حُمران نام رکھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
حمران (Humran) نام رکھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا حمران نام رکھنا درست ہے؟
جواب
جی ہاں! حُمران (Humran) نام رکھنا نہ صرف درست بلکہ بہتر ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے، اور ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔
اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ہے
حمران بن حارثۃ۔۔۔ شھد بیعۃ الرضوان
ترجمہ: حمران بن حارثہ رضی اللہ تعالی عنہ بیعت رضوان میں حاضر تھے۔ (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد 1، صفحہ486، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
حاشیۃ السندی علی سنن النسائی میں ہے
حمران بضم فسکون
ترجمہ: حمران، حاء کے پیش اور میم کے سکون کے ساتھ ہے۔ (حاشیۃ السندی علی سنن النسائی، جلد 1، صفحہ 64، مطبوعہ: حلب)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے
تسموا بخياركم
ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4728
تاریخ اجراء: 22 شعبان المعظم 1447ھ / 11 فروری2026ء