logo logo
AI Search

تین کام نہ کرنے کی ایک قسم کا کفارہ کیا ہوگا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تین کام نہ کرنے کی قسم کھائی تو کتنے کفارے لازم ہوں گے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس بارے میں کہ زیدنے اس طرح قسم کھائی کہ خدا کی قسم میں نہ گالی دوں گا، نہ نشہ کروں گا، نہ سگریٹ پیوں گا تو کیا یہ تین قسمیں شمار ہوں گی اور ہر کام کرنے پرقسم توڑنے کا کفارہ لازم ہوگا یا پھر صرف ایک قسم شمار ہوگی؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں یہ تین مستقل قسمیں شمار ہوں گی اور ان تینوں میں سے ہر کام کرنے کی صورت میں زید پر کفارۂ قسم لازم ہوگا، کیونکہ اصولِ شرعی ہے کہ قسم کے الفاظ میں اگر مختلف کاموں کے ساتھ حرفِ نفی کو مکرر ذکر کیا جائے، توان میں سے ہر کام کی نفی انفرادی طور پر مقصود ہو تی ہے، اور صورتِ مسئولہ میں بھی حرف نفی نہ تینوں کاموں کے ساتھ دہرایا گیا ہے، لہذا یہ تینوں جملے مستقلاً تین قسمیں شمار ہوں گی۔

مبسوطِ سرخسی میں ہے:

إن قال: لا أذوق طعاما و لا شرابا، فذاق أحدهما حنث، لأنه كرر حرف النفي، فتبين أن مراده نفي كل واحد منهما على الانفراد كما قال تعالى ﴿لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِیْمًا﴾، و كذلك لو قال: لا آكل كذا و لا كذا، أو لا أكلم فلانا ولا فلانا

ترجمہ: اگر کسی نے کہا: نہ میں کھانا چکھوں گا نہ پانی، پھر اس نے ان میں سے ایک چیز چکھ لی، تو اس کی قسم ٹوٹ جائے گی، کیونکہ اس نے حرف نفی کو مکرر ذکر کیا، تو واضح ہے کہ اس کی مراد ان دونوں میں سے ہر ایک کی مستقل طور پر نفی کرنا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:  اس میں نہ کوئی بیکار با ت سنیں گے اورنہ کوئی گناہ کی بات۔ یونہی اگر کوئی کہے: نہ میں یہ کھاؤں گا، نہ یہ۔ یا کہے: نہ میں فلاں سے بات کروں گا، نہ فلاں سے۔ (المسبوط للسرخسی، جلد 8، صفحۃ 175، دار المعرفة، بیروت)

رد المحتار میں ہے:

إذا كرر حرف النفي يكون نفي كل واحد بانفراده مقصودا، ففي: إن لم تحضري فراشي و لم تراعيني يتحقق شرط الحنث بنفي كل واحد بانفراده، لأنه يصير كأنه حلف على كل واحد بعينه، لأنه إذا كرر النفي تتكرر اليمين، حتى لو قال لا أكلمك اليوم و لا غدا و لا بعد غد، فهي أيمان ثلاثة

ترجمہ: اگر حرف نفی کو مکرر ذکر کیا تو ہر ایک کی نفی انفرادی طور پر مقصود ہو گی، تو اس جملے میں کہ اگر تو میرے بستر پر نہ آئی اور میرا خیال نہ رکھا، قسم توڑنے کی شرط انفرادی طور پر ان دونوں میں سے ہر کام کی نفی کے ساتھ متحقق ہوجائےگی، کیونکہ یہ ایسا ہی ہے جیسے اس نے ہر ایک فعل پر الگ سے قسم کھائی ہو، کہ جب حرف نفی مکرر ذکر کیا جائے تو قسم بھی مکرر ہوتی ہے، حتی کہ اگر کسی نے کہا: میں نہ آج تم سے بات کروں گا، نہ کل اور نہ پرسوں تو یہ تین قسمیں شمار ہو ں گی۔ (رد المحتار، جلد 3، صفحہ 732، دار الفکر، بیروت)

بہار شریعت میں ہے: اگر کہا کہ نہ آج کلام کرونگا اور نہ کل اور نہ پرسوں تو راتوں میں کلام کرسکتا ہے، کہ یہ ایک قسم نہیں ہے، بلکہ تین قسمیں ہیں کہ تین دِنوں کے لیے علیحدہ علیحدہ ہیں۔ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 9 صفحہ 345، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Pin-7695
تاریخ اجراء: 14 جمادی الاخری 1447ھ / 06 دسمبر 2025ء