تم سے لین دین حرام ہے کہنے کا شرعی حکم
بسم اللہ الرحمن الرحيم
تم سے کچھ بھی لینا دینا میرےلیے حرام ہے کہنے کے بعد اسی شخص سے لین دین کرنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
شرعی اعتبار سے اپنی یا کسی دوسرے کی چیز، یا کسی کام کو اپنے اوپر حرام کردینا قسم ہوتا ہے۔ حلال چیز کو حرام کرنا تو مطلقاً قسم ہوتا ہے، جبکہ پہلے سے حرام چیز کو، یونہی کسی دوسرے کی ملکیت والی چیز کو اپنے اوپر حرام کرنے میں اگر اس کے حرام ہونے کی خبر دینا مقصد نہ ہو تو قسم ہے،ورنہ حرام ہونے کی خبر دینا مقصد ہو کہ یہ فلاں حرام چیز ہے لہذا مجھ پر حرام ہے، یا یہ دوسرے کی چیز ہے اور اس کا بغیر اجازت استعمال مجھ پر حرام ہے، تو اب یہ کہنا قسم نہیں۔ جن صورتوں میں ایسا کہنا قسم ہوتا ہے، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی چیز کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ چیز، یا یہ کام مجھ پر حرام ہے تو اس کہنے سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ اب میں یہ چیز استعمال نہیں کروں گا، یا یہ کام نہیں کروں گا۔ یہی معاملہ قسم میں بھی ہوتا ہے کہ قسم کھانے والا بھی بعض دفعہ کسی کام کےنہ کرنے کی قسم کھاکر اپنے آپ کو اس کام کے کرنے سے روک لیتا ہے، اسی لیے شریعت نے ایسے الفاظ کو قسم قراردیا ہے۔
اس تمہید کی روشنی میں جوا ب یہ ہے کہ سوال میں مذکور جملہ تیرے سے کچھ بھی لینا دینا میرے لیے حرام ہے تو یہ عام طور پر ہر طرح کےجائز لین دین سے اپنے آپ کو روک دینے کیلئے بولا جاتا ہے۔ اس کا حکم یہ ہے کہ اگرچہ اس طرح کہنے سے آپس کا جائز لین دین حقیقت میں حرام نہیں ہو جائے گا، کیونکہ کسی حلال چیز، حلال کام، یا حلال لین دین کو حرام کرنے کا اختیار بندے کو نہیں، بلکہ اس کا اختیار اللہ عزوجل کی ذات اور اس کی عطا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ہے۔ البتہ یہ الفاظ قسم کے قائم مقام ہوں گےاور اس سے قسم ہوجائے گی۔ پھر اس کے بعد اگر وہ شخص اس آدمی سے کوئی چیز لے گا، یا اسے کوئی چیز دے گا، تو چاہے یہ لینا دینا ضرورت کی وجہ سے ہو یا بلا ضرورت ہو، اُس کی قسم ٹوٹ جائے گی اور قسم کا کفارہ لازم ہوگا۔
تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: (و من حرم) أي على نفسه (شيئا) و لو حراما أو ملك غيره كقوله الخمر أو مال فلان علي حرام فيمين ما لم يرد الإخبار خانية (ثم فعله) بأكل أو نفقة۔ ۔ ۔ (كفر) ليمينه، لما تقرر أن تحريم الحلال يمين ملتقطاً۔ ترجمہ: اور جو شخص کسی چیز کو اپنی ذات پر حرام کرے، خواہ وہ خود حرام ہو یا کسی دوسرے کی ملکیت ہو، مثلاً یہ کہے: شراب مجھ پر حرام ہے یا فلاں شخص کا مال مجھ پر حرام ہے تو یہ قسم شمار ہوگی، بشرطیکہ اس سے محض حرمت کی خبر دینا مقصود نہ ہو، جیسا کہ خانیہ میں ہے۔ پھر اگر وہ اس کام کو کر لے، مثلاً کھانا کھا لے، یا مال کو خرچ کر دے، تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے گا، کیونکہ یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنا قسم ہے۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 5، کتاب الأیمان، صفحہ 528 - 530، دار المعرفۃ، بیروت)
بحرالرائق شرح کنز الدقائق میں ہے: (قوله: و من حرم ملكه لم يحرم) أي لا يصير حراما عليه لذاته؛ لأنه قلب المشروع و تغييره و لا قدرة له على ذلك بل اللہ تعالى هو المتصرف في ذلك بالتبديل و غيره إن استباحه كفر أي عامله معاملة المباح بأن فعل ما حرمه اللہ فإنه يلزمه كفارة اليمين ۔۔۔ولو ذكر المصنف بدل الملك الشيء بأن قال: و من حرم شيئا ثم فعله كفر لكان أولى ليشمل الأعيان و الأفعال و ملكه و ملك غيره و ما كان حلالا وما كان حراما ملتقطاً“ ترجمہ: مصنف کا قول: جس نے اپنی مملوک چیز کو حرام قرار دیا، وہ حرام نہیں ہوتی یعنی وہ چیز اپنی ذات کے اعتبار سے اس پر واقعی حرام نہیں ہو جاتی، کیونکہ یہ مشروع کو الٹ دینا اور اس میں تبدیلی کرنا ہے اور انسان کو اس کی قدرت حاصل نہیں بلکہ اس میں تبدیلی وغیرہ تصرف کا اختیار اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ پھر اگر وہ اس چیز کو استعمال کر لے، یعنی اس کے ساتھ مباح چیز جیسا معاملہ کرے اس طرح کہ وہ کام کر لے جسے اس نے اپنے اوپر حرام کیا تھا، تو اس پر قسم کا کفارہ لازم ہوگا۔ ۔ ۔ ۔ اور اگر مصنف ملک کے بجائے شیء کا لفظ لاتے اور یوں کہتے: جس نے کسی چیز کو حرام کیا پھر اسے کر لیا تو کفارہ دے گا تو یہ زیادہ مناسب تھا، کیونکہ اس سے تمام صورتیں شامل ہو جاتیں: چیزیں بھی، افعال بھی، اپنی ملکیت بھی، دوسروں کی ملکیت بھی، حلال چیزیں بھی اور حرام چیزیں بھی۔ (بحر الرائق، جلد 4، کتاب الأیمان، صفحہ 317، دار الکتاب الاسلامی، بیروت(
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے: أن حرمة الحلال مسبب اليمين فالتنصيص عليه يجعل كالتنصيص على السبب مجازا ۔ ۔ ۔ لا يشترط في اليمين أن يكون مالكا له حتى لو قال ملك فلان أو ماله علي حرام يكون يمينا إلا إذا أراد به الإخبار عن الحرمة ملتقطاً“ ترجمہ: حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنا قسم کانتیجہ ہوتا ہے، تو نتیجے کا ذکر کرنا، مجازاً سبب( یعنی قسم) کے ذکر کی طرح ہو گا۔ (نیز) قسم میں شرط نہیں کہ وہ اس چیز کا مالک ہو۔ یہاں تک کہ اگر کوئی کہے: فلاں شخص کی ملکیت یا فلاں کا مال مجھ پر حرام ہے تو یہ بھی قسم ہوگی۔ مگر جبکہ وہ اس سے حرام ہونے کے بارے میں خبر دینے کا ارادہ کرے(تو یہ قسم نہیں ہوگی)۔ (تبیین الحقائق، کتاب الأیمان،جلد 3، صفحہ 115، مطبوعہ قاھرۃ)
الاختیار لتعلیل المختار میں ہے: قال عليه الصلاة و السلام : «تحريم الحلال يمين، و كفارته كفارة يمين»، و لأنه أخبر عن حرمته عليه فقد منع نفسه عنه، و أمكن جعله حراما لغيره بإثبات موجب اليمين، لأن اليمين أيضا يمنعه عنه فيجعل كذلك تحرزا عن إلغاء كلامه‘‘ ترجمہ: (کسی حلال چیزکو حرام کرنےکے قسم ہونے پر دلیل یہ ہے کہ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حلال چیز کو حرام کرنا قسم ہے اور اس کا کفارہ، قسم کا کفارہ ہے اور اس لئے کہ اس نے جب اس چیز کے اپنے اوپر حرام ہونے کی خبر دی تو اس نے اپنے آپ کو اس کے استعمال سے روک دیا،اور یوں قسم کےتقاضے کو ثابت کرکے اُسے حرام لغیرہ بنانا ممکن ہوگیا، کیونکہ قسم بھی کسی چیز سے روک دیتی ہے تواس کے کلام کو لغو ہونے سے بچانے کیلئے اِسے (یعنی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنے کو) بھی قسم بنادیا جائے گا۔ (الاختیار لتعلیل المختار، جلد 4، صفحہ 53، مطبوعہ قاھرۃ)
بہار شریعت میں ہے: جو شخص کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرے مثلاً کہے کہ فلاں چیز مجھ پر حرام ہے تو اس کہہ دینے سے وہ شے حرام نہیں ہوگی کہ اللہ (عزوجل) نے جس چیز کو حلال کیا اوسے کون حرام کرسکے مگر اوس کے برتنے (استعمال کرنے) سے کفارہ لازم آئے گا یعنی یہ بھی قسم ہے۔ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 9، صفحہ 302، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1240
تاریخ اجراء: 07 محرم الحرام 1448ھ / 23 جون 2026ء