logo logo
AI Search

منت کے عمرہ کے لیے کسی اور کو بھیج سکتے ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا منت کے عمرہ کے لیے کسی دوسرے کو بھیجنا جائز ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی شخص نے منت مانی ہو کہ میں منت مانتا ہوں کہ اگر فلاں کام ہو گیا تو میں ایک عمرہ کروں گا اور وہ کام پورا بھی ہوگیا، لیکن مصروفیات اور کچھ سستی کے باعث وہ عمرہ نہ کرسکا، اور اب عُمر کے اس حصے میں آگیا ہے کہ بڑھاپے کے باعث خودعمرہ کرنے سے عاجز ہے، تو کیا ایسی صورت میں اپنی طرف سے کسی دوسرے مسلمان کو عمرہ پر بھیجنا جائز ہے؟ اگر جائز ہے، تو کیا اس طرح منت پوری ہوجائے گی؟ برائے مہربانی رہنمائی فرمادیں۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں اگر صرف دل میں ارادہ نہیں تھا بلکہ زبان سے بھی منت کے الفاظ ادا کیے تھے، تو ایسی حالت میں منت شرعی منعقد ہو چکی کہ عمرہ کی منت، منتِ شرعی ہے۔ لہٰذا جب مطلوبہ کام پورا ہوگیا تو اس وقت عمرہ کی ادائیگی واجب ہو گئی، تاہم اس نے عمرہ ادا نہیں کیا اور اب بڑھاپے کے باعث عمرہ پر جانے کی طاقت بھی نہیں رہی، تو ایسی صورت میں اپنی طرف سے کسی دوسرے شخص کو عمرہ پر بھیجنا جائز ہے، اور اس کے ذریعے منت کا عمرہ ادا ہو جائے گا۔

تفصیل:

عمرے میں نیابت فی نفسہٖ جاری ہوسکتی ہے، کیونکہ حدیثِ پاک میں مذکور ہےکہ ایک شخص نے سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میرے والد بوڑھے ہیں اور حج و عمرہ کی طاقت نہیں رکھتے، تو نبی کریم رؤوف و رحیم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اپنے والد کی طرف سے تم حج و عمرہ کر لو۔ نیز فقہائے عظام نے بھی اس کی تصریح فرمائی ہے کہ عمرے میں نیابت جائز ہے، اور جس شخص کی طرف سے عمرہ اد اکیا جائے گا اسی کی جانب سے ادا ہوگا۔

ترمذی، نسائی اور دیگر کتب حدیث میں موجود ہے،

و اللفظ للترمذی: عن ابی رزین العقیلی أنہ أتی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم فقال: یارسول اللہ، ان أبی شیخ کبیر لا یستطیع الحج و لا العمرۃ و لا الظعن، قال: حج عن ابیک و اعتمر۔ ھذا حدیث حسن صحیح، و انما ذکرت العمرۃ عن النبی فی ھذا الحدیث ان یعتمر الرجل عن غیرہ

حضرت ابورزین عقیلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کے پاس آئے اور عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم میرے والد بوڑھے ہیں حج اور عمرے کی استطاعت نہیں رکھتے اور نہ ہی سواری پر بیٹھ سکتے ہیں، فرمایا: اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کرو۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے، اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے عمرے کے حوالے سے یہ ذکر کیا گیا کہ ایک شخص دوسرے کی طرف سے عمرہ کرسکتا ہے۔ (سنن الترمذی، ج 03، ص 260، رقم: 930، شركة مكتبة و مطبعة مصطفى البابي الحلبي – مصر)

اس حدیث پاک کے تحت مرقاۃ المفاتیح میں فرمایا:

دل على جواز النيابة

حدیث کے الفاظ، حج و عمرہ میں نائب بنانے کے جواز پر دلالت کرتے ہیں۔ (مرقاۃ المفاتیح، ج 5، ص 439، مطبوعہ بیروت)

نیز مذکورہ الفاظ اس بات پر بھی دلیل ہیں کہ حج و عمرہ جس کی جانب سے کیا جائے گا اسی کی جانب سے ادا ہوگا۔ نتائج الافکار میں اسی طرح کی ایک دوسری حدیث کے متعلق فرمایا:

فإنه عليه الصلاة و السلام قال فيه حجي عن أبيك واعتمري فإن ذلك صريح في وقوع القربة عن غير العامل

کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا فرمان: اپنے والد کی طرف سے حج اور عمرہ کرو، اس بات میں صریح ہے کہ یہ قربت عامل کی بجائے جس کی جانب سے کی جارہی ہے اسی کی طرف سے اد اہوگی۔ (نتائج الافکار، ج 09، ص 98، دار الفكر، بيروت)

عمرے میں نیابت جائز ہے،اس کے متعلق مجموعی طور پر فقہاء اور پھر خاص فقہائے احناف کے موقف کے متعلق موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے:

ذهب الفقهاء في الجملة إلى أنه يجوز أداء العمرة عن الغير؛ لأن العمرة كالحج تجوز النيابة فيها؛ لأن كلا من الحج و العمرة عبادة بدنية مالية و لهم في ذلك تفصيل: ذهب الحنفية إلى أنه يجوز أداء العمرة عن الغير بأمره؛ لأن جوازها بطريق النيابة، و النيابة لا تثبت إلا بالأمر، فلو أمره أن يعتمر فأحرم بالعمرة و اعتمر جاز؛ لأنه فعل ما أمر به

مجموعی طور پر فقہائے کرام کا موقف یہ ہے کہ کسی دوسرے کی طرف سے عمرہ ادا کرنا جائز ہے، کیونکہ عمرہ بھی حج کی طرح ایسی عبادت ہے جس میں نیابت جائز ہے، اس لیے کہ حج اور عمرہ دونوں بدنی اور مالی عبادات ہیں، البتہ اس میں تفصیل ہے۔ فقہِ حنفی کے مطابق دوسرے کی طرف سے عمرہ اسی وقت جائز ہے جبکہ اصل شخص نے عمرہ کرنے کا کہا ہو، کیونکہ نیابت صرف حکم (اجازت) سے ثابت ہوتی ہے، لہٰذا اگر کسی نے کسی کو عمرہ کرنے کا کہا اور اس نے اس کی طرف سے احرام باندھ کر عمرہ ادا کر لیا تو یہ جائز ہوگا، کیونکہ اس نے وہی کام کیا جو اسے سونپا گیا تھا۔ (الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ، ج 30، ص 328، دار الصفوة – مصر)

نیز یہ عمرہ جس کی جانب سے کیا جائےگا اسی کی جانب سے ادا ہوگا، اس کے متعلق بہار شریعت میں بحوالہ شامی یوں مذکور ہے: حج کے لیے کہا تھا اُس نے حج کرنے کے بعد عمرہ کیا یا عمرہ کے لیے کہا تھا اس نے عمرہ کر کے حج کیا، تو اِس میں مخالفت نہ ہوئی اُس کا حج یا عمرہ ادا ہوگیا۔ مگر اپنے حج یا عمرہ کے لیے جو خرچ کیا خود اس کے ذمہ ہے، بھیجنے والے پر نہیں۔ (بھار شریعت، ج 01، ص 1205، مکتبۃ المدینۃ کراچی)

اب رہا یہ مسئلہ کہ چونکہ عمرے کی منت بھی منتِ شرعی ہے، تو کیا اس عمرے میں بھی نیابت جاری ہوسکتی ہے؟ اور اگر ہوسکتی ہے تو کیا یہ مطلقا جائز ہے یا پھر اس میں عجز دائم یعنی منت ماننے والے کا خود عمرہ کرنے سے عاجز ہونا اور اس عجز کا موت تک برقرار رہنا شرط ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ منت والے عمرے میں بھی نیابت جاری ہوسکتی ہے، تاہم اس کے درست ہونے کے لئے عجز دائم شرط ہے۔

اس پر دلیل یہ ہے کہ فقہائے کرام نے منت والے حج میں بھی نیابت کے درست ہونے کے لئے عجز دائم کی شرط بیان فرمائی ہے اور فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق عمرہ حج کی نظیر ہے کہ جس طرح حج بدنی اور مالی عبادت سے مرکب ہے اسی طرح عمرہ بھی ہے۔ عمرے کا بدنی ہونا تو واضح ہے، رہا اس کا مالی ہونا، تو وہ اس اعتبار سے کہ عمرہ کے سنت مؤکدہ ہونے کے لئے استطاعت مالی شرط ہے، نیز دورانِ عمرہ مختلف جنایات کی صورت میں (سوائے ایک آدھ مختلف صورت کے) حج کی جنایات طرح مالی کفارات لازم ہوتےہیں جو کہ عمرہ کے مالی پہلو کی عکاسی کرتے ہیں جیسا کہ فقہائے کرام نے حج کے مالی ہونے کے حوالے سے بھی یہی وجوہات بیان فرمائی ہیں۔ پس یہی وجہ ہے کہ چندمسائل کے علاوہ عمرہ کے جملہ احکام حج والے ہوتے ہیں، حتی کہ نذر کے حوالے سے تو فقہائے کرام نے حج و عمرہ کوایک ہی جنس قرار دیا اور فرمایا: چونکہ عمرے کی جنس سے فرض عبادت موجود ہے اور وہ حج کا احرام، طواف و سعی ہے، اس لئے عمرہ کی منت، منت شرعی شمار ہوگی۔ نیز بعض کتب فقہ میں جب حج کا باب شروع کیا جاتا ہے، تو وہاں ابتداءً ہی حج کے تحت عمرہ کو داخل کرتے ہوئے تقسیم کاری یوں بیان کی جاتی ہے کہ حج کی دو قسمیں ہیں، ایک حج اکبر یعنی فرض حج اور دوسرا حج اصغر یعنی عمرہ۔ الغرض فقہائے کرام کی تصریحات سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ عمرہ اکثر احکام میں حج والا حکم رکھتا ہے سوائے ان چند مسائل کے کہ جن کا ذکر فقہائے کرام نے فرمایا، لہذا جبکہ خاص اس معاملے میں عمرہ کا حج سے مختلف ہونا مذکور نہیں، تو یہاں بھی عمومی احکام کے اعتبار سے حج والا حکم ہوگا۔

عمرے کی منت، منتِ شرعی ہے کہ فرض حج میں اس کے ارکان کی اصل موجود ہے، اس حوالے سےشرح مختصر الطحاوی میں ہے:

فلو نذر عمرة لزمته، و ليس لها أصل في الفرض عندكم؟ قيل له: العمرة هي الإحرام و الطواف و السعي، و لها أصل في الفرض، و هو إحرام الحج و طوافه و سعيه

کوئی شخص عمرے کی منت مانے تو منت لازم ہوجاتی ہے، حالانکہ آپ کے نزدیک اس کی اصل فرض عبادت میں موجود نہیں؟ تو اسے جواب دیا جائے گا کہ عمرہ احرام، طواف اور سعی کا نام ہے اور فرض عبادت میں اس کی اصل موجود ہے اور وہ حج کا احرام، طواف اور سعی ہے۔ (شرح مختصر الطحاوی، ج 02، ص 469، دار البشائر الإسلامية)

منت والے حج میں نیابت کے درست ہونے کے لئے عجز دائم شرط ہے۔ چنانچہ در مختار کی عبارت:

(و المركبة منهما) كحج الفرض (‌تقبل النيابة عند العجز فقط) لكن (بشرط دوام العجز إلى الموت) لانه فرض العمر حتى تلزم الاعادة بزوال العذر

بدن ومال سے مرکب عبادت جیسے فرض حج، یہ عجز کی صورت میں نیابت کو قبول کرتا ہے یعنی اس میں نیابت جاری ہوسکتی ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ مرض موت تک برقرار رہے، کیونکہ یہ پوری عمر کا فرض ہے، لہذا اگر آئندہ عذر زائل ہوجاتا ہے تو اعادہ لازم ہوگا۔

کے تحت بحر کے حوالے سے تحفۃ الاخیار اور پھر وہاں سےشامی، طوالع الانوار اور حاشیۃ الطحطاوی میں ہے،

و اللفظ للشامی: قوله (كحج الفرض) اطلقہ فشمل الحجة المنذورة كما في البحر، و قيد به نظر الشرط دوام العجز إلى الموت لأن الحج النفل يقبل النيابة من غير اشتراط عجز فضلا عن دوامه

فر ض حج کا اطلاق کیا، لہذا منت والا حج بھی اس کوشامل ہے جیسا کہ بحر میں ہے۔ یہاں خاص فرض حج کی قید لگانے کی وجہ یہ ہے کہ آگے موت تک عذر کے برقرار رہنے کی قید لگائی گئی ہے اور یہ قید صرف فرض حج میں معتبر ہے ورنہ نفل حج تو مطلقا نیابت کو قبول کرتا ہے، اس میں عذر کی قید نہیں ہوتی چہ جائیکہ موت تک باقی رہنے کی قید ہو۔ (تحفۃ الاخیار، ق 137، مخطوط) (در مختار مع شامی، ج 02، ص 598، دار الفکر) (طوالع الانوار، ج 04، ق 348، مخطوط) (حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار، ج 03، ص 707،دار الکتب العلمیۃ بیروت)

شامی کی منت والے حج کے لئے جو عجز دائم کی شرط بیان کی گئی اس کے متعلق موسوعہ کی نص اس سے زیادہ واضح ہے، لہذا وہ بھی ملاحظہ ہو:

فقال الحنفية: حج الفرض يقبل النيابة عند العجز فقط لكن بشرط دوام العجز إلى الموت لأنه فرض العمر حتى تلزم الإعادة بزوال العذر الذي يرجى زواله كالمرض۔ هذا بالنسبة لحجة الإسلام والحجة المنذورة، و أما الحج النفل فيقبل النيابة من غير اشتراط عجز فضلا عن دوامه

احناف نے فرمایا: فرض حج میں نیابت صرف عذر کی صورت میں جائز ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ عذر موت تک باقی رہے، کیونکہ حج پوری عمر کا فرض ہے، اس لیے اگر ایسا عذر ہو جس کے زوال کی امید ہو، جیسے بیماری، تو اس کے زائل ہونے پر حج دوبارہ لازم ہوگا۔ یہ حکم حجِ اسلام اور منت کے حج سے متعلق ہے، جہاں تک نفل حج کا تعلق ہے، تو اس میں نیابت کے لئے عذر سرے سے شر ط ہی نہیں، چہ جائیکہ موت تک برقرار رہنےکی قید ہو۔ (الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ، ج 36، ص 364، دار الصفوة – مصر)

عمرہ حج کی نظیر ہے، چنانچہ المناسک للدبوسی میں عمرہ کا باب شروع کرنے سے پہلے یہ عنوان قائم کیا گیا کہ:من نظیر الحج العمرۃعمرہ حج کی نظیر ہے۔ (کتاب المناسک من الاسرار للدبوسی، ص 554، دار المنار)

کیونکہ حج کی طرح عمرہ بھی مالی پہلو پر مشتمل عبادت ہے کہ اس کے سنت مؤکدہ ہونے کے لئے مالی استطاعت درکار ہوتی ہے، اس کے متعلق مناسک ملا علی قاری میں ہے:

(العمرۃ سنۃ مؤکدۃ لمن استطاع) ای الیھا سبیلا بالزاد و الراحلۃ

عمرہ اس شخص کے لئے سنت مؤکدہ ہے جو کہ زاد راہ اور سواری کی استطاعت مالی رکھتا ہو۔ (مناسک ملا علی قاری، ص 508،دار الکتب العلمیۃ)

حج کے مالی ہونے کی وجوہات کے متعلق المنتقی فی حل منسک الملتقی، تبیین الحقائق، بحر العمیق اور شفاء العلیل للشامی وغیرہ کتب فقہیہ میں ہے،

و اللفظ للمنتقی: الحج فانہ مال من حیث شرطیۃ الاستطاعۃ ووجوب الاجزیۃ بارتکاب المحظورات

حج مالی اس وجہ سے ہے کہ اس میں استطاعت مالی شرط ہے، نیز محظوارت کے ارتکاب کی صورت میں اس میں مالی کفارات بھی لازم ہوتے ہیں۔ (المنتقي فی حل منسک الملتقی، ص 184، مجموعہ نقشجم العلمیۃ)

چند مسائل کے علاوہ بقیہ شرائط و مسائل میں عمرہ کے احکام عام طور پر حج والےہی ہوتے ہیں، اس کے متعلق مناسک ملا علی قاری میں ہے:

و ھی الحجۃ الصغری ای بالنسبۃ الی الحج الاکبر (العمرۃ سنۃ مؤکدۃ لمن استطاع) ای الیھا سبیلا بالزاد و الراحلۃ (و شرائط الاستطاعۃ مامر فی الحک) من شرائط وجوبہ لان الواجب یلحق الفرض فی حق الاحکام و کذا السنۃ تتبع الفرائض فی کثیر من الاحکام (و احکام احرامھا کاحرام الحج من جمیع الوجوہ) ای بالنظر الی محظوراتہ، و اما بالنظر الی سائر احکامہ فباعتبار اکثرھا من سننھا و آدابھا، و وجوبھا من میقاتھا و نحو ذلک (و کذا حکم فرائضھا) فی الجملۃ (و واجباتھا و سننھا) فی بعضھا (و محرماتھا) باسرھا (و مفسدھا و مکروھاتھا و احصارھا و جمعھا و اضافتھا و رفضھا کحکمھا فی الحج) فی غالب احکامھا (و ھی لا تخالف الحج الا فی امور) یسیرۃ و مجموعھا احد عشر

عمرہ حجِ اکبر کے مقابلے میں حجِ اصغر کہلاتا ہے اور یہ ہر اس شخص کے لیے سنتِ مؤکدہ ہے جو زادِ راہ اور سواری کے ساتھ اس کی استطاعت رکھتا ہو، اور اس کی استطاعت کی شرائط وہی ہیں جو حج اکبرمیں اس کے واجب ہونے کی بیان کی گئی ہیں۔ اگرچہ عمرہ واجب نہیں ہے، لیکن چونکہ جس طرح احکام میں واجب فرض کو لاحق ہوتا ہے، اسی طرح بہت سے مسائل میں سنتیں بھی فرائض کے تابع ہوتی ہیں۔ عمرے کے احرام کے احکام محظورات کے اعتبار سے بالکل حج کے احرام جیسے ہیں، جبکہ دیگر احکام مثلا سنن، آداب اور میقات سے وجوب وغیرہ کے اعتبار سے اس کے اکثر احکام حج جیسے ہیں۔ اسی طرح عمرہ کے جملہ فرائض، واجبات، بعض سنتیں، تمام ممنوعات، مفسدات، مکروہات، احصارو جمع، اضافہ و رفض احرام کے اکثر احکام حج والے ہیں، اور عمرہ حج سے صرف چند امور میں مختلف ہے جن کی مجموعی تعداد گیارہ بنتی ہے۔ (مناسک ملا علی قادری، ص 508،دار الکتب العلمیۃ)

اسی بات کو علامہ شامی علیہ الرحمہ نے بھی ذکرکرکے برقرار رکھا، چنانچہ ملاحظہ ہو

قال في اللباب وأحكام إحرامها كإحرام الحج من جميع الوجوه وكذا حكم فرائضها و واجباتها و سننها و محرماتها و مفسدها و مكروهاتها و إحصارها و جمعها أي بين عمرتين، و إضافتها أي إلى غيرها في النية ورفضها كحكمها في الحج: و هي لا تخالفه إلا في أمور منها أنها ليست بفرض و أنها لا وقت لها معين؛ و لا تفوت وليس فيها وقوف بعرفة و لا مزدلفة و لا رمي فيها و لا جمع أي بين صلاتين و لا خطبة و لا طواف قدوم و لا صدر و لا تجب بدنة بإفسادها و لا بطوافها جنبا أي بل شاة و أن ميقاتها الحل لجميع الناس بخلاف الحج فإن ميقاته للمكي الحرم و انہ یقطع التلبیۃ عند الشروع فی طوافھا و انہ لا مدخل للصدقۃ بالجنایۃ فی طوافھا اهـ.

اس عبارت کا خلاصہ اوپر والی عبارت میں گزر چکا اس میں صرف ان امور کا اضافہ ہے جن میں عمرہ حج سے مختلف ہے اور وہ یہ ہیں: (۱) عمرہ فرض نہیں۔ (۲) اس کا کوئی معین وقت نہیں۔ (۳) عمرہ فوت نہیں ہوتا۔ (۴) اس میں وقوف عرفہ و مزدلفہ ،رمی،دو نمازوں کا جمع کرنااور خطبہ نہیں ہوتا۔ (۵) عمرہ میں طواف قدوم نہیں ہوتا۔ (۶) طواف صدر بھی نہیں ہوتا۔ (۷) عمرہ فاسد کرنے کی صورت میں، (۸) اسی طرح جنابت کی حالت میں طواف کرنے سے اس میں بدنہ لازم نہیں ہوتا بلکہ ایک بکری لازم ہوتی ہے۔ (۹) اس کا میقات تمام لوگوں کے لئےحل ہے برخلاف حج کےکہ اس کا میقات مکی کے لئے حرم ہے۔ (۱۰) عمرہ کا طواف شروع کرتے ہوئے تلبیہ پڑھناترک کردیا جاتا ہے۔ (۱۱) عمرہ کےطواف میں جنایت کی صورت میں صدقہ لازم نہیں ہوتا،اھ۔ (شامی، 02، ص 483، دار الفکر)

تحفۃ الفقھاء میں فرمایا:

و ما ذكرنا من الشرائط في الحج فشرط في العمرة

ہم نے حج کی جو شرائط بیان کی ہیں وہی عمرہ کی بھی شرائط ہیں۔ (تحفۃ الفقھاء، ج 01، ص 392، دار الكتب العلمية، بيروت – لبنان)

خاص نذر کے معاملے میں حج و عمرہ کو ایک ہی جنس شمار کیا گیا، اس کا جزئیہ مختصر الطحاوی کے حوالے سے اوپر گزرا۔

النتف فی الفتاوی میں حج کا باب شروع کرتے ہوئے ابتداءً ہی حج کی تقسیم کاری یوں بیان فرمائی:

اعلم ان الحج على وجهين: الحج الاكبر و الحج الاصغر فأما الحج الاكبر فهو حجة الاسلام و اما الاصغر فهو العمرة

جان لو کہ حج کی دو قسمیں ہیں، ایک حج اکبر یعنی حجۃ الاسلام جبکہ دوسرا حج اصغر یعنی عمرہ۔ (النتف فی الفتاوی، ج 01، ص 200- 201، مؤسسة الرسالة – بيروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0707
تاریخ اجراء: 23 رجب المرجب1447ھ / 13جنوری 2026 ء