کھانا کھلانے کی منت مانی تو اس کی جگہ رقم دینا کیسا ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فقیروں کو کھانا کھلانے کی منت مانی تو کیا کھانے کی جگہ رقم دے سکتے ہیں ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے منہ سے الفاظ بول کر منت مانی کہ میرا بیٹا ٹھیک ہو گیا، تو میں 50 فقراء کو کھانا کھلاؤں گا، اب اس کا بیٹا ٹھیک ہو گیا ہے، کیا اس منت کو پورا کرنا ضروری ہے؟ نیز اب فقراء کو کھانا کھلانا ہی ضروری ہو گا یا پھر اس کی جگہ قیمت بھی دے سکتے ہیں؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں یہ منت پوری کرنا شرعاً ضروری ہے، البتہ منت پوری کرنے کے لئے فقرا کو کھانا کھلانا ہی ضروری نہیں، بلکہ 50 افراد کو کھانا کھلانے کی بجائے فی کس ایک صدقہ فطر یا اس کی قیمت بھی دی جا سکتی ہے۔
تفصیل اس کی یہ ہے کہ اللہ عزوجل کے لئے اپنے اوپر کوئی ایسی عبادت لازم کر لینا، جو شریعت کی جانب سے بندے پر لازم نہ ہو، تو مخصوص شرائط کی موجودگی میں یہ منتِ شرعی کہلاتی ہے اور اسے پورا کرنا لازم ہوتا ہے۔ (مخصوص شرائط مثلاً: جو کام کرنے کی منت مانی، اس کی جنس سے کوئی واجب ہو، وہ عبادت مقصودہ ہو، وغیرہ) اور سوال میں ذکر کردہ منت کہ ’’میرا بیٹا ٹھیک ہو جائے، تو میں 60 فقراء کو کھانا کھلاؤں گا‘‘ اُن تمام شرائط پر مشتمل ہے، لہذا اب اسے پورا کرنا لازم ہے۔ البتہ منت پوری کرنے کے لئے کھانا کھلانا ہی ضروری نہیں، بلکہ اس کی قیمت بھی دے سکتے ہیں، کیونکہ فقیر کو کوئی چیز دینے کی منت سے مقصود ثواب اور اسے مال دینا ہوتا ہے، تو متعین کردہ چیز کی بجائے اس کی قیمت دینے سے بھی یہ مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور کھانے کی قیمت شریعت مطہرہ نے ایک صدقہ فطر مقرر فرمائی ہے، لہذا فقراء کو کھانا کھلانے کی بجائے فی کس صدقہ فطر یا اس جتنی رقم بھی دی جا سکتی ہے۔
منت پوری کرنے کے متعلق قرآن کریم میں ہے: ﴿وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ﴾ ترجمۂ کنزا لایمان :اور اپنی منتیں پوری کریں۔ (پارہ 17، سورۃ الحج، آیت 29)
صحیح بخاری میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’من نذر ان یطیع اللہ فلیطعہ ومن نذر ان یعصیہ فلا یعصہ‘‘ ترجمہ: جو اللہ تعالی کی اطاعت کی منت مانے، تو وہ اسے پورا کرے اور جو اللہ تعالی کی نافرمانی کی منت مانے، تو وہ نافرمانی والا کام نہ کرے (بلکہ کفارہ دیدے)‘‘۔ (صحیح بخاری، کتاب الایمان و النذور، باب النذر فی الطاعۃ، جلد 2، صفحہ 991، مطبوعہ کراچی)
منتِ شرعی کی تفصیل بہار شریعت میں یوں ہے: ’’شرعی منت جس کے ماننے سے شرعاً اس کا پورا کرنا واجب ہوتا ہے، اس کے لیے مطلقاً چند شرطیں ہیں: (۱) ایسی چیز کی منت ہو کہ اس کی جنس سے کوئی واجب ہو۔ (۲) وہ عبادت خود بالذات مقصود ہو کسی دوسری عبادت کے لیے وسیلہ نہ ہو۔ (۳) اس چیز کی منت نہ ہو جو شرع نے خو د اس پر واجب کی ہو۔ (۴) جس چیز کی منّت مانی وہ خود بذاتہ کوئی گناہ کی بات نہ ہو ۔ (۵) ایسی چیز کی منت نہ ہو جس کا ہونا محال ہو‘‘۔ (ملتقطاً از بہار شریعت، حصہ 5، صفحہ 1015، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
منت میں متعین کردہ چیز کے بدلے قیمت دینے کے متعلق درر الحکام میں ہے: ’’(جاز دفع القيم في الزكاة وكفارة غير الاعتاق والعشر والنذر) يعني ان اداء القيمة مكان المنصوص عليه في الصور المذكورة جائز‘‘ ترجمہ: زکوۃ، غلام آزاد کرنے والے کفارے کے علاوہ کسی دوسرے کفارے، عشر اور منت میں قیمت دینا بھی جائز ہے ۔‘‘ (درر الحکام، کتاب الزکاۃ، جلد 1، صفحہ 178، مطبوعہ بیروت)
فقیر کو کوئی چیز دینے کی منت سے مقصود ثواب اور اسے مال دینا ہوتا ہے، وہ قیمت دینے سے بھی پورا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ در مختار اور رد المحتار میں ہے: ’’(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر۔۔الخ) كان نذر ان يتصدق بهذا الدينار فتصدق بقدره دراهم او بهذا الخبز فتصدق بقيمته جاز عندنا، ۔۔۔ لان المقصود اغناء الفقير وبه تحصل القربة وهو يحصل بالقيمة‘‘ ترجمہ: زکوۃ، عشر، خراج، فطرہ اور منت میں قیمت دینا بھی جائز ہے، ۔۔ جیسے یہ منت مانی کہ یہ دینار صدقہ کروں گا، تو اس کی مالیت کے برابر دراہم اور منت مانی کہ یہ روٹی صدقہ کروں گا، تو ہمارے نزدیک اس کی قیمت دینا بھی جائز ہے، ۔۔ کیونکہ (ان تمام منتوں کا) مقصود فقیر کو غنی کرنا اور اس سے قربت کا حصول ہے اور یہ مقصد قیمت دینے سے حاصل ہو جائے گا ۔‘‘ (رد المحتار مع در مختار، کتاب الزکاۃ، جلد 2، صفحہ 286، مطبوعہ بیروت)
نوٹ: ایک صدقۂ فطر کی مقدار آدھا صاع (2 کلو میں اَسی گرام کم یعنی 1920 گرام) گندم یا ایک صاع (چار کلو میں ایک سو ساٹھ گرام کم یعنی 3840 گرام) جَو یا کھجور یا کشمش یا ان کی قیمت بنتی ہے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7302
تاریخ اجراء: 20 ربیع الاول 1445ھ / 07 اکتوبر 2023ء