مزار پر چاندی کا چراغ جلانے کی منت ماننا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مزار پر چاندی کا چراغ جلانے کی منت کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے منت مانی کہ میرا فلاں کام ہو جائے،تو میں مزار پر چاندی کا چراغ(یعنی چاندی کے برتن میں چراغ) جلاؤں گا،اب اس کا کام ہوگیا ہے، کیا اس شخص کے لیے مزار پر چاندی کا چراغ جلانا ضروری ہے؟
جواب
سوال کا جواب جاننے سے قبل یہ ذہن نشین رہےکہ شریعت اسلامیہ نے سونے، چاندی کا استعمال زیور کی صورت میں عورتوں کے لئے جائز قرار دیا ہے، اس کے علاوہ سونے چاندی کی چیزوں کو استعمال کرنا (مثلاً سونے چاندی کے برتن میں کھانا پینا اور ان کے برتنوں میں تیل لگانا یا ان کے عطر دان سے عطر لگانا یا ان کی انگیٹھی سے بخور کرنا وغیرہ کام) مرد و عورت، دونوں کے لیے ناجائز ہیں، لہذا اولاً تو چاندی کے برتن میں چراغ جلانا شرعاً جائز نہیں ہے، ثانیا مزار پر چراغ جلانے کی منت،منت عرفی ہے، منت شرعی نہیں کہ منت شرعی کے لازم ہونے کی چند شرائط ہیں:
(1) جس چیز کی منت مانی گئی ، وہ عبادت مقصودہ ہو۔
(2) وہ چیز بذات خود فرض وواجب نہ ہو، بلکہ اس کی جنس میں سے کوئی چیز فرض یا واجب ہو۔
(3)جس چیز کی منت مانی گئی، وہ معصیت(گناہ)پر مبنی نہ ہو۔
جبکہ مزار پر چاندی کا چراغ جلانے کی منت نہ تو عبادت مقصودہ ہے، نہ ہی اس کی جنس سے کوئی فرض و واجب ہے، بلکہ یہ ایسے کام (یعنی چاندی کے چراغ جلانے)کی منت ہے جو شرعاً ناجائز ہے،لہذا اس منت کو پورا نہیں کیا جائے گا۔
چاندی کے برتن میں چراغ جلانا جائز نہیں ہے جیسا کہ علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1252 ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:
”و لا یخفی ان الکلام فی المفضض و الا فالذی کلہ فضۃ یحرم استعمالہ بای وجہ کان کما قدمناہ و لو بلامس بالجسد و لذا حرم ایقاد العود فی مجمرۃ الفضۃ، کما صرح بہ فی الخلاصۃ و مثلہ بالاولی ظرف فنجان القھوۃ و الساعۃ و قدرۃ التنباک التی یوضع فیھا الماء وان کان لا یمسھا بیدہ ولا بفمہ لانہ استعمال فیما صنعت لہ“
یعنی مخفی نہیں کہ یہ کلام چاندی کا کام کیے ہوئے برتن میں ہے ورنہ جو چیز پوری چاندی کی بنی ہوئی ہو اس کا استعمال کسی بھی طریقے سے ہو، حرام ہے، جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا، اگرچہ جسم چھوئے بغیر ہو، اسی وجہ سے چاندی کی انگیٹھی میں عود جلانا حرام ہے، جیسا کہ خلاصۃ الفتاویٰ میں اس کی صراحت فرمائی ہے، اور اس کی مثل چاندی کی بنی ہوئی قہوے کی پیالیاں، گھڑی، حقے کی وہ جگہ جہاں پانی ہوتا ہے، اگر چہ ان کو ہاتھ یا منہ سے نہ چھوئے (حرام ہیں) کیونکہ ان کا استعمال اسی کام میں ہے جس کے لیے ان کو بنایا گیا ہے۔ (رد المحتار، جلد 6، صفحہ 343، مطبوعہ دارالفکر،بیروت)
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ”سونے چاندی کے برتن میں کھانا پینا اور ان کی پیالیوں سے تیل لگانا یا ان کے عطردان سے عطر لگانا یا ان کی انگیٹھی سے بخور کرنا، منع ہے اور یہ ممانعت مرد و عورت دونوں کے لیے ہے۔۔۔ محصل یہ ہے کہ جو چیز خالص سونے چاندی کی ہے، اُس کا استعمال مطلقاً، ناجائز ہے۔۔۔ چاندی کی انگیٹھی میں بخور کرنا مطلقا ناجائز ہے، اگرچہ دھونی لیتے وقت اس کو ہاتھ بھی نہ لگائے ۔“ (بہارِ شریعت، جلد 3، صفحہ 395، 397، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مزار پر چراغ جلانے کی منت، منت شرعی نہیں، بلکہ عرفی ہے۔ جیساکہ اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت ، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1340ھ/1921ء)مزار پر چراغ جلانے کی منت کے متعلق لکھتے ہیں:
”لا ینعقد نذراً ولا یلزم من ذلک حرمتہ فان النذور لھم بعد تجافیھم عن الدنیا کالنذور لھم وھم فیھا وھی شائعۃ بین المسلمین والعلماء والصلحاء والأولیاء منذ قدیم ولیس نذراً مصطلح الفقہ‘‘
ترجمہ:ایسی نذر منعقد نہیں ہوتی اور اس سے اس کی حرمت لازم نہیں آتی کہ اولیاء اللہ کے لیے نذور ان کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد بھی ویسی ہی ہیں جیسا ان کے دنیا میں ظاہر ِ حیات کے وقت ہوتی ہیں اور یہ مسلمانوں، علماء، صلحاء اور اولیاء کے مابین زمانہ دراز سے رائج ہے، (ہاں) یہ نذرِ فقہی نہیں۔ (جد الممتار، جلد4، صفحہ285، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:1367ھ) لکھتے ہیں:”مسجد میں چراغ جلانے یا طاق بھرنے یا فلاں بزرگ کے مزار پر چادر چڑھانے یا گیارھویں کی نیاز دِلانے یا غوث اعظم رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا توشہ یا شاہ عبدالحق رضی ﷲ تعالیٰ عنہ کا توشہ کرنے یا حضرت جلال بخاری کا کونڈا کرنے یا محرم کی نیاز یا شربت یا سبیل لگانے یا میلاد شریف کرنے کی منّت مانی تویہ شرعی منت نہیں۔“ (بہار شریعت،جلد 2، حصہ 9، صفحہ 317، مکتبۃ المدینہ،کراچی)
منت شرعی کے لازم ہونے کی شرائط کے متعلق فتاوی عالمگیری میں ہے:
”الأصل أن النذر لا يصح إلا بشروط (أحدها) أن يكون الواجب من جنسه شرعا فلذلك لم يصح النذر بعيادة المريض. (والثاني) أن يكون مقصودا لا وسيلة فلم يصح النذر بالوضوء وسجدة التلاوة(والثالث) أن لا يكون واجبا في الحال، وفي ثاني الحال فلم يصح بصلاة الظهر وغيرها من المفروضات هكذا في النهاية (والرابع) أن لا يكون المنذور معصية باعتبار نفسه هكذا في البحر الرائق“
ترجمہ: شرعی اصول یہ ہے کہ منت چند شرائط سے درست ہوتی ہے ایک یہ ہے کہ اس کی جنس سے کوئی شرعی واجب موجود ہو، اسی لئے مریض کی عیادت کرنے کی نذر درست نہیں ہے، دوسری شرط یہ ہے کہ وہ عبادتِ مقصودہ ہو ، نہ کہ وسیلہ، تو وضو اور سجدہ تلاوت کی نذر درست نہیں ہے۔ تیسری شرط یہ کہ اس چیز کی منت نہ ہو جو خود اس پر واجب ہو، خواہ فی الحال یا آئندہ،اسی لئے ظہر کی نماز اور دیگر فرض نمازوں کی نذر صحیح نہیں، ایسے ہی "النہایہ" میں ہے۔ چوتھی شرط یہ کہ جس چیز کی نذر مانی جا رہی ہے، وہ خود بذاتہ گناہ نہ ہو،ایسے ہی "البحر الرائق" میں ہے۔ (الفتاوی الھندیہ، جلد1، صفحہ208، مطبوعہ دار الفكر بيروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0209
تاریخ اجراء: 06 شعبان المعظم 1447ھ/26 جنوری 2026 ء