logo logo
AI Search

گناہ نہ کرنے کی منّت ٹوٹ جائے تو کیا کریں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

گناہ سے بچنے کی منت مانی، پھر منت ٹوٹ گئی

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی شخص نے منت مانی کہ میں فلاں گناہ نہیں کروں گا، اگر کروں تو مجھ پر اتنی رقم صدقہ کرنا واجب ہے، لیکن شیطان کے بہکاوے میں آ کر اس شخص نے وہ کام کر دیا، تو ایسی صورت میں طے شدہ رقم صدقہ کرنا واجب ہوگی یا نہیں؟

جواب

بیان کردہ صورت میں اسے اختیارہے کہ یا تو طے شدہ رقم صدقہ کردے اور یا پھر قسم کا کفارہ اداکردے۔ در مختار میں ہے

ان علقہ (بما لم یردہ کاِن زنیت بفلانۃ) مثلاً فحنث (و فی) بنذرہ (او کفر) لیمینہ

ترجمہ: اگر اس نے نذر کو ایسی بات پر معلق کیا جس کا ہونا وہ نہیں چاہتا، مثلاً اس نے کہا کہ اگر میں فلاں سے زنا کروں پھر وہ حانث ہو گیا (یعنی اس نے زنا کر لیا) تو وہ اپنی نذر کو پورا کرے یا پھر قسم کا کفارہ دے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 5، صفحہ 543، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: اور اگر ایسی شرط پر معلق کیا جس کا ہونا نہیں چاہتا مثلاً اگر میں تم سے بات کروں یا تمہارے گھر آؤں تو مجھ پر اتنے روزے ہیں کہ اوس کا مقصد یہ ہے کہ میں تمہارے یہاں نہیں آؤں گا تم سے بات نہ کروں گا، ایسی صورت میں اگر شرط پائی گئی یعنی اوس کے یہاں گیا یا اوس سے بات کی تو اختیار ہے کہ جتنے روزے کہے تھے وہ رکھ لے یا کفارہ دے۔ منّت میں ایسی شرط ذکر کی جس کا کرنا گناہ ہے اور وہ شخص بدکار ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اوس کا قصد اوس گناہ کے کرنے کا ہے اور پھر اوس گناہ کو کر لیا تو منّت کو پورا کرنا ضرور ہے اور وہ شخص نیک بخت ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ منّت اوس گناہ سے بچنے کے لیے ہے مگر وہ گناہ اوس سے ہو گیا تو اختیار ہے کہ منّت پوری کرے یا کفارہ دے۔ (بہارِ شریعت، جلد 2، حصہ 9، صفحہ 314، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4721
تاریخ اجراء: 21 شعبان المعظم1447ھ / 10فروری2026ء