logo logo
AI Search

اذان کی منت کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اذان کی منت مانی تو پورا کرنا لازم ہے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے محلہ میں اہلسنت کی مسجد ہے، میں نے منت مانی تھی کہ میری نوکری لگ جائے، تو وہاں ایک ماہ تک فی سبیل اللہ اذان دوں گا، پھر میری جاب لگ گئی، تو مؤذن صاحب کی اجازت سے اذان دے رہا ہوں، لیکن کچھ اذانیں رہ گئی ہیں، تو ان کا کیا کفارہ ہو گا؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں رہ جانے والی اذانوں کی قضا یا کفارہ لازم نہیں ہو گا، کیونکہ اذان کی منت، منتِ شرعی میں داخل نہیں کہ جسے پورا کرنا لازم ہو اور رہ جانے کی صورت میں قضا کا حکم ہو۔ البتہ اذان دینا نیکی اور ثواب کا کام ہے، احادیث طیبہ میں اس کے فضائل بیان کئے گئے ہیں اور مستحب یہ ہے کہ اذان دینے والا نیک، صالح و پرہیز گار ہو، لہذا اگر اذان دینے میں کوئی شرعی رکاوٹ نہیں، تو چاہئے کہ آپ اپنی منت کو پورا کریں اور رہ جانے والی اذانوں کی تعداد بھی پوری کر لیں۔

حضرت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: ”المؤذنون اطول الناس اعناقا يوم القيامة“ ترجمہ: اذان دینے والے لوگ قیامت کے دن لمبی گردنوں والے ہوں گے (یعنی نمایاں / بلند درجات والے ہوں گے)۔ (صحیح مسلم، کتا ب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 167، مطبوعہ کراچی)

مسند امام احمد میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”يغفر الله للمؤذن منتهى اذانه ويستغفر له كل رطب ويابس سمع صوته“ ترجمہ: مؤذن کی آواز جہاں تک پہنچتی ہے، اللہ پاک اس کی مغفرت فرما دیتا ہے اور ہر تر و خشک جو اس کی آواز سنے، اس کے لئے استغفار کرتی ہے۔ (مسند امام احمد بن حنبل، جلد 10، صفحہ 338، مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ)

منتِ واجبہ کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ منت والا کام عبادت مقصودہ ہو، کسی اور عبادت کے لئے صرف وسیلہ نہ ہو، جبکہ اذان دینا نماز کے لئے وسیلہ ہے، لہذا یہ منتِ شرعی نہیں ہے۔ بدائع الصنائع میں ہے: ’’ومنھا ان یکون قربۃ مقصودۃ، فلا یصح النذر بعیادۃ المرضی و تشییع الجنائز و الوضوء و الاغتسال و دخول المسجد و مس المصحف و الاذان و بناء الرباطات و المساجد و غیر ذلک، وان کانت قربا، لانھا لیست بقرب مقصودۃ‘‘ ترجمہ: نذر شرعی کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ (جس چیز کی نذر مانی جائے) وہ قربت مقصودہ میں سے ہو، لہذا مریض کی عیادت، جنازوں کے ہمراہ جانے، وضو، غسل، دخول مسجد، قرآن کریم کو چھونے، اذان، سرائے اور مساجد بنوانے وغیرہ کی منت مانی، تو وہ لازم نہ ہو گی، کہ یہ کام (اگرچہ ثواب والے ہیں، لیکن) قربت مقصودہ نہیں۔ (بدائع الصنائع، کتاب النذر، باب رکن النذر و شرائطہ، جلد 4، صفحہ 228، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے: ’’ شرعی منت جس کے ماننے سے شرعا اس کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے، اس کے لئے مطلقاً چند شرطیں ہیں، (ان میں سے ایک یہ ہے کہ) وہ عبادت خود بالذات مقصود ہو، کسی دوسری عبادت کے لئے وسیلہ نہ ہو، لہذا وضو و غسل و نظر مصحف کی منت صحیح نہیں۔ (بھار شریعت، حصہ 5، صفحہ 1015، مکتبہ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7704
تاریخ اجراء:10 رجب المرجب 1447ھ/31 دسمبر 2025 ء