logo logo
AI Search

بخدا کے لفظ سے قسم کھانے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

لفظ "بخدا" سے قسم کھانے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی شخص نے یوں کہا ہو "بخدا مجھے یہ بات نہیں پتا تھی" جبکہ وہ بات اسے پتا تھی۔ کیا یہ قسم ہوتی ہے؟ شرعی حکم بتا دیں۔

جواب

بخدا کا مطلب ہے "خدا کی قسم"، لہذا کسی جملے سے پہلے بخدا کہنے کا مطلب ہے کہ: "خدا کی قسم ایسا ہے"، تو "بخدا مجھے یہ بات پتا نہیں" کا مطلب ہے: "خدا کی قسم مجھے یہ بات پتا نہیں"، لہذا یہ بھی قسم ہے، اور اس صورت میں چونکہ یہ قسم زمانہ ماضی سے متعلق ہے (یعنی گزری ہوئی بات پر قسم کھائی گئی ہے) اور ہے بھی جھوٹ، اور اسے معلوم بھی تھا کہ یہ جھوٹ ہے، تو یہ یمین غموس ہے، اور ایسی قسم کھانے والا گنہگار ہوتا ہے، اس پر لازم ہوتا ہے کہ اس سے سچے دل سے توبہ کرے، اور آئندہ اس سے بچنے کا پختہ ارادہ کرے، البتہ! اس پر کفارہ نہیں۔

الفاظ قسم بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ بہار شریعت میں لکھتے ہیں: ”اللہ عز وجل کے جتنے نام ہیں، اون میں سے جس نام کے ساتھ (قسم) کھائے گا قسم ہو جائے گی خواہ بول چال میں اس کے ساتھ قسم کھاتے ہوں یا نہیں، مثلاً اللہ عز وجل کی قسم، خدا کی قسم ۔“ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 9، صفحہ 301، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بخدا قسم کے لیے آتا ہے، چنانچہ فیروز اللغات فارسی میں ہے ”بخدا "خدا کی قسم۔“ (فیروز اللغات، فارسی سے اردو، صفحہ 111، مطبوعہ: کراچی)

اور جھوٹی قسم کے متعلق حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ”عن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال: من أكبر الكبائر الشرك بالله، وعقوق الوالدين، واليمين الغموس“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالی کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، اور جُھوٹی قسم کھانا بڑے کبیرہ گناہ ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، جلد 2، صفحہ 346، حدیث 850، مطبوعہ: ریاض)

بدائع الصنائع میں ہے ”أما يمين الغموس فهي الكاذبة قصدا في الماضي والحال على النفي أو على الإثبات وهي الخبر عن الماضي أو الحال فعلا أو تركا متعمدا للكذب في ذلك مقرونا بذكر اسم اللہ تعالى نحو أن يقول: واللہ ما فعلت كذا وهو يعلم أنه فعله، أو يقول: واللہ لقد فعلت كذا وهو يعلم أنه لم يفعله، أو يقول: واللہ ما لهذا علي دين وهو يعلم أن له عليه دينا فهذا تفسير يمين الغموس“ ترجمہ: بہرحال یمین غموس تو یہ جان بوجھ کر ماضی یا حال کے متعلق نفی یا اثبات میں جھوٹی خبر دینا ہے، یعنی ماضی یا حال کے متعلق کام کرنے یا نہ کرنے کے متعلق جان بوجھ کر جھوٹی خبر دینا ہے جو اللہ تعالی کے اسم مبارک سے ملی ہوئی ہو جیسے اللہ کی قسم میں نے فلاں کام نہیں کیا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ اس نے وہ کام کیا ہے، یا یوں کہے کہ اللہ کی قسم میں نے یہ کام کیا ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ اس نے یہ کام نہیں کیا، یا یوں کہے کہ اللہ کی قسم فلاں کا مجھ پر قرض نہیں ہے حالانکہ جانتا ہے کہ اس کا اِس پر قرض ہے تو یہ یمین غموس کی تفسیر ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 3، صفحہ 7، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے ”اگر کسی ایسی چیز کے متعلق قسم کھائی جو ہو چکی ہے یا اب ہے یا نہیں ہوئی ہے یا اب نہیں ہے مگر وہ قسم جھوٹی ہے مثلاً قسم کھائی فلاں شخص آیا اور وہ اب تک نہیں آیا ہے یا قسم کھائی کہ نہیں آیا اور وہ آ گیا ہے یا قسم کھائی کہ فلاں شخص یہ کام کر رہا ہے اور حقیقتہً وہ اس وقت نہیں کر رہا ہے یا قسم کھائی کہ یہ پتھر ہے اور واقع میں وہ پتھر نہیں، غرض یہ کہ اس طرح جھوٹی قسم کی دو صورتیں ہیں جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائی یعنی مثلاً جس کے آنے کی نسبت جھوٹی قسم کھائی تھی یہ خود بھی جانتا ہے کہ نہیں آیا ہے تو ایسی قسم کو غموس کہتے ہیں۔" (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 9، صفحہ 298، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

یمین غموس کے متعلق فتاوی ہندیہ میں ہے ”يأثم فيها صاحبها، وعليه فيها الاستغفار، والتوبة دون الكفارة‘‘ ترجمہ: یمین غموس میں قسم کھانے والا گنہگار ہوتا ہے اور توبہ و استغفار اس پر لازم ہوتا ہے مگر کفارہ واجب نہیں ہوتا۔ (الفتاوی الھندیۃ، جلد 2، صفحہ 58، مطبوعہ: کوئٹہ)

جھوٹی قسم کھانے والے کی سزا سے متعلق امام اہل سنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتاوی رضویہ شریف میں فرماتے ہیں: ”جھوٹی قسم گزشتہ بات پر دانستہ (یعنی جان بوجھ کر) کھانا، اس کا کوئی کفارہ نہیں، اس کی سزا یہ ہے کہ جہنم کے کھولتے دریا میں غوطے دیا جائے گا، اور آئندہ کسی بات پر قسم کھائی اور وہ نہ ہو سکی تو اس کا کفارہ ہے، ایک قسم کھائی ہو تو ایک۔ اور دس تو دس۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 13، صفحہ 611، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

اسی طرح بہار شریعت میں ہے ”غموس میں سخت گنہگار ہوا استغفار و توبہ فرض ہے مگر کفارہ لازم نہیں اور لغو میں گناہ بھی نہیں اور منعقدہ میں اگر قسم توڑے گا کفارہ دینا پڑے گا اور بعض صورتوں میں گنہگار بھی ہوگا۔“ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 9، صفحہ 299، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5330

تاریخ اجراء: 11 ربیع الاول 1448ھ/25 اگست 2026ء