logo logo
AI Search

بے ساختہ قسم کھالی تو کفارہ ہوگا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قسم کے الفاظ بے ساختہ زبان پر جاری ہوجائیں تو کیا حکم ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ جن لوگوں کی زبان پربغیر ارادے کے عادتاً بے ساختہ قسم جاری ہوتی ہےتو کیا یہ بھی لغو قسم ہوگی اور اس پر کفاره ہوگا یا نہیں؟

جواب

یمین لغو کی دو قسمیں ہیں: ایک تو یہ کہ ماضی یا حال کی کسی بات پر اپنے خیال کے مطابق سچی قسم کھائے مگر حقیقت میں وہ جھوٹی نکلے، تو ایسی قسم لغو ہے۔ یہ وہ لغو ہے جس کو کتب فقہ کے متون میں بیان کیا گیا ہے۔ یمینِ لغو کی دوسری قسم وہ ہے جسے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ ماضی یا حال کی بات پر محض تکیہ کلام اور عادتاً زبان پر قسم کے الفاظ جاری ہوجائیں، درحقیقت قسم کھانے کا ارادہ نہ ہو جیسے عرب میں گفتگو کے دوران بلا ارادہ و اللہ یا باللّٰہ کہہ دینا، اسی طرح پاک و ہند میں گزشتہ یا حال میں کسی بات پر قسم کے الفاظ جاری ہوجاتے ہیں، جیسے قسم سے وہ کل آیا تھا یا قسم سے ایسا ہی ہوا ہے، خدا کی قسم، بہت مزہ آیا حالانکہ بعض اوقات اس میں نہ کسی بات کو قسم کے ذریعے مؤکد کرنا مقصود ہوتا ہے اور نہ دل میں قسم کا ارادہ ہوتا ہے، اس لیے یہ بھی یمینِ لغو کے حکم میں ہوگی اور کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ البتہ اگر آئندہ یعنی زمانہ مستقبل کے بارے میں قسم کے الفاظ بغیر ارادے کے بھی زبان پر عادتاً بے ساختہ جاری ہوجائیں، مثلاً قسم سے میں کبھی بات نہیں کروں گا تو یہ قسم منعقد ہوجائے گی، کیونکہ دل میں ارادے و نیت کے بغیر بھی مستقبل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھانے سے شرعاً قسم ہوجاتی ہے اور قسم کے ٹوٹنے پر کفارہ بھی لازم ہوتا ہے۔

تنویر الابصار مع درمختار میں ہے:

(و) ثانيها (لغو) لا مؤاخذة فيها۔۔۔۔(إن حلف كاذبا يظنه صادقا) في ماض أو حال۔۔ و خصه الشافعي بما جرى على اللسان بلا قصد، مثل لا واللہ و بلى واللہ و لو لآت

ترجمہ: اور دوسری قسم لغو کی ہے، جس میں کوئی مؤاخذہ نہیں ہوتا۔۔۔ (اور وہ یہ ہے) اگر آدمی ماضی یا حال کے کسی معاملے میں جھوٹی قسم کھائے، جسے وہ سچ سمجھ رہا ہو۔ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے لغو کو خاص کیا ہے اس قسم کے ساتھ جو بغیر ارادے کے زبان پر جاری ہو جائے، جیسے: لا و اللہ اور بلیٰ و اللہ اگرچہ وہ آنے والےزمانے (مستقبل) کے بارے میں ہو۔ اس کے تحت ردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے:

(قولہ: و خصہ الشافعی) اعلم أن تفسير اللغو بما ذكره المصنف هو المذكور في المتون و الهداية و شروحها. و نقل الزيلعي أنه روي عن أبي حنيفة كقول الشافعي. و في الاختيار أنه حكاه محمد عن أبي حنيفة، و كذا نقل في البدائع الأول عن أصحابنا. ثم قال: و ما ذكر محمد على أثر حكايته عن أبي حنيفة أن اللغو ما يجري بين الناس من قولهم لا و اللہ و بلى و الله فذلك محمول عندنا على الماضي أو الحال، و عندنا ذلك لغو. فيرجع حاصل الخلاف بيننا و بين الشافعي في يمين لا يقصدها الحالف في المستقبل. فعندنا ليست بلغو و فيها الكفارة. و عنده هي لغو ولا كفارة فيها

ترجمہ: شارح کا قول کہ امام شافعی نے لغو کو خاص کیا ہے، الخ۔ جان لو کہ لغو کی وہ تفسیر جو مصنف (صاحب تنویر الابصار) نے بیان کی ہے، یہی متون، ہدایہ اور اس کی شروح میں مذکور ہے۔ امام زیلعی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے ایک روایت امام شافعی رحمہ اللہ کے قول کے مطابق بھی منقول ہے۔ اور کتاب الاختیار میں ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ نے یہ قول امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے حکایت کیا ہے، اور اسی طرح بدائع میں پہلے قول کو ہمارے اصحاب کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ پھر فرمایا: امام محمد رحمہ اللہ نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے یہ حکایت نقل کرنے کے بعد کہا کہ لغو وہ ہے جو لوگوں کی زبان پر عادتاً جاری ہوتا ہے، جیسے ان کا کہنا: لا و اللہ، بلیٰ و اللہ۔ یہ ہمارے نزدیک ماضی یا حال پر محمول ہےاور ہمارے نزدیک یہ لغو ہے۔ چنانچہ ہمارے اور امام شافعی کے درمیان اصل اختلاف اُس قسم میں ہے جو مستقبل کے بارے میں بغیر ارادے کے کھائی جائے۔ ہمارے نزدیک وہ لغو نہیں بلکہ اس میں کفارہ ہے اور امام شافعی کے نزدیک وہ لغو ہے اور اس میں کفارہ نہیں۔ (تنویر الابصار مع درمختار و رد المحتار، جلد 5، صفحہ 494، 495،دار المعرفۃ، بیروت)

حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار میں ہے:

وقال الشافعي رضی اللہ عنہ : يمين اللغو في اليمين التي لا يقصدها الحالف. و هو ما يجري على السن الناس في كلماتهم من غير قصد اليمين من قولهم لا و اللہ، و بلى و اللہ، سواء كان في الماضي، أو في الحال، أو في المستقبل و أما عندنا فلا لغو في المستقبل، بل اليمين على أمر في المستقبل يمين معقودة، و فيها الكفارة إذا حنث قصد اليمين أو لم يقصد۔ و إنما اللغو في الماضي و الحال فقط، فيرجع حاصل الخلاف بيننا و بين الشافعي في يمين لا يقصدها الحالف في المستقبل، فعندنا ليست بلغو وفيها الكفارة، و عنده لغو و لا كفارة فيها

ترجمہ: امام شافعی رحمۃ اللہ عنہ نے فرمایا: یمینِ لغو وہ قسم ہے جس کا قسم کھانے والا ارادہ نہ کرے اور وہ یہ ہے جو لوگوں کی زبان پر ان کی گفتگو میں بغیر قسم کے ارادے کے جاری ہو جاتی ہے، جیسے ان کا کہنا: لا و اللہ اور بلیٰ و اللہ، خواہ وہ ماضی کے بارے میں ہو، یا حال کے، یا مستقبل کے بارے میں۔ اور ہمارے نزدیک (یعنی احناف کے نزدیک) مستقبل میں لغو قسم نہیں ہوتی، بلکہ مستقبل کے کسی معاملے پر قسم، منعقدہ ہوتی ہے، اور اگر اس میں قسم ٹوٹ جائے تو کفارہ لازم ہوتا ہے، چاہے قسم کا ارادہ ہو یا نہ ہو۔ لغو قسم صرف ماضی اور حال میں ہوتی ہے۔ پس ہمارے اور امام شافعی کے درمیان اصل اختلاف اس قسم کے بارے میں ہے جو مستقبل کے متعلق ہو اور جس کا ارادہ نہ کیا گیا ہو؛ ہمارے نزدیک وہ لغو نہیں ہے اور اس میں کفارہ ہے، اور امام شافعی کے نزدیک وہ لغو ہے اور اس میں کفارہ نہیں۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر مختار، جلد 5، صفحہ 403، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

رد المحتار میں ہے:

نعم قد يقال: إذا لم تكن هذه لغوا يلزم أن تكون قسما خارجا عن الأقسام الثلاثة، فالأحسن أن يقال إن اللغو عندنا قسمان: الأول ما ذكر في المتون، و الثاني ما في هذه الرواية فتكون هذه الرواية بيانا للقسم الذي سكت عنه أصحاب المتون، و يأتي قريبا عن الفتح التصريح بعدم المؤاخذة في اللغو على التفسيرين، فهذا مؤيد لهذا التوفيق، واللہ سبحانه أعلم

ترجمہ: ہاں یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ اگر یہ (بغیر ارادے کے ماضی یا حال کے متعلق زبان پر جاری ہونے والی قسم) لغو نہ ہو تو پھر اقسامِ یمین کی تین قسموں سے باہر ایک اور قسم لازم آئے گی، اس لیے بہتر یہ ہے کہ کہا جائے کہ ہمارے نزدیک لغو کی دو قسمیں ہیں: ایک وہ جو متون میں مذکور ہے، اور دوسری وہ جو اس روایت میں آئی ہے۔ یوں یہ روایت اس قسم کی وضاحت ہو جاتی ہے جسے متون کے مصنفین نے ذکر نہیں کیا۔ اور عنقریب فتح میں دونوں تفسیروں کے مطابق لغو میں عدمِ مؤاخذہ کی صراحت آئے گی، جو اس تطبیق کی تائید کرتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ زیادہ جاننے والا ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 5، صفحہ 495، دار المعرفۃ، بیروت)

مستقبل میں کسی بات پر قسم کھانے میں ارادہ ضروری نہیں، بغیر ارادے کے بھی قسم ہوجائے گی، چنانچہ ہدایہ میں ہے:

قال: و القاصد في اليمين و المكره و الناسي سواء  حتى تجب الكفارة لقوله عليه الصلاة و السلام ثلاث جدهن جد و هزلهن جد النكاح و الطلاق و اليمين

ترجمہ: فرمایا: قسم میں قاصد (جان بوجھ کر قسم کھانے والا)، مجبور (اکراہ کیا گیا) اور ناسی (بھولنے والا) سب ہی برابر ہیں، یہاں تک کہ ان پر کفارہ لازم آتا ہے، اس حدیث کی وجہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین چیزیں ایسی ہیں کہ انہیں سنجیدگی سے کرنا بھی سنجیدگی ہے اور ہنسی مذاق میں کرنا بھی سنجیدگی ہے، (اور وہ تین چیزیں یہ ہیں) نکاح، طلاق اور قسم۔ (الھدایۃ، جلد 2، صفحہ 317، دار احياء التراث العربي، بيروت)

یمینِ منعقدہ (مستقبل میں کسی کام کو کرنے یا نہ کرنے کی قسم) کو توڑنے کی صورت میں کفارہ لازم ہوتا ہے، چنانچہ فتاوی عالمگیری میں ہے:

و منعقدۃ و ھو أن یحلف علی امر فی المستقبل أن یفعلہ أو لا یفعلہ و حکمہ لزوم الکفارۃ عند الحنث

ترجمہ: قسم کی اقسام میں سے تیسری قِسم منعقدہ ہے اور وہ یہ ہے کہ مستقبل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کے متعلق قسم کھائے اور اس کا حکم یہ ہے کہ قسم توڑنے پر کفارہ لازم ہوگا۔ (الفتاوی الھندیہ، جلد 2، کتاب الایمان، صفحہ 57، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1076
تاریخ اجراء: 07شعبان المعظم 1447ھ / 27 جنوری 2026ء