logo logo
AI Search

حَبَّان نام رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حبان نام رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا حبان نام رکھنا درست ہے؟

جواب

جی ہاں! حَبَّان نام رکھنا درست بلکہ بہتر ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے، اور ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔

اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ہے

حبان بفتح الحاء و الباء الموحدۃالمشددۃ۔۔۔ لہ صحبۃ

ترجمہ: حبان حاء اور باء مشددہ کے فتح کے ساتھ آتا ہے۔ اور حضرت حبان رضی اللہ تعالی عنہ رتبہ صحابیت سے مشرف ہیں۔ (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد1، صفحہ 431، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے

تسموا بخياركم

ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4732
تاریخ اجراء: 29 رجب المرجب1447ھ/19 جنوری2026ء