
مسبوق مقیم نے مسافر کی اقتدا کی تو نماز کیسے مکمل کرے ؟
جواب: حق کہتے ہیں، امام کے سلام پھیرنے کے بعد اس کے نماز پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ یہ پہلے وہ رکعتیں بغیر قراءت کے ادا کرے گا ،جس میں وہ لاحق ہے اور اس کے بعد...
جہیز میں ملے ہوئے زیور کی زکوۃ کس پر ہوگی؟
جواب: ماں باپ نے دختر کودیاتھا، وہ سب ملک دختر ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 26، صفحہ 211، رضافاؤنڈیشن، لاھور) زکوۃ فرض ہونے کی ایک شرط نصاب کا مالک ہونا ہے، لہذ...
مسجد سے باہر متصل جگہ میں عورتیں نماز پڑھنے جا سکتی ہیں؟
جواب: حق الكل مطلقا، لشيوع الفساد، وعموم المصيبة “ ترجمہ : اسی وجہ سے امام ِ اعظم ابو حنیفہ عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ نے بوڑھی عورتوں کو بھی ظہرین یعنی دن کی ...
مؤذن کے علاوہ کسی اور شخص کو اقامت پڑھنے کا شرعی حکم
جواب: حق بھی اسی کا ہے۔اگر مؤذن موجود ہو تو اس کی اجازت کے بغیر دوسرے کا اقامت کہنا مکروہ ہے جبکہ مؤذن کو ناگوار گزرتا ہواوروہ اپنے خوشی سے کسی اور کو اقامت...
ایک مرتبہ دو پارٹیاں ملوانے پر بار بار کمیشن وصول کرنا
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ میں کہ بروکر ایک پارٹی کو دوسری پارٹی سے ملوا دیتا ہے اور ان کے درمیان سودا مکمل ہو جاتا ہے اور بروکر اپنی بروکری لے لیتا ہے،لیکن بعد میں بھی جب کبھی یہ دونو ں پارٹیاں آپس میں کوئی سودا کرتی ہیں تو کیا بروکر کو دوبارہ کمیشن دینا ہوگا ؟کیا اس دوسرے سودے پر کمیشن لینا بروکر کا حق ہے؟
مذہب کیوں ضروری ہے ؟ مذہب کی اہمیت کیا ہے ؟
جواب: حق دار ہے کہ انسان کے لیے اس کی تخلیق کا مقصد طے کرے اور بیان فرمائےاور وہ مقصد ”عبادت ومعرفتِ الٰہی“ہے۔ اِس مقصد کو اور اس کے حصول کے طریقوں کو جان...
جن نمازوں میں قیام ضروری ہے کیا ان کی قضا میں بھی قیام ضروری ہے ؟
جواب: حقق الخلاف وقال: الخلاف في أنه لو قضى كان نفلاً مبتدأً أو سنةً، كذا في العناية يعني نفلاً عندهما، سنةً عنده‘‘ ترجمہ: جب فجر کی سنتیں تنہا فوت ہوجائیں ...
جواب: حق ختم نہ ہوگیا ہو۔ تبیینُ الحقائق میں ہے: جب بائع نے مشتری (خریدنے والے) سے کہا: میرے سامان کی قیمت اتنی ہے یا کہا:میرا سامان اتنے کے برابر ہ...
جواب: حقدار ہوگا جس کی اس نے نمائندگی کی ہے۔ اس کو یوں سمجھئے کہ ایک بروکر نے دو نوں پارٹیوں کو ملوانے کے لئے اپنی ذمہ داری پوری طرح ادا کی اور دونوں ...
سودے میں لگائی گئی ایک غلط شرط
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اِس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل گاڑیوں کی خرید و فروخت میں یہ طریقہ بھی رائِج ہوگیا ہے کہ مثلاً ایک لاکھ روپے کا رِکشا خرید کر آگے ڈیڑھ لاکھ روپے میں قسطوں پر فروخت کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ بقیہ رقم گاڑی پر ہے گاڑی چلتی رہے گی اور قسطیں بھی ادا ہوتی رہیں گی لیکن قسط مکمل ہونے سے پہلے اگر گاڑی کسی حادثہ کا شکار ہوگئی، جل گئی یا چوری ہوگئی اس صورت میں بقیہ قسطیں ساقط ہوجائیں گی یعنی بائع(بیچنے والے) کو خریدار سے بقیہ رقم کے مطالبے کا حق نہ ہوگا کیا یہ صورت جائز ہے؟ اس بارے میں راہنمائی فرما دیں؟