logo logo
AI Search

پلستر یا پینٹ والی دیوار سے تیمم کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پلستر یا پینٹ والی دیوار سے تیمم کرنے کا حکم ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں سیمنٹ اور ریت کو مکس کر کے دیواروں کو پلستر کیا جاتا ہے، شرعی رہنمائی درکار ہے کہ اس طرح کے پلستر والی دیوار سے تیمم کرنا، جائز ہے، نیز اگر اس طرح کے پلستر پر پینٹ بھی کردیا جائے، تو کیا حکم ہے؟

جواب

سیمنٹ اور ریت سے پلستر دیوار اگر پاک ہو، تو اس پر تیمم کرنا شرعاً جائز ہے کہ سیمنٹ اور ریت دونوں جنس زمین سے ہیں اور قوانین شرعیہ کی روسے جو چیز زمین کی جنس (یعنی جو چیز آگ سے جل کر نہ راکھ بنتی ہے، نہ پگھلتی ہے اور نہ نرم ہوتی ہے،) سے ہو اس سے تیمم جائزہے، نیز اگر اس پلستر پر پینٹ ایسی شے کا ہو، جو جنس زمین ہی سے ہو، جیسے چونا تو اس پر بھی بلا حرج تیمم درست ہوگا، البتہ اگر پینٹ زمین کی جنس کے علاوہ، جیسے آئل پینٹ (Oil Paint) یا پلاسٹک پینٹ (Plastic Paint)، ہو تو اس پر تیمم جائز نہیں ہوگا، البتہ اگر اس پر اتنا غبار موجود ہو کہ ہاتھ کا اثر اس پر ظاہر ہوجائے، تو اس سے بھی تیمم کیا جاسکتا ہے۔

پاک مٹی سے تیمم کے متعلق قرآنِ کریم میں ہے: ﴿فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا﴾ ترجمۂ کنز العرفان: پھر پانی نہ پاؤ توپاک مٹی سے تیمم کرلو۔

اس آیت مبارکہ کے تحت احکام القرآن للجصاص میں ہے: ”اختلف الفقهاء فيما يجوز به التيمم، فقال أبو حنيفة: يجزي التيمم بكل ما كان من الأرض: التراب و الرمل“ ترجمہ: فقہاء کا اس بات میں اختلاف ہے کہ کن چیزوں سے تیمم جائز ہوتا ہے۔ چنانچہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تیمم ہر اس چیز سے جائز ہے جو زمین کی جنس میں سے ہو، جیسے مٹی اور ریت وغیرہ۔ (أحكام القرآن للجصاص، جلد 02، صفحہ 487، دار الكتب العلمية، بيروت)

ایسا ہی مبسوط سرخسی میں ہے: ”ثم حاصل المذهب أن ما كان من جنس الأرض فالتيمم به جائز، و ما لا فلا“ترجمہ: پھر مذہب کا حاصل کلام یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو زمین کی جنس سے ہو، اس سے تیمم کرنا جائز ہے، اور اگر زمین کی جنس سے نہ ہو تو اس سے تیمم کرنا جائز نہیں۔ (المبسوط للسرخسی، جلد 01، صفحہ 109، دار المعرفۃ، بیروت)

جنسِ زمین کا اصول بیان کرتے ہوئے فتاوی ہندیہ میں ہے: ”كل ما يحترق فيصير رمادا كالحطب و الحشيش و نحوهما أو ما ينطبع و يلين كالحديد و الصفر و النحاس ۔۔۔ و نحوها فليس من جنس الأرض و ما كان بخلاف ذلك فهو من جنسها. كذا في البدائع فیجوز التیمم بالتراب و الرمل ۔۔۔ الخ“ ترجمہ: ہر وہ چیز جو جلنے سے راکھ ہو جائے مثلاً لکڑی اور گھاس وغیرہ یا پگھل جائے اور نرم ہو جائے مثلاً لوہا، تانبا اور پیتل وغیرہ تو وہ زمین کی جنس سے نہیں ہے اور جس چیز کی ایسی مذکورہ حالت نہ ہو وہ زمین کی جنس سے ہے، جیسا کہ بدائع میں ہے۔ پس مٹی اورریت وغیرہ سے تیمم جائز ہے۔ (فتاوی ہندیہ، جلد 01، صفحہ 26، دار الفکر، بیروت)

ایسا ہی بہارِ شریعت میں ہے: تیمم اسی چیز سے ہو سکتا ہے جو جنس زمین سے ہو اور جو چیز زمین کی جنس سے نہیں اس سے تیمم جائز نہیں ۔۔۔ (اس کا اصول یہ ہے کہ) جو چیز آگ سے جل کر نہ راکھ ہوتی ہے نہ پگھلتی ہے نہ نَرْم ہوتی ہے وہ زمین کی جنس سے ہے اس سے تیمم جائز ہے۔ ریتا (ریت)، چونا، سرمہ، ہرتال، گندھک، مردہ سنگ، گیرو، پتھر، زبرجد، فیروزہ، عقیق، زمرد وغیرہ جواہر سے تیمم جائز ہے اگرچہ ان پر غبار نہ ہو۔ (بہارِ شریعت، جلد 01، حصہ 2، صفحہ 357، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

جس دیوار پر سیمنٹ کا پلستر ہو اس سے تیمم کے جواز کو بیان کرتے ہوئے امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: (116) یونہی جس در و دیوار یا چھت پر صندلہ یا سیمنٹ پھراہو۔ (فتاوی رضویہ، جلد 3، صفحہ 644، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

تیمم جن چیزوں سے جائز ہے، ان کو بیان کرتے ہوئے امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: (۱۰۷) سیمنٹ ایک پتھر ہے پھُنکا ہوا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 3، صفحہ 644، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

ویکپیڈیا میں سیمنٹ سے متعلق ہے: سیمنٹ (:Cement) ایک خاص قسم کے پتھر کے کیمیائی تعامل سے بنا ہوا سفوف ہے، جو تعمیراتی مواد کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ سیمنٹ باریک پسے ہوئے پاؤڈر کی طرح ہوتا ہیں جسے پانی میں ملا کر سخت ماس پر سیٹ کیا جاتا ہے۔ ہائیڈریشن کے نتیجے میں یہ سخت ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔ سیمنٹ کو ریت یا پسے ہوئے پتھر کے ساتھ ملا کر تعمیراتی مواد تیار کیا جاتا ہے۔ (ویکپیڈیا، سیمنٹ)

جس دیوار پر چونے کا پینٹ کیا ہو اس سے تیمم ہوجائے گا کہ چونا، چونے کے پتھر سے بنتا ہے جو کہ جنس زمین سے ہے، اس کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے: (45) گچ، چونے کا پتھر جسے پھونک کر چونا بناتے ہیں، کماسیاتی اصل قدروی، ھدایۃ، ملتقی، و کثیر۔ (فتاوی رضویہ، جلد 3، صفحہ 636، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

پینٹ جنس زمین سے نہ ہو تو تیمم جائز نہیں، چنانچہ علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 970ھ / 1562ء) لکھتے ہیں: ”و كذا بالخزب الخالص إلا إذا كان مخلوطا بما ليس من جنس الأرض أو كان عليه صبغ ليس من جنس الأرض“ ترجمہ: اسی طرح خالص مٹی کے برتن سے بھی تیمم جائز ہے، مگر اس صورت میں نہیں جب وہ کسی ایسی چیز کے ساتھ ملا ہوا ہو جو زمین کی جنس سے نہ ہو، یا اس پر ایسا رنگ (Paint) چڑھا ہو جو زمین کی جنس میں سے نہ ہو۔ (البحر الرائق، جلد 01، صفحہ 155، دار الكتاب الإسلامي)

امیر اہلسنت حضر ت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری ضیائی دامت برکاتہم العالیہ نماز کے احکام میں یوں لکھتے ہیں: چونا مٹی یا اینٹوں کی دیوار خواہ گھر کی ہو یا مسجد کی اس سے تیمم جائز ہے۔ مگر اس پر آئل پینٹ، پلاسٹک پینٹ اور میٹ فنش یا وال پیپر وغیرہ کوئی ایسی چیز نہیں ہونی چاہئے جو جنس زمین کے علاوہ ہو، دیوار پر ماربل ہو تو کوئی حرج نہیں۔ (نماز کے احکام، صفحہ 131، مکتبۃ المدینۃ)

کسی پاک شے پر غبار ہو تو اس سے تیمم ہوجاتا ہے، اس کے متعلق فتاوی ہندیہ میں ہے: ”و صورة التيمم بالغبار أن يضرب بيديه ثوبا أو لبدا أو وسادة أو ما أشبهها من الأعيان الطاهرة التي عليها إغبار فإذا وقع الغبار على يديه تيمم“ ترجمہ: غبار سے تیمم کی صورت یہ ہے کہ وہ اپنا ہاتھ کسی کپڑے یا بستر یا تکیہ یا اس کے مشابہ پاک اشیاء جن پر غبار ہو اس پر ہاتھ مارے تو غبار اس کے ہاتھوں پر لگ جائے تو وہ تیمم کرلے۔ (فتاوی ہندیہ، جلد 1، صفحہ 27، دار الفكر، بیروت)

بہارشریعت میں ہے: جو چیز آگ سے جل کر راکھ ہو جاتی ہو ۔۔۔ ان پر اتنا غبار ہے کہ ہاتھ مارنے سے اس کا اثر ہاتھ میں ظاہر ہوتا ہے تو اس غبار سے تیمم جائز ہے، ورنہ نہیں۔ (بھارِ شریعت، جلد 01، حصہ 2، صفحہ 258، مکتبۃ المدینۃ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-2784
تاریخ اجراء: 04 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 23 اپریل 2026ء