرعی طور پر سجدہ کسے کہتے ہیں؟ اس حوالے سے بحرالرائق میں ہے:

”السجود فی الشریعۃ وضع بعض الوجہ مما لاسخریۃ فیہ، وخرج بقولنا "لا سخریۃ فیہ" ما إذا رفع قدمیہ فی السجود، فإنہ لایصح لإن السجود مع رفعھما بالتلاعب أشبہ منہ بالتعظیم والإجلال“

 ترجمہ: شریعت مطہرہ میں سجدہ "چہرے کے بعض حصے کو زمین پر  رکھنا ہے، جس میں مسخری کی صورت نہ ہو۔" ہمارے یہ کہنے سے کہ " جس میں مسخری کی صورت نہ ہو " وہ صورت نکل گئی کہ جب کوئی سجدے میں دونوں پاؤں اٹھالے، کہ یہ درست نہیں، کیونکہ پاؤں اٹھا کر سجدہ کرنا تعظیم و عزت کی بجائے کھیل تماشے کے زیادہ مشابہ ہوتا ہے۔ (البحرالرائق، جلد1، صفحہ 335، ملتقطاً، دار الکتاب الاسلامی، بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے: ”سجدے میں فر ض ہے کہ کم ازکم پاؤں کی ایک انگلی کا پیٹ زمین پر لگا ہو اور ہر پاؤں کی اکثر انگلیوں کا پیٹ زمین پر جما ہونا واجب ہے۔ “ (فتاوی رضویہ، جلد3، صفحہ253، رضافاؤنڈیشن، لاہور)

بہارشریعت میں ہے: ”سجدہ میں دونوں پاؤں کی دسوں انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا سنت ہے اور ہر پاؤں کی تین تین انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا واجب اور دسوں کا قبلہ رُو ہونا سُنت۔“ (بہار شریعت، جلد1، حصہ3، صفحہ530، مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب : مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر : pin-7683

تاریخ اجراء : 20جمادی الاولی1447ھ/10 نومبر2025ء