logo logo
AI Search

کیا عاقل نام رکھنا درست ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عاقل نام رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا عاقل نام رکھنا درست ہے؟

جواب

عاقل نام رکھنا نہ صرف درست بلکہ بہتر ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے اور ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔

اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ہے

عاقل بن البکیر ۔۔۔ شھد بدراً ۔۔۔ کان اسمہ غافلاً بالفاء، فلما اسلم سماہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عاقلاً بالقاف، و کان اول من اسلم وبایع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فی دار الارقم

ترجمہ: عاقل بن البکیر رضی اللہ تعالی عنہ غزوہ بدر میں حاضر تھے۔ آپ کا نام فاء کے ساتھ غافل تھا، جب آپ رضی اللہ تعالی عنہ اسلام لائے تو نبی اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے آپ کا نام قاف کے ساتھ عاقل رکھ دیا، آپ پہلے پہل اسلام قبول کرنے والے تھے اور آپ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی دارِ ارقم میں بیعت کی۔ (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد 2، صفحہ91، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے

تسموا بخياركم

ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4722
تاریخ اجراء: 21 شعبان المعظم1447ھ / 10فروری2026ء