logo logo
AI Search

مولا علی کا معجزہ پڑھنے کی منت مانگنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حضرت علی رضی اللہ عنہ کا معجزہ پڑھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی کام کے پورا ہونے کے لیے 21 دن "مولا مشکل کشا کا معجزہ" پڑھنے کی منت مانے، یا کوئی بتائے کہ آپ کا فلاں کام پورا ہو جائے گا، آپ نے 21 دن "مولا مشکل کشا کا معجزہ" پڑھنا ہے، تو کیا ہم مقصد کے حصول کے لیے 21 دن تک پڑھ سکتے ہیں، اس میں کوئی گناہ تو نہیں؟

جواب

"مولی علی کا معجزہ" اور اس قسم کے دوسرے قصے کہانیاں جیسے "دس بیبیوں کی کہانی" وغیرہا، جو آج کل خواتین گھروں میں پڑھتی ہیں، یہ زیادہ تر من گھڑت روایات اور بے اصل حکایات پر مشتمل ہوتے ہیں جن کی کوئی معتبر سند نہیں ہوتی۔ اولیائے کرام سے متعلقہ من گھڑت قصوں کو پڑھنا، پڑھوانا درست نہیں۔ اگر کسی نے ان کو پڑھنے، پڑھوانے کی منت مانی ہو، تو ایسی منت کو پورا کرنا لازم تو دور کی بات، شرعاً درست ہی نہیں ہوگا، ایسی منت کو ترک کرنا ضروری ہے۔ اس کے بجائے بہتر اور مناسب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ثابت شدہ معجزات، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابۂ کرام اور اہلِ بیتِ اطہار رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مستند اور صحیح روایات پر مشتمل واقعات و کرامات کا مطالعہ کیا جائے، اور ان کے ایصالِ ثواب کے لیے قرآن خوانی اور دیگر نیک اعمال کا اہتمام کیا جائے۔ البتہ ان امور کو پڑھنے کی منت بھی فقہی اعتبار سے ایسی منت نہیں جس کا پورا کرنا شرعاً لازم ہوجائے۔ لہذا اگر کام ہوجانے کے باوجود کوئی اُسے نہ پڑھے تو کوئی گناہ کی بات نہیں۔ تاہم اگر پڑھ لے تو ضرور ایک اچھا عمل اور اجر و ثواب کا باعث ہے۔

واضح رہے کہ شرعی و اصطلاحی اعتبار سے معجزے کا اطلاق انبیاء علیہم السلام کیلئے ہوتا ہے، یعنی اعلان نبوت کے بعد نبی سے جو بات خلافِ عادت ظاہر ہو اُسے ’’معجزہ ‘‘ کہتے ہیں جبکہ ولی سے خلاف عادت صادِر ہونے والی بات کو ’’کرامت‘‘ کہا جاتا ہے۔ لہذاحضرت علی، یا دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے خلاف عادت واقع ہونے والے امور کو معجزہ نہیں بلکہ کرامت کہا جائے گا۔

جو کام عبادتِ مقصودہ نہ ہو، اس کی منت، شرعی منت نہیں، چنانچہ ردالمحتار علی الدر المختار میں ہے: ”و فی البدائع و من شروطہ أن یکون قربۃ مقصودۃ فلایصح النذر بعیادۃ المریض و تشیع الجنازۃ و الوضوء و الاغتسال و دخول المسجد و مس المصحف، و الاذان و بناء الرباطات و المساجد و غیر ذلک و ان کانت قربا لانھا غیر مقصودۃ“ ترجمہ: بدائع میں ہے منت کی شرائط میں سے ایک شرط ہے کہ وہ کام عبادت مقصودہ ہو، لہذا مریض کی عیادت کی منت، جنازے کے ساتھ جانے، وضو، غسل کرنے، مسجد میں داخل ہونے، قرآن چھونے، اذان دینے، مسجد اور پل بنانے کی منت وغیرہ شرعی منت نہیں ہے کیونکہ یہ کام اگر چہ نیکی کے ہیں مگر یہ عبادت مقصودہ نہیں ہیں۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 5، مطلب: فی احکام النذر، صفحہ 537، دار المعرفۃ، بیروت)

جس کی جنس سے کوئی عبادت فرض و واجب نہ ہو، اس کی منت لازم نہیں، چنانچہ مجمع الانہرمیں ہے: ”لم يلزم الناذر ما ليس من جنسه فرض كقراءة القرآن و صلاة الجنازة و دخول المسجد“ ترجمہ: جس کی جنس سے فرض نہ ہو وہ منت ماننے والے پر لازم نہیں ہوتی جیسا کہ قرآن پاک کی تلاوت، نماز جنازہ اور مسجد میں داخل ہونا۔ (مجمع الانھر، جلد 2، صفحہ 274، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوٰی عالمگیری میں ہے: ”أن النذر لا يصح إلا بشروط أحدها أن يكون الواجب من جنسه شرعا“ ترجمہ: منت چند شرائط کے ساتھ درست ہوتی ہے، ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ جس چیز کی منت مانی ہے، وہ واجب کی جنس سے ہو۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد 1، باب النذر، صفحہ 229، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

بہار شریعت میں ہے: شرعی منّت جس کے ماننے سے شرعاً اس کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے، اس کے لیے مطلقاً چند شرطیں ہیں۔ (اس میں سے ایک شرط یہ ہے کہ ) ایسی چیز کی منّت ہو کہ اس کی جنس سے کوئی واجب ہو، عیادتِ مریض اور مسجد میں جانے اور جنازہ کے ساتھ جانے کی منت نہیں ہو سکتی۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 5، صفحہ 1015، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

معجزہ اور کرامت کسے کہتے ہیں ،اس سے متعلق بہار شریعت میں ہی ہے:نبی کے دعوی نبوّت میں سچے ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ نبی اپنے صدق کا علانیہ دعویٰ فرماکر محالاتِ عادیہ کے ظاہر کرنے کا ذمّہ لیتا اور منکروں کو اُس کے مثل کی طرف بلاتا ہے، اﷲ عزوجل اُس کے دعویٰ کے مطابق امرِ محالِ عادی ظاہر فرما دیتا ہے اور منکرین سب عاجز رہتے ہیں اسی کو معجزہ کہتے ہیں۔۔۔نبی سے جو بات خلافِ عادت قبلِ نبوّت ظاہر ہو، اُس کو اِرہاص کہتے ہیں اور ولی سے جو ایسی بات صادر ہو، اس کو کرامت کہتے ہیں۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 1، صفحہ 56 - 58، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1152
تاریخ اجراء: 20 شوال المکرم 1447ھ / 09 اپریل 2026ء