logo logo
AI Search

کیا منت کے روزے مسلسل رکھنا ضروری ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مسلسل روزے رکھنے کی منت مانی تو الگ الگ رکھ سکتے ہیں؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میری نوکری نہیں تھی، تو میں نے منت مانی کہ اگر نوکری مل گئی، تو میں پانچ دن لگاتار روزے رکھوں گا، اب اللہ کا شکر ہے نوکری مل گئی ہے تو پوچھنا یہ ہے کہ یہ پانچ روزے الگ الگ رکھ سکتا ہوں یا ایک ساتھ ہی رکھنے ہوں گے؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

حکم شرعی یہ ہے کہ جس منت میں مسلسل روزے رکھنے کی شرط رکھی ہو، تو منت پوری ہونے پر وہ مسلسل ہی روزے رکھنے ہوتے ہیں، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں آپ الگ الگ روزے نہیں رکھ سکتے، پانچ دن لگاتار روزے رکھنے ہوں گے۔

محیطِ برہانی میں ہے: إذا قال: للہ علیّ أن أصوم عشرۃ أیام متتابعۃ ، فصامھا متفرّقۃ لم یجزہ، لأنہ أداء الکامل بالناقص، و لو أوجب متفرقۃ فأدّاھا متتابعۃ أجزأہ، لأنہ أوجبھا ناقصا، و أدّاھا کاملاً‘‘ترجمہ: جب کسی نے کہا کہ اللہ عز و جل کےلیے مجھ پر دس دنوں کے مسلسل روزے رکھنا واجب ہے، پھراس نے وہ روزے جدا جد ا دنوں میں رکھے، تو کافی نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ کامل کو ناقص کے ساتھ ادا کر رہا ہے اور اگر متفرق طور پر روزے رکھنے کی منت مانی اور پھر مسلسل رکھے، تو یہ اسے کافی ہوں گے، کیونکہ اس نے روزے ناقص طور پر واجب کیے اور انہیں کامل طور پر ادا کیا۔ (المحیط البرھانی، جلد 3، صفحہ 377، مطبوعہ کراچی)

بدائع الصنائع میں ہے:”لو قال: لله علي أن أصوم شهرا متتابعا، يلزمه أن يصوم متتابعا، لا يخرج عن نذره الا به، و لو أفطر يوما في وسط الشهر يلزمه الاستقبال لأن التتابع ذكر للصوم فكان الشرط هو وصل الصوم بعينه فلا يسقط عنه أبدا“ترجمہ: اگر کہا: اللہ تعالی کے لیے مجھ پر لازم ہے کہ میں ایک مہینے کے پے درپے روزے رکھوں، تو اس پر پے درپے روزے رکھنا لازم ہوگا، وہ بغیر پے درپے رکھے اپنی نذر سے نہیں نکلے گا اور اگر مہینے کے درمیان میں کسی دن روزہ نہ رکھا، تو اس پر نئے سرے سے روزے رکھنا لازم ہوگا، کیونکہ پے درپے روزے کے لیے ذکر کیا ہے، تو روزوں کو متصل رکھنا شرط ہے، تو یہ پے درپے والی شرط اس سے کبھی بھی ساقط نہیں ہوگی۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصوم، فصل شرائط انواع الصیام، ج 02، ص 77، دار الکتب العلمیۃ)

بحر الرائق میں ہے:”و لو أوجب على نفسه صوما متتابعا فصامه متفرقا لم يجز“ترجمہ: اور اگر کسی نے اپنے پر پے درپے روزے لازم کیے، پھروہ متفرق رکھے تو جائز نہیں۔ (البحر الرائق، کتاب الصوم، ج 02، ص 319، دارالکتاب الاسلامی، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمۃ بہار شریعت میں لکھتے ہیں: پے در پے روزے کی منت مانی، تو ناغہ کرنا، جائز نہیں۔ (بھار شریعت، ج 01، حصہ 05، ص 1017، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Aqs-1807
تاریخ اجراء: 19 رجب المرجب 1441ھ / 15 مارچ 2020ء