بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ کوئی اپنے ماں باپ کی زندگی کی قسم کھائے اور وہ قسم ٹوٹ جائے تو کیا کفارہ ہوگا؟
ماں باپ کی زندگی کی قسم، شرعی قسم نہیں ہے، لہذا اگریہ ٹوٹ جائے، تو اس پر کوئی کفارہ بھی لازم نہیں ہوگا، اور ایسی قسم کھانی بھی نہیں چاہیے۔
بدائع الصنائع میں ہے
”اما اليمين بغير اللہ۔۔۔ وهواليمين بالآباء والابناء والانبياء والملائكة صلوات اللہ عليهم والصوم والصلاة وسائر الشرائع والكعبة والحرم وزمزم والقبر والمنبر ونحو ذلك، ولا يجوز الحلف بشيء من ذلك لما ذكرنا۔۔۔ ولو حلف بذلك لا يعتد به ولا حكم له اصلا“
ترجمہ: بہر حال غیر اللہ کی قسم کھانا: اور وہ باپ، بیٹوں، انبیاء اور فرشتوں(علیہم الصلوٰۃ والسلام)، روزے، نماز اور دیگر دینی احکام، کعبہ، حرم، زمزم، قبر، منبر اور اس کی مثل دیگر اشیاء کی قسم کھانا ہے اور ان میں سے کسی بھی چیز کی قسم کھانا، جائز نہیں، اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا۔ اور اگر اس طرح کسی نے قسم کھا بھی لی، تو وہ قسم کھانے والا شمار نہیں ہوگا اور اس قسم کا اصلاً کوئی حکم(کفارہ) نہیں ہوگا۔ (بدائع الصنائع، جلد3، صفحہ36، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہارِ شریعت میں ہے "غیر خدا کی قسم قسم نہیں مثلاً تمھاری قسم، اپنی قسم، تمھاری جان کی قسم، اپنی جان کی قسم، تمھارے سرکی قسم، اپنے سرکی قسم، آنکھوں کی قسم، جوانی کی قسم، ماں باپ کی قسم، اولاد کی قسم، مذہب کی قسم، دین کی قسم، علم کی قسم، کعبہ کی قسم، عرش الٰہی کی قسم، رسول ﷲ کی قسم۔" (بہارِ شریعت، جلد2، حصہ9، صفحہ302، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4631
تاریخ اجراء: 22رجب المرجب1447ھ/12جنوری2026ء