حزین نام رکھنا اور اس کا مطلب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حزین نام رکھنا اور اس کا معنی
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
حزین نام کا کیا معنی ہے؟ یہ نام رکھنا کیسا؟
جواب
حزین کا معنی ہے: "رنجیدہ، غمگین۔ "اس کے معنی مناسب نہیں ہیں، لہذا یہ نام نہ رکھا جائے۔ بہتر یہ ہے کہ بچے کا نام انبیائے کرام علیہم الصلوۃ و السلام، صحابہ کرام و اولیائے کرام علیہم الرضوان میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے کہ حدیثِ پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اس سے ان نیک ہستیوں کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔
حزین، حَزِنَ سے بنا ہے جس کا معنی ہے رنجیدہ، اور غمگین ہونا۔ چنانچہ القاموس الوحید میں ہے ”حزِن الرجل حَزَنا و حُزْنا“ ترجمہ: رنجیدہ اور غمگین ہونا۔ (القاموس الوحید، صفحہ 335، مطبوعہ: کراچی)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4693
تاریخ اجراء: 11 شعبان المعظم 1447ھ/31 جنوری 2026ء