بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فارعہ نام رکھنا درست ہے؟
جی ہاں! فارعہ نام رکھنا نہ صرف درست بلکہ بہتر ہے کہ متعدد صحابیات رضی اللہ تعالی عنہن کا نام فارعہ تھا، اور ہمیں اچھوں کے ناموں پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کی نسبت سے نام رکھنے میں ان ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہو گی۔
اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ہےالفارعۃ بنت اسعد۔۔۔ الفارعۃ بنت زرارۃ۔۔۔ الفارعۃ بنت ابی سفیان۔۔۔ الفارعۃ بنت ابی الصلت (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد 3، صفحہ 453، 454، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے
تسموا بخياركم
ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4619
تاریخ اجراء: 17رجب المرجب1447ھ / 07 جنوری2026ء