logo logo
AI Search

عینہ نام کا مطلب نیز یہ نام رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عینہ نام رکھنا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا عینہ نام رکھنا جائز ہے؟

جواب

عین کی زیر کے ساتھ لفظ عِینَہ کا ایک معنی آنکھ کی پتلی کا پھیلا ہوا ہونا یعنی کسی کا خوبصورت اور موٹی آنکھوں والا ہونا ہے۔ معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا جائز ہے، بلکہ علمائے کرام نے ذکر کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک بکری کا نام عینہ تھا۔

القاموس المحیط میں ہے: ”و عينة بالكسر: عظم سواد عينه في سعة“ ترجمہ: اور (عین کی) کسرہ کے ساتھ عِينہ کا معنی اس کی آنکھ کی پتلی کا پھیلاؤ میں بڑا ہونا ہے۔ (القاموس المحيط، باب النون، صفحہ 1218، مؤسسة الرسالة، بيروت)

احیاء العلوم اور الطبقات الشافعیۃ الکبری میں ہے: ”و اسم شاته التي يشرب لبنها عينة“ ترجمہ: اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بکری جس کا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دودھ نوش فرماتے، اس کا نام عینہ تھا۔ (إحياء علوم الدين،‌‌ كتاب آداب المعيشة و أخلاق النبوة، جلد 2، صفحہ 377، دار المعرفة، بيروت) (طبقات الشافعية الكبرى للسبكي، جلد 6، صفحہ 329، هجر للطباعة و النشر و التوزيع)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1172
تاریخ اجراء: 07 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 25 اپریل 2026ء