
صف کے کونوں میں گرِل وغیرہ لگا کر راستہ بنانا کیسا؟
سوال: آج کل بعض مساجد میں یہ دیکھا گیا ہے کہ صفوں کے کناروں پر نمازیوں کے گزرنے کے لیے لوہے کی لمبی گِرِل لگاکر یا ٹیپ وغیرہ سے لمبی لکیر کھینچ کر ایک راستہ بنادیا جاتا ہے ،تاکہ ا ن کو مسبوق نمازیوں کا انتظار نہ کرنا پڑے اور وہ بہ آسانی وہاں سے گزرکر جاسکیں ، یہ عمومی طور پر اگلی ایک دو صفوں کو چھوڑ کر کیا جاتا ہے یعنی اگلی ایک دو صفیں تو مکمل ہوتی ہیں ،اس کے بعد سے کبھی تو دونوں کناروں پر اور بعض جگہ صرف دائیں یا بائیں جانب ایسا کیا جاتا ہے،لہٰذا وہاں دورانِ جماعت صف میں کوئی کھڑا نہیں ہوتا،قریباً ایک دو آدمیوں کی جگہ چھوڑ کر اگلی صف شروع کردی جاتی ہے،اب پوچھنا یہ ہے کہ ایسا کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟اور اگر درست نہیں ہے، تو جہاں یہ چیزیں لگادی گئی ہیں ،وہاں کیا کیا جائے؟برائے کرم دلائل کی روشنی میں اس کا تشفی بخش جواب عطا فرمائیں۔
نبی پاک علیہ الصلاۃ والسلام سے مشورہ کرنے سے پہلے صدقہ دینا
جواب: پر قدرت نہ پاؤ تو اللّٰہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔“ شانِ نزول: سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں...
جو نہ روزہ رکھ سکے اور نہ فدیہ دے سکے اسکے لیے کیا حکم ہے؟
جواب: پر اور نہ ہی آئندہ زمانے میں روزہ رکھنے کی طاقت آنے کی امید ہو،ایسے شخص)کے لیے روزہ رکھنے کی بجائے فدیہ دینے کا حکم ہے ۔لیکن اگر وہ شخص واقعی فدیہ اد...
قربانی کے گوشت سے کھانا بنا کر پیسے کمانا کیسا؟
جواب: پر قربانی کے جانور کی کھال، گوشت، چربی وغیرہ کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے یا پھر اپنے اہل و عیال کے لیے روپیہ، پیسہ، کھانے پینے کی اشیاء وغیرہ سے بدل ...
صاحب ترتیب کی نماز فاسد ہوئی اور چند نمازیں پڑھنے کے بعد علم ہوا، تو کیا حکم ہے؟
جواب: پر لازم ہے کہ پہلے قضاء نماز پڑھے،پھر وقتی نماز پڑھے،اگر قضاء نماز یاد ہوتے ہوئے وقت میں گنجائش ہونے کے باوجود وقتی نماز پڑھے گا ،تو وہ نماز نہیں ہوگی...
امام کے ساتھ دنیاوی رنجش رکھنا اور پھر اسی امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم؟
جواب: پر ملامت کی جائے گی،لہذاایسے شخص کو چاہیے کہ وہ امام صاحب کےساتھ دنیاوی معاملات کی وجہ سے رنجش نہ رکھے اوراس کام سے باز رہے۔ سنن ابی داؤد کی حدیث...
کالا جادو کرنے ،کروانے اور اس کے لیے پیسے وغیرہ دینے کا حکم
سوال: ایک خاتون روحانی علاج کرتی (عاملہ )ہے ، جس کے لیے اس نے واٹس ایپ پر گروپ بنایا ہوا ہے ، جس میں وہ استخارے ، خوابوں کی تعبیریں ، روحانی علاج کرتی ہے اور اس علاج کرنے کی وہ فیس بھی چارج کرتی ہے ۔ ایک عورت کے شوہر کا کوئی مسئلہ تھا ، تو اُس عورت نے اِس روحانی علاج کرنے والی خاتون سے استخارہ کروایا ، تو استخارے میں عملیات کا اشارہ آیا ، جس کی کاٹ کرنے کے لیے اس نے بولا کہ کچھ پیسے لگیں گے اور پھر کچھ دنوں بعد اس عاملہ خاتون نے بتایا کہ کسی نے کالا جادو کیا ہوا ہے ، جس کا توڑ کالے جادو سے ہی ہوگا اور اس کے لیے جس عورت کا مسئلہ ہے ، وہ اپنی بے پردگی والی (برہنہ ) تصاویر دے گی ، اس کے ذریعے وہ کالا جادو کر کے اس کا مسئلہ حل کرے گی ۔اس کا کہنا تھا کہ وہ تصویریں اس کے پاس امانت رہیں گی ، یہاں تک کہ اس نے کہا کہ اگر یقین نہیں ہے ، تو میری تصویر اپنے پاس رکھ لو اور پھراس نے اپنی بے پردگی والی تصویر بھیج دی ۔ اس پسِ منظر میں پوچھنا یہ ہے کہ (1)کالے جادو کے بارے میں کیا حکمِ شرعی ہے ؟ (2)اس کے لیے بے پردگی والی تصاویر دینا کیسا ؟ (3)کیا اس عمل کے لیے پیسے دینا شرعاً جائز ہے ؟
جواب: پر دو دن (پیر ، منگل)کی فجر کی قضا نمازیں ہیں، اور وہ شخص یہ نمازیں ادا کرنا چاہتا ہے، تو یوں نیت کرے کہ پیر کی فجر کی نماز ادا کر رہاہوں ۔ ...
قرض معاف کر دیا، تو اس کی زکوۃ ادا کرنی ہوگی ؟
سوال: زید نے2017میں بکراورخالد کو3سال کے لیےایک ایک لاکھ روپیہ قرض دیا تھا۔تین سال گزر گئے ،مگر وہ دونوں مالی اسباب نہ ہونے کے سبب قرض ادا نہیں کرسکے۔ اس کو اب 6 سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔بکراب بھی قرض ادا کرنے پر قادر نہیں اوربکر شرعی فقیر ہے،جبکہ خالدادائیگی کی قدرت رکھتا ہےاورغنی بھی ہے،لیکن زید نے دونوں کو قرض معاف کردیا ہے،بکر کواس کی ناداری کے سبب اور خالد کو اس سبب کہ خالد اس کا بہنوئی ہے۔زید نے6 سالوں میں ان دو لاکھ روپے کی زکوۃ بھی نہیں نکالی۔ اب معلوم یہ کرنا ہے کہ آیا زید پر اس رقم کی گزشتہ 6 سالوں کی زکوۃ ادا کرنا لازم ہے؟اگر لازم ہے،تو پچھلے سالوں کی زکوۃ نکالنے کا طریقہ کار کیا ہوگا؟واضح رہے کہ زیدکئی سالوں سےصاحبِ نصاب ہے اورہر سال زکوۃ نکالتا رہتا ہے۔
قبضہ سے پہلے چیز آگے بیچنا اور قبضہ کی مختلف صورتیں
سوال: ہم جَلانے کی مختلف اشیاء مثلاً: کوئلہ اور لکڑی وغیرہ فیکٹری میں سپلائی کرتے ہیں۔جس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ ہم کاروباری افراد سے یہ چیزیں خریدتے ہیں اور انہیں کہتے ہیں کہ یہ مال فلاں فیکٹری میں پہنچا دو۔جب گاڑی مال لے کر فیکٹری میں پہنچتی ہے،تو فیکٹری کا چیکر مال کو چیک کرتا ہے اور مال میں جتنی مٹی وغیرہ شامل ہوتی ہے،اس کا وزن کاٹ کر اصل مال کی رسید بناتا ہے،مثلاً: ہزار کلو مال ہے اور اس میں پچاس کلو مٹی وغیرہ ہے،تو وہ ساڑھے نو سو کلو وزن کے حساب سے پرچی بنائے گا،مالک بھی اتنے وزن پر متفق ہوتاہے،پھر گاڑی والا وہ رسید ہمیں بھیج دیتا ہے اور ہم اتنی قیمت مالک کو بھیج دیتے ہیں اور اپنی رقم فیکٹری سے وصول کر لیتے ہیں۔پوچھنا یہ ہے کہ ہمارا خریدوفروخت کا یہ طریقہ شرعاً درست ہے یا نہیں؟