
دار الافتاء اھلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے یوں قسم کھائی کہ "اللہ کی قسم میں ہر روز دو ہزار مرتبہ درود پاک پڑھوں گا"۔ پھر یہ شخص کچھ عرصہ تک روزانہ دو ہزار مرتبہ درود پاک پڑھتا رہا، پھر ہوا یوں کہ اس سے اپنی مصروفیات کے سبب کئی دن درود پاک نہ پڑھا گیا، تو کیا اس شخص کی قسم ٹوٹ گئی یا نہیں؟ اگر قسم ٹوٹ گئی، تو اس پرا یک ہی کفارہ ادا کرنا ہوگا یا ہر دن کے اعتبار سے الگ کفارہ ہوگا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں شخص ِ مذکور کی قسم ٹوٹ گئی اور اس پر صرف ایک ہی کفارہ لازم ہے، ہر دن کے اعتبار سے الگ الگ کفارہ لازم نہیں، کیونکہ مستقبل میں کسی کام کے کرنے کی قسم کھاکر اسے توڑ دینے سے کفارہ لازم آتا ہے، پھر اگر قسم کے الفاظ تکرار والے نہ ہوں، تو وہ ایک مرتبہ ٹوٹنے سے ختم ہوجاتی ہے۔ چونکہ پوچھی گئی صورت میں اس شخص نے آئندہ ہر روز دو ہزار مرتبہ درود پاک پڑھنے کی قسم کھاکر اسے توڑ دیا، اور قسم میں "ہر روز" کے الفاظ تکرار پر نہیں، بلکہ تابید(ہمیشگی) پر دلالت کرتے ہیں اور فقہاء کرام کی صراحت کے مطابق تابید، تکرار کا فائدہ نہیں دیتی، لہذا جس دن اس نے دو ہزار مرتبہ درو د پاک نہیں پڑھا، اسی دن اس کی قسم ٹوٹ گئی اور اس پر ایک ہی کفارہ لازم ہوا، اس کے بعد درو د پاک نہ پڑ ھنے سے مزید کفارہ لازم نہیں ہوگا۔
نوٹ: قسم کا کفارہ دس شرعی فقیروں کو متوسط درجے کے کپڑے دینا، یا صبح شام دو وقت کا پیٹ بھر کر کھانا کھلانا، یا ایک ایک صدقہ فطر کی مقدار رقم انھیں دینا ہےاور اگر ایک ہی فقیرکودیناچاہے تودس دنوں میں دے۔ بیان کردہ تینوں چیزوں میں اختیار ہے کہ ان میں سے جو چاہے کرے، اگر ان میں سے کسی پر قدرت نہ ہو تو کفارے کے لگا تار تین روزے رکھنا لازم ہیں۔
امام محمد بن حسن شیبانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالیٰ عَلَیْہِ (سالِ وفات: 189ھ / 804ء) لکھتے ہیں:
و إذا حلف الرجل بالله أو باسم من أسماء الله ۔۔۔فهذه كلها أيمان وإذا حلف بشيء منها ليفعلن كذا و كذا فحنث وجبت عليه الكفارة۔۔۔ ملتقطا
ترجمہ: اور جب کسی شخص نے اللہ کی قسم کھائی یا اللہ تعالی کے کسی نام کی تو یہ تمام قسمیں ہی ہونگی اور جب ان کے ذریعے کسی شے پر قسم کھائی کہ وہ ایسا ضرور کرے گا،پھر اس نے قسم توڑ دی تو اس پر کفارہ لازم ہوگا۔ (کتاب الاصل، جلد 02، صفحہ 276، دار ابن حزم، بيروت)
علامہ علاؤالدین سمرقندی رَحْمَۃُاللہ تَعَالیٰ عَلَیْہِ (سالِ وفات: 540ھ / 1145ء) لکھتےہیں:
فأما إذا ذكر القسم باللفظ المستقبل بأن قال أحلف بالله لأفعلن كذايكون يمينا عندنا۔۔۔ملتقطا
ترجمہ: بہر حال جب قسم مستقبل کے لفظ سے ذکر کی، بایں معنی کہ اس شخص نے کہا: میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں ضرور اس طرح کروں گا تو یہ ہمارے نزدیک قسم ہوگی۔ (تحفۃ الفقھاء، جلد 02، صفحہ 299، دار الكتب العلمية، بيروت)
اگر قسم تکرار والے الفاظ سے نہ ہو تو ایک مرتبہ ٹوٹنے سے ختم ہوجاتی ہے، جیساکہ تنوير الابصار مع درمختار میں ہے:
(فلو فعل) المحلوف علیہ (مرۃ) حنث و (انحلت الیمین ۔۔۔فلو فعلہ مرۃ اخری لایحنث) الا فی کلما
ترجمہ: پس اگر اس نےمحلوف علیہ فعل ایک دفعہ کر لیا،تو وہ حانث ہوجائےگا اور اس کی قسم ختم ہوجائے گی، پس اگر اس نے دوبارہ وہ کام کیا تو وہ حانث نہیں ہوگا، مگر جب قسم میں کلما(جب جب) ہو، (کہ اس صورت میں وہ دوبارہ حانث ہوگا)۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 3، صفحہ 843، مطبوعہ بیروت)
کسی کام کی تابید(ہمیشگی) پر قسم کھانا، تکرار کا فائدہ نہیں دیتا، جیسا کہ علامہ ابن نجیم مصری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 970ھ / 1562ء) لکھتے ہیں:
لو زاد على إن أبدا فإنها لا تفيد التكرار كما لو قال إن تزوجت فلانة أبدا فهى طلاق فتزوجها طلقت ثم إذا تزوجها ثانيا لا تطلق كذا أجاب ابو نصر الدبوسی كما فى فتح القدير و علله البزازی فى فتاويه بأن التأبيد ينفى التوقيت لا التوحيد فيتأبد عدم التزوج و لا يتكرر
ترجمہ: اگر کسی نے لفظ ا ِن کے ساتھ "ابدا" کے لفظ کایمین میں اضافہ کیا ہے، تو یہ تکرار کا فائدہ نہیں دے گا، جیسا کہ کسی نے کہااگر میں فلاں عورت سےکبھی بھی نکاح کروں، تو وہ طلاق والی ہے، پھر اس نے اس عورت سے نکاح کیا، توعورت کو طلاق ہوجائے گی، پھر اگر دوبارہ اس سے نکاح کرتا ہے، تو طلاق واقع نہیں ہوگی۔ ابو نصرالدبوسی رحمہ اللہ نے یہی جواب ارشاد فرمایا ہے، جیسا کہ فتح القدیر میں ہے اورشیخ علامہ بزازی رحمہ اللہ نے اپنے فتاوی میں اس مسئلہ کی یہ علت بیان فرمائی ہے کہ تابیدتوقیت یعنی قسم کو کسی وقت کے ساتھ مقید کرنے کےمنافی ہے، توحید کے منافی نہیں، لہذانکاح نہ کرنے کا حکم ہمیشہ کے لیے ہوگایعنی کبھی بھی نکاح کرےگاقسم ٹوٹ جائے گی اور اس میں تکرار نہیں ہوگی یعنی ایک دفعہ حانث ہونے کے بعد قسم ختم ہوجائے گی۔ (بحر الرائق، جلد 4، صفحہ 15، مطبوعہ بیروت)
قسم کا کفارہ:
خالق کائنات جل جلالہ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
فَكَفَّارَتُهٗۤ اِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسٰكِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَهْلِیْكُمْ اَوْ كِسْوَتُهُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍؕ- فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰثَةِ اَیَّامٍؕ- ذٰلِكَ كَفَّارَةُ اَیْمَانِكُمْ اِذَا حَلَفْتُمْؕ- وَ احْفَظُوْۤا اَیْمَانَكُمْؕ- كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(۸۹)
ترجمہ کنز العرفان: قسم کا کفارہ دس مسکینوں کو اس طرح کا درمیانے درجے کا کھانا دینا ہے جوتم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا اُن دس کوکپڑے دینا ہے یا ایک مملوک (غلام یا لونڈی) آزاد کرناہے تو جو نہ پائے تو تین دن کے روزے یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب قسم کھاؤ اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ اسی طرح اللہ تم سے اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے تاکہ تم شکر گزار ہوجاؤ۔ (پارہ 7، سورۃ المائدۃ، آیت 89)
بہار شریعت میں ہے: ”قسم کا کفارہ غلام آزاد کرنا یادس مسکینوں کو کھانا کھلانا یا ان کو کپڑے پہنانا ہے ،یہ اختیار ہے کہ ان تین باتوں میں سے جو چاہے کرے۔۔۔ اگر غلام آزاد کرنے یا دس مسکین کو کھانا یا کپڑے دینے پر قادر نہ ہوتو پے در پے تین روزے رکھے۔“
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0010
تاریخ اجراء: 15 ذو الحجہ 1446ھ / 12 جون 2025ء