منّت میں روزوں کی تعداد مقرر نہ کرنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
منت میں روزوں کی تعداد مقرر نہ کی تو کتنے روزے رکھے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کسی خاتون نے یہ منت مانی کہ میری یہ حاجت پوری ہو جائے، تو روزے رکھوں گی، لیکن روزوں کی کوئی تعداد فکس نہیں کی، اب اگر اس کی وہ حاجت پوری ہو جائے، تو کتنے روزے رکھے گی؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں اگر اس عورت کی وہ حاجت پوری ہوجاتی ہے، تو اس پر تین روزے رکھنا واجب ہوں گے۔
حاشیۃ الشلبی میں ہے
و قد ذكر أبو يوسف في الأمالي لو قال علي صيام يلزمه صوم ثلاثة أيام لأن ذلك أقل ما أوجبه اللہ تعالى في كفارة اليمين بقوله تعالى (فمن لم يجد فصيام ثلاثة ايام)
ترجمہ: امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ نے الامالی میں ذکر کیا ہے کہ اگر کسی نے کہا کہ مجھ پر روزے لازم ہیں، تو اس پر تین دن کے روزے لازم ہوں گے کیونکہ یہ سب سے کم ہیں جو اللہ تعالی نے قسم کے کفارے میں واجب کیے ہیں، اپنے اس فرمان کے ساتھ کہ تو جو نہ پائے وہ تین دن کے روزے رکھے۔ (حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق، جلد 3، صفحہ 110، مطبوعہ: القاهرة)
البحر الرائق میں ہے
و لو قال: لله علي صيام أيام لزمه صوم ثلاثة
ترجمہ: کسی نے کہا کہ اللہ کے لیے مجھ پر چند دن کے روزے لازم ہیں تو اس پر تین دن کے روزے لازم ہوں گے۔ (البحر الرائق، جلد 2، صفحہ 520، مطبوعہ: كوئٹہ)
بہارِ شریعت میں ہے: منّت مانی اور زبان سے منّت کو معین نہ کیا مگر دل میں روزہ کا ارادہ ہے تو جتنے روزوں کا ارادہ ہے اوتنے رکھ لے، اور اگر روزہ کا ارادہ ہے مگر یہ مقرر نہیں کیا کہ کتنے روزے تو تین روزے رکھے۔ ( بہارِ شریعت، جلد 2، حصہ 9، صفحہ 315، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4731
تاریخ اجراء: 29 رجب المرجب1447ھ/19 جنوری2026ء