امتحان میں پاس ہونے کی منت مانی پھر فیل ہوگئے تو منت کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
امتحان میں پاس ہونے کی منت مانی تو فیل ہوجانے پر منت پوری کرنی ہوگی ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک طالبہ نے منت مانی کہ میں میٹرک کے پیپر میں پاس ہو جاؤں تو میں تین روزے رکھوں گی مگر وہ فیل ہوگئی تو کیا اس منت کو پوار کرنا یعنی تین روزے رکھنا اس پر لازم ہیں ؟
جواب
جب منت کو کسی شرط پر معلق کیا جائے تو اس منت کو پورا کرنے یا نہ کرنے کے متعلق اصول یہ ہے کہ جب شرط پائی جائے تو منت کو پورا کرنا واجب ہوتا ہے، اور اگر شرط نہ پائی جائے تو منت کو پورا کرنا واجب نہیں۔ لہذ ا پوچھی گئی صورت میں منت کو پورا کرنا یعنی تین روزے رکھنا واجب نہیں، کیونکہ منت کو پیپر میں پاس ہونے کی شرط پر معلق کیا تھا، جب شرط ہی نہیں پائی گئی یعنی امتحان میں پاس ہی نہیں ہوئی، تو اب اس منت کو پورا کرنا یعنی تین روزے رکھنا بھی لازم نہیں ہو ں گے۔
شرط پائی جانے کی صورت میں منت کو پورا کرنا واجب ہوتا ہے، اور اگر شرط نہ پائی جائے تو اس منت کو پورا کرنا واجب نہیں، جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے:
’’وان كان معلقا بشرط نحو ان يقول: إن شفى اللہ مريضي، او ان قدم فلان الغائب فلله علي ان اصوم شهرا، او اصلي ركعتين، او اتصدق بدرهم، ونحو ذلك فوقته وقت الشرط، فما لم يوجد الشرط لا يجب بالاجماع“
ترجمہ: اگر کوئی شخص نذر کو کسی شرط پر معلق کردے، مثلا یوں کہے: اگر اللہ تعالیٰ ٰ میرے مریض کو شفا دے دے یا میرے غائب کو واپس لوٹا دے تو مجھ پر اللہ کے لیے ایک ماہ کے روزے رکھنا یا دو رکعتیں پڑھنا، یا درہم کو صدقہ کرنا وغیرہ لازم ہے تو اس منت کو پورا کرنے کا وقت، شرط پائے جانے کا وقت ہے، شرط نہ پائی گئی، تو منت کو پورا کرنا بالاجماع واجب نہیں۔ (بدائع الصنائع، جلد 5، صفحہ 93، مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: ”اگر ایسی چیز پر معلق کیا کہ اس کے ہونے کی خواہش ہے، مثلاً: اگر میرا لڑکا تندرست ہو جائے یا پردیس سے آجائے یا میں روزگار سے لگ جاؤں، تو اتنے روزے رکھوں گا یا اتنا خیرات کروں گا، ایسی صورت میں جب شرط پائی گئی یعنی بیمار اچھا ہوگیا یا لڑکا پردیس سے آگیا یا روزگار لگ گیا، تو اتنے روزے رکھنا یا خیرات کرنا ضرور ہے۔ (بھارشریعت، حصہ 9، صفحہ 314، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9249
تاریخ اجراء: 17 رجب المرجب 1446ھ 28 جنوری 2025ء