logo logo
AI Search

عریقہ نام رکھنا اور اسکا مطلب؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچی کا نام عریقہ رکھنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ عریقہ نام رکھنا کیسا؟

جواب

عریقہ، عریق کی مونث ہے، اس اعتبار سے اس کا معنی بنے گا: "شریف النسل عورت" اس معنی کے لحاظ سے یہ نام رکھنا جائز ہے۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام ازواجِ مطہرات وصحابیات اور دیگر صالحات رضی اللہ تعالی عنہن میں سے کسی کے نام پر رکھیں کہ حدیثِ پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اس سے ان نیک ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہو گی۔

القاموس الوحید میں ہے ”العریق: شریف النسل آدمی“ (القاموس الوحید، صفحہ 1072، مطبوعہ: کراچی)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4742
تاریخ اجراء: 23 شعبان المعظم 1447ھ/12 فروری 2026ء