logo logo
AI Search

درود شریف کی منّت دوسرے سے پوری کروانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

منت والا درود شریف دوسرے سے پڑھوانا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کسی نے روزانہ 313 بار درود شریف پڑھنے کی منت مانی ہو اور اس نے منت مانتے ہوئے یہ الفاظ نہیں ادا کئے تھے کہ میں کسی سے پڑھوا لوں، یہ ہی الفاظ ادا کئے تھے کہ میں پڑھوں گا، تو اب وہ کبھی کبھی کسی اور سے پڑھوا سکتا ہے یا نہیں؟ رہنمائی فرمائیں۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں کسی اور سے درود شریف نہیں پڑھوا سکتا بلکہ خود اسی شخص پر ہی درود شریف پڑھنا لازم ہے۔

اس کی تفصیل یہ ہے کہ منت کی شرائط میں سے ایک شرط یہ ہے کہ وہ منت کسی فرض یا واجب کی جنس سے ہو۔ اب چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ مقدسہ پر زندگی میں ایک بار درودِپاک پڑھناہرمسلمان پر فرض ہے اور جس مجلس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک ہو، اس مجلس میں ایک بار درود پاک پڑھنا واجب ہوتا ہے، لہذا درود پا ک پڑھنےکی منت ماننا شرعی منت ہے، اور درود شریف کی منت چونکہ عبادتِ بدنیہ ہے اور عباداتِ بدنیہ میں نیابت جاری نہیں ہوتی یعنی انہیں ادا کرنے کے لیے بندہ کسی دوسرے کو اپنا نائب نہیں بنا سکتا، بلکہ خود ہی انجام دینا لازم ہوتا ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں جس شخص نے خود روزانہ 313 مرتبہ درود شریف پڑھنے کی منت مانی ہے، تو اس پر خود ہی درود شریف پڑھنا واجب ہے، اس کی طرف سے کوئی دوسرا شخص درود شریف نہیں پڑھ سکتا، اور نہ ہی دوسرے کے پڑھنے سے اس منت ماننے والے کی منت ادا ہوگی۔

درودِ پاک پڑھنے کی منت شرعی منت ہے۔ جیسا کہ درِ مختار، بحر الرائق وغیرہ کتبِ فقہیہ میں مذکور ہے

(و النظم للاول) لو نذر أن يصلي على النبي صلی اللہ علیہ و سلم كل يوم كذا لزمه

یعنی اگر کسی نے یہ منت مانی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر روزانہ اتنی بار درود پاک پڑھے گا تو یہ منت لازم ہوجائے گی۔

مذکورہ بالا عبارت کے تحت رد المحتار میں ہے

لأن من جنسه فرضا وهو الصلاة عليه مرة واحدة في العمر

ترجمہ: کیونکہ اس کی جنس سے فرض موجود ہے اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر عمر میں ایک مرتبہ درودِ پاک پرھنا ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الایمان، ج 05، ص 542، مطبوعہ کوئٹہ)

رد المحتار میں ہے

أن الوجوب يتداخل في المجلس فيكتفي بمرة للحرج كما في السجود إلا أنه يندب تكرار الصلاة في المجلس الواحد

ترجمہ: ایک ہی مجلس میں وجوب متداخل ہو جائےگا، لہٰذا سجدہ تلاوت کی طرح حرج کی بنا پر ایک بار ہی درود شریف پڑھنا (ادائیگی وجوب کے لئے) کافی ہوگا، مگر مستحب یہی ہے کہ ایک مجلس میں بھی بار بار درود شریف پڑھا جائے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 2، ص 278، مطبوعہ کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں ہے: عمر میں ایک بار درود شریف پڑھنا فرض ہے، ہر جلسہ ذکر میں درود شریف پڑھنا واجب، خواہ خود نام اقدس لے یا دوسرے سے سنے اور اگر ایک مجلس میں سو بار ذکر آئے تو ہر بار درود شریف پڑھنا چاہیے۔ (بہار شریعت، ج 01، حصہ 3، ص 533، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

عبادت بدنیہ میں نیابت جاری نہیں ہوتی، جیساکہ بدائع الصنائع میں ہے

و البدنية المحضة لا تجوز فيها النيابة على الاطلاق لقوله عز وجل ﴿وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى﴾ الا ما خص بدليل وقول النبی صلى اللہ عليه و سلم (لا يصوم احد عن احد و لا يصلی احد عن احد) ای فی حق الخروج عن العهدة لا فی حق الثواب

ترجمہ: جو محض بدنی عبادت ہو، اس میں مطلقا نیابت جائز نہیں، اللہ تعالی کے اس فرمان کی وجہ سے

وَ اَنْ لَّیْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى

ترجمہ: اور یہ کہ انسان کے لئے وہی ہو گا جس کی اس نے کوشش کی، مگر جو کسی دلیل سے خاص ہو جائے (اس میں نیابت درست ہو گی) اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی وجہ سے کہ نہ کوئی کسی کی طرف سے روزہ رکھے، نہ کوئی کسی کی طرف سے نماز ادا کرے، یہ فرمان اپنے اوپر لازم شدہ کام سے بر ی الذمہ ہونے کے حق میں ہے، نہ کہ ثواب کے حق میں (یعنی کوئی کسی کی طرف سے نماز پڑھ کر یاروزہ ر کھ کر اس کو بری الذمہ نہیں کر سکتا، بلکہ اس کو خو د رکھنا ہو گا پھر بری الذمہ ہو گا، لیکن نماز، روزہ کا ثواب پہنچا سکتا ہے۔) (بدائع الصنائع، جلد 2، صفحہ 212، دار الكتب العلمية، بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے اپنے بدلے دوسرے کو روزہ رکھوانا محض باطل وبے معنی ہے، بدنی عبادت ایک کے کئے دوسرے پر سے نہیں اُتر سکتی، نہ مرد کے بدلے مرد کے رکھے سے نہ عورت کے۔ (فتاوی رضویہ، ج 10، ص 520، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4701
تاریخ اجراء: 13شعبان المعظم1447ھ / 02 فروری2026ء