logo logo
AI Search

حَنش نام کا مطلب نیز یہ نام رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حنش نام رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا بچے کا نام حَنَش رکھنا درست ہے؟

جواب

بچے کا نام حَنَش رکھنا نہ صرف درست بلکہ بہتر ہے کہ یہ ایک صحابی رسول (صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم و رضی اللہ تعالی عنہ) کا نام ہے، اور ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اس سے ان کی برکت بھی بچے کے شامل حال ہو گی۔

اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ہے

حنش بن عقیل۔۔۔ لقی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فدعاہ الی الاسلام فاسلم و سقاہ فضلۃ سویق

ترجمہ: حنش بن عقیل رضی اللہ تعالی عنہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ علیہ الصلوۃ و السلام نے انہیں اسلام کی دعوت دی اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا، اور آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے انہیں اپنا بچا ہوا مبارک ستو بھی پلایا۔ (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد 1، صفحہ 494، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

شرح سنن ابی داود میں ہے

(عن حنش) بفتح الحاء المھملۃ و النون

ترجمہ: حنش کا اعراب حاء مہملہ اور نون کے فتح کے ساتھ ہے۔ (شرح سنن ابی داود لابن ارسلان، جلد 14، صفحہ 623، مطبوعہ: مصر)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے

تسموا بخياركم

ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت ، جلد3،حصہ 15، صفحہ356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4640
تاریخ اجراء: 23 رجب المرجب1447ھ / 13 جنوری2026ء