logo logo
AI Search

حباب نام رکھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچے کا نام حباب رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا حباب نام رکھنا درست ہے؟

جواب

حُبَاب نام رکھنا نہ صرف درست بلکہ بہتر ہے، کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے، اور ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔

اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ہے

”حباب بن جزء بن عمرو بن عامر الانصاری، لہ صحبۃ“

ترجمہ: حباب بن جزء بن عمرو بن عامر انصاری رضی اللہ تعالی عنہ رتبہ صحابیت سے مشرف ہیں۔ (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد 1، صفحہ 430، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

جامع الاصول میں ہے

”الحباب بضم الحاء المھملۃو تخفیف الباء الموحدۃ“

ترجمہ: حباب حاء کے پیش اور باء کی تخفیف کے ساتھ ہے۔ (جامع الاصول، جلد 12، صفحہ 288، مطبوعہ: دار البیان)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد3، حصہ 15 ، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4714
تاریخ اجراء: 17 شعبان المعظم1447ھ/06 فروری 2026ء