logo logo
AI Search

کھانا کھلانے کی منت میں کتنے لوگوں کو کھلانا ہوگا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کھانا کھلانے کی منت مانی ہو تو کتنے لوگوں کو کھانا کھلانا ہوگا ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میں نے منت مانی تھی کہ میری بیٹی صحتیاب ہوگئی تو میں فقراء و مساکین کو کھانا کھلاؤں گا، اب اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے میری بیٹی صحتیاب ہو گئی ہے، تو اپنی منت پوری  کرنے کے لیے مجھے کتنے مساکین کو کھانا کھلانا ہو گا؟ منت مانتے وقت مساکین کی تعداد اور ایک یا دو وقت کھلانے کی کوئی نیت ذہن میں نہیں تھی۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں آپ پر یہ منت پوری کرنا واجب ہے اور اس کی ادائیگی کے لیے دس مساکین کو صبح شام دو وقت کا پیٹ بھر کر کھانا کھلانا، یا انہیں ایک ایک صدقہ فطر یا اس کی رقم دینا  لازم ہے۔

مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ اگر کسی شرط کے ساتھ کوئی عبادت اپنے اوپر لازم کرلی جائے، مثلا فلاں کام ہوگیا تو میں صدقہ کروں گا تو(دیگر شرائط کی موجودگی میں) وہ کام ہو جانے پر منت پوری کرنا لاز م ہوتا ہے، اور آپ نے بھی بیٹی کی صحتیابی پر مساکین کو کھانا کھلانے کی منت مانی تو اس کے شفایاب ہونے پر کھانا کھلانا لازم ہوگیا۔ لیکن چونکہ آپ کی منت میں مساکین کی تعداد و وقت کی کوئی صراحت یا نیت نہیں ہے، تو  ایسی مبہم منت کی ادائیگی میں شرعی طور پر قسم کے کفارےکا اعتبار ہوتا ہے، تاکہ بندے نے جو خود پر مساکین کا کھانا لازم کیا، وہ اللہ تعالی کے بیان کردہ مساکین کو کھلانے کے حکم کے مطابق ہو جائے  اور مساکین کو کھلانے کی کم سے کم مقدار قسم کے کفارے میں بیان فرمائی گئی ہے، جو کہ  دس فقراء کو دو وقت کا کھانا کھلانا یا پھر ان میں سے ہر ایک کو صدقہ فطر یا ا س کی رقم دینا ہے۔ لہذا آپ پر بھی دس فقراء کو دو وقت کا کھانا کھلانا یا صدقہ فطر دینا لازم ہے۔

عبادت کسی شرط پر معلق کی جائے تو وہ منتِ واجبہ کہلاتی ہے۔ فتاوی قاضیخان میں ہے:

”لو قال أنا أحرم اوأنا محرم أو أهدي أو أمشي إلى بيت الله إن فعلت كذا۔۔۔ إن نوى الإيجاب أو لم ينو شيئا، يلزمه ما ذكر“

ترجمہ: اگر کسی نے یہ کہا کہ اگر میں نے فلاں کام کیا تو میں احرام باندھوں گا یا میں مُحرِم ہوجاؤں گا یا میں ہدی پیش کروں گا یا میں اللہ کے گھر تک پیدل چل کر جاؤں گا۔۔۔تو اگر اس کی (ان میں سے کوئی کام اپنے اوپر)لازم کرنے کی نیت ہو یا کچھ بھی نیت نہ ہو، بہر صورت اس پر وہ کام لازم ہو جائے گا جس کا اس نے (منت میں )ذکر کیا۔ (فتاوی قاضیخان، ج 1، ص 544، مطبوعہ کراچی)

بہار شریعت میں ہے: ”اگر ایسی چیز پر معلق کیا کہ اوس کے ہونے کی خواہش ہے مثلاً اگر میرا لڑکا تندرست ہو جائے یا پردیس سے آجائے یا میں روزگار سے لگ جاؤں تو اتنے روزے رکھوں گا یا اتنا خیرات کروں گا ایسی صورت میں جب شرط پائی گئی یعنی بیمار اچھا ہوگیا یا لڑکا پردیس سے آگیا یا روزگار لگ گیا تو اوتنے روزے رکھنا یا خیرات کرنا ضرور ہے۔‘‘ (بہارِ شریعت، ج 2، حصہ 9، ص 314، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

مبہم منت کا حکم بیان کرتے ہوئے ملک العلماء امام علاؤ الدین کاسانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

’’وأما النذر الذي لا تسمية فيه فحكمه وجوب ما نوى، إن كان الناذر نوى شيئا۔۔۔وان لم تكن له نية فعليه كفارة اليمين، لقوله عليه الصلاة والسلام: "النذر يمين وكفارته كفارة اليمين"، والمراد منه النذر المبهم الذي لا نية للناذر فيه۔۔۔ولو نوى في النذر المبهم صياما ولم ينو عددا فعليه صيام ثلاثة أيام، وإن نوى طعاما ولم ينو عددا فعليه طعام عشرة مساكين، لكل مسكين نصف صاع من حنطة، لأنه لو لم يكن له نية لكان عليه كفارة اليمين، لما ذكرنا أن النذر المبهم يمين، وأن كفارته كفارة يمين بالنص“

ترجمہ: بہر حال وہ منت جس میں کچھ ذکر نہ کیا گیا ہوتو اس کا حکم یہ ہے کہ اگرمنت ماننے والے نے دل میں کسی چیز کی نیت کی ہو تو اسی کی ادائیگی واجب ہوگی۔۔۔اور اگر اس کی کوئی نیت نہ ہو تو اس پر قسم کا کفارہ لازم ہو گا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "منت بھی قسم ہی کی طرح ہے اور اس کا کفارہ، قسم کا کفارہ ہے۔" اس حدیث میں منت سے مراد ایسی مبہم منت ہے جس میں منت ماننے والے کی کوئی نیت نہیں ہوتی۔۔۔اگر کسی نے مبہم منت میں روزوں کی نیت کی لیکن کوئی تعداد نیت میں نہ تھی، تو اس پر تین روزے لازم ہوں گے، اور اگر کھانا کھلانے کی نیت کی لیکن کسی خاص تعداد کی نیت نہ کی، تو اس پر دس مسکینوں کو کھانا کھلانا واجب ہوگا۔ ہر مسکین کو نصف صاع گندم دینی ہوگی۔ اس لیے کہ اگر (منت میں) کسی کی کوئی نیت نہ ہو تو اس پر قسم کا کفارہ واجب ہوتا ہے، جیسا کہ ہم نے (ماقبل) بیان کیا کہ نص سے یہ بات ثابت ہے کہ مبہم منت قسم (کے حکم میں ہوتی) ہے اور اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔ (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، ج 5، ص92، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

مبہم منت کی ادائیگی میں قسم کے کفارے کا اعتبار کیوں کیا گیا؟ اس حوالے سے شمس الائمہ امام سرخسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

”وإذا جعل الرجل لله على نفسه إطعام مساكين، فهو على ما نوى من عدد المساكين وكيل الطعام، وإن لم يكن له نية فعليه طعام عشرة مساكين لكل مسكين نصف صاع من حنطة، اعتبارا لما يوجبه على نفسه بما أوجب الله عليه من إطعام المساكين، وأدنى ذلك عشرة مساكين في كفارة اليمين“

ترجمہ: اگر کوئی شخص اللہ کے لیے خود پر مسکینوں کو کھانا کھلانے کی منت لازم کرے، تو اس کا حکم اس کی نیت کے مطابق ہوگا جو اس نے مسکینوں کی تعداد اور کھانے کی مقدار کے حوالے سے کی، اور اگر اس کی کوئی نیت نہ ہو، تو اس پر دس مسکینوں کو کھانا کھلانا لازم ہوگا، ہر مسکین کو نصف صاع گندم دینا ہوگی، اس بات کا اعتبار کرتے ہوئے کہ اس شخص نے جو خود پر(مساکین کو کھلانا) لازم کیا ہے، وہ اس کے مطابق ہوجائے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر مسکینوں کو کھلانے کی مقدار واجب فرمائی، اوراس کی کم سے کم مقدار قسم کے کفارے میں دس مسکین ہیں۔ (المبسوط للسرخسي، ج 8، ص152، دار المعرفہ، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’منّت مانی اور زبان سے منّت کو معین نہ کیا مگر دل میں روزہ کا ارادہ ہے تو جتنے روزوں کا ارادہ ہے اوتنے رکھ لے، اور اگر روزہ کا ارادہ ہے مگر یہ مقرر نہیں کیا کہ کتنے روزے تو تین روزے رکھے۔ اور اگر صدقہ کی نیت کی اور مقرر نہ کیا تو دس مسکین کو بقدر صدقہ فطر کے دے۔ یوہیں اگر فقیروں کے کھلانے کی منّت مانی تو جتنے فقیر کھلانے کی نیت تھی اوتنوں کو کھلائے اور تعداد اوس وقت دل میں بھی نہ ہو تو دس فقیر کھلائے، اور دونوں وقت کھلانے کی نیت تھی تو دونوں وقت کھلائے اور ایک وقت کا ارادہ ہے تو ایک وقت اور کچھ ارادہ نہ ہو تو دونوں وقت کھلائے یا صدقہ فطر کی مقدار اون کو دے اور فقیر کو کھلانے کی منّت مانی تو ایک فقیر کو کھلائے یا صدقہ فطر کی مقدار دیدے۔“ (بہار شریعت، ج2، حصہ9، ص315، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: PIN-7700
تاریخ اجراء: 21 شعبان المعظم 1447 ھ/10 فروری 2026ء